hadith book logo

Kanz al-Ummal

59. امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان

كنز العمال

46144
Kanz al-Ummal
46132- "من استودع وديعة فلا ضمان عليه. " هـ، هق - عن ابن عمر".
46132 جس شخص کے پاس (کوئی چیز) ودیعت رکھی گئی (ضائع ہوجانے پر) اس پر ضمان نہیں ہوگا۔ رواہ ابن ماجہ والبیہقی عن ابن عمر ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے النوافح 2028
46145
Kanz al-Ummal
46133- "لا ضمان على مؤتمن. " هق - عن ابن عمر".
46133 جس شخص کے پاس امانت رکھی جائے اس پر ضمان نہیں ہوگا۔۔ رواہ البیہقی فی السنن عن ابن عمر
46146
Kanz al-Ummal
46134- "ما من عبد يعلم منه الحرص على أداء الأمانة إلا أدى الله تعالى عنه، فإن مات ولم يؤدها وقد علم الله تعالى منه الحرص على أدائها قيض الله تعالى له من يؤديها عنه بعد موته. " ابن النجار - عن أبي أمامة".
46134 جو شخص امانت کی ادائیگی کے لیے بےتاب رہتا ہو اللہ تعالیٰ اسے ادائیگی کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔ اگر وہ شخص مرجائے حالانکہ وہ امانت واپس ادا کرنے کے لیے بےتاب تھا اللہ تعالیٰ اس کے مرنے کے بعد کسی ایسے شخص کو کھڑا کردیتے ہیں جو امانت ادا کردیتا ہے۔ رواہ ابن النجار عن ابی امامۃ
46147
Kanz al-Ummal
46135- "من أودع وديعة فلا ضمان عليه. " هـ - عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
46135 جس شخص کے پاس کوئی چیز بطور ودیعت رکھی گئی تو اس پر کوئی ضمان نہیں ہوگا۔۔ رواہ ابن ماجہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الآثر 333 ۔
46148
Kanz al-Ummal
46136- "ليس على المستودع غير المغل ضمان، ولا على المستعير غير المغل ضمان. " قط، ق - وضعفاه - عن ابن عمر - وصححا وقفه على شريح".
46136 جس شخص کے پاس ودیعت رکھی جائے اگر وہ دھوکا دہی سے کام نہ لے اس پر ضمان نہیں ہوگا اور جس شخص نے عاریۃً کوئی چیز لی ہو اور دھوکے سے کام نہ لے اس پر بھی ضمان نہیں ہوگا۔ رواہ الدارقطنی والبیہقی وضعفاء عن ابن عمرو وصححا وقفہ علی شریح
46149
Kanz al-Ummal
46137- "مسند الصديق" عن جابر أن أبا بكر أتى في وديعة ضاعت فلم يضمنها. "مسدد".
46137” مسند صدیق “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ایک ودیعت کا قضیہ لایا گیا جو ضائع ہوچکی تھی آپ (رض) نے اس پر ضمان کا فیصلہ نہیں دیا۔ رواہ مسدد
46150
Kanz al-Ummal
46138- "عن جابر أن أبا بكر قضى في وديعة كانت في جراب فضاعت من خرق الجراب أن لا ضمان فيها. " ص، ق".
46138 حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ودیعت کا ایک قضیہ لایا گیا چنانچہ ودیعت والی چیز تھیلے میں پڑی تھی تھیلا بوسیدہ ہونے پر وہ چیز ضائع ہوگئی آپ (رض) نے عدم ضمان کا فیصلہ کیا۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
46151
Kanz al-Ummal
46139- عن عبد الله بن عكيم أن عمر بن الخطاب كان لا يضمن بالوديعة. "مسدد".
46139 عبداللہ بن عکیم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ودیعت ضائع ہونے پر ضمان کا فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ رواہ مسدد
46152
Kanz al-Ummal
46140- عن أنس أن عمر بن الخطاب ضمنه وديعة سرقت من بيت ماله. "المحاملي، ق".
46140 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ بیت المال سے ایک چیز جو بطور ودیعت رکھی ہوئی تھی چوری ہوگئی حضرت عمر (رض) نے حضرت انس (رض) پر اس کا ضمان عائد کیا۔ رواہ المحاملی والبیہقی
46153
Kanz al-Ummal
46141- عن أنس قال: استودعت مالا فوضعته مع مالي، فهلك من بين مالي، فرفعت إلى عمر بن الخطاب فقال: إنك لأمين في نفسي، ولكن هلك من بين مالك فضمنته. "ق".
46141 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ میرے پاس کچھ مال بطور ودیعت رکھا گیا جسے میں نے اپنے مال کے ساتھ رکھ دیا، وہ مال میرے مال کے بیچ کہیں ضائع ہوگیا میں یہ قضیہ حضرت عمر (رض) کے پاس لے گیا آپ (رض) نے فرمایا : تو میری ذات کے اعتبار سے امانتدار ہے لیکن مال تمہارے مال کے درمیان سے ضائع ہوا ہے لہٰذا تم اس کو ضامن ہو۔ رواہ البیہقی