Kanz al-Ummal
58. وصیت کا بیان۔
كنز العمال
46060
Kanz al-Ummal46048- قال الله تعالى: "يا ابن آدم! اثنتان لم تكن لك واحدة منهما: جعلت لك نصيبا من مالك حين أخذت بكظمك 1 لأظهرك به وأزكيك، وصلاة عبادي عليك بعد انقضاء أجلك. " هـ 2 - عن ابن عمر".
46048 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ابن آدم ! دو چیزیں ایسی ہیں ان میں سے ایک بھی تیرے لیے نہیں ہوسکتی میں نے تمہارے لیے تمہارے مال میں حصہ رکھا ہے جب میں تمہاری روح قبض کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے تجھے ظاہر کروں اور تیرا تزکیہ کروں اور تیری روح نکل جانے کے بعد میرے بندوں کی تجھ پر نماز ہو۔ رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 4056
46061
Kanz al-Ummal46049- "ما حق امرئ مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه، يبت ثلاث ليال إلا وصيته عنده مكتوبة. " م، ن - عن ابن عمر".
46049 جس مسلمان مرد کے مال کے معاملہ میں کوئی بات قابل وصیت ہو تو اسے چاہیے کہ تین راتیں بھی نہ گزرنے پائیں الایہ اس کے پاس وصیت لکھی ہونی چاہیے۔۔ رواہ مسلم والنسائی عن ابن عمر
46062
Kanz al-Ummal46050- من مات على وصية مات على سبيل وسنة، ومات على تقى وشهادة، ومات مغفورا له. "هـ - 1 عن جابر".
46050 جو شخص وصیت کرکے مرا، وہ سیدھی راہ اور سنت پر مرا اور تقویٰ اور شہادت پر مرا اور اپنے لیے بخشش کا سامان کرکے مرا۔ رواہ ابن ماجہ عن جابر
46063
Kanz al-Ummal46051- "المحروم من حرم الوصية. " هـ 1 عن أنس".
46051 حقیقت میں وہ شخص محروم ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہا۔ رواہ ابن ماجہ عن انس ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 5916
46064
Kanz al-Ummal46052- "ما حق امرئ مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه يبيت ليلتين إلا وصيته مكتوبة عنده. " مالك، حم، ق، عد - عن ابن عمر".
46052 جس مسلمان مرد کے مال کے معاملہ میں کوئی بات قابل وصیت ہو تو اسے چاہیے کہ مال پر دو راتیں بھی نہ گزرنے پائیں الایہ کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہونی چاہیے۔۔ رواہ مالک واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابن عدی عن ابن عمر
46065
Kanz al-Ummal46053- "إن الرجل المسلم ليصنع في ثلثه عند موته خيرا فيوفي الله بذلك زكاته. " طب - عن ابن مسعود".
46053 مسلمان مرد مرتے وقت اپنے مال کے متعلق کوئی بہتر فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کے ذریعے اس کی زکوۃ ادا کردیتے ہیں۔ رواہ الطبرانی عن ابن مسعود ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرہ الموضوعات 210 و ضعیف الجامع 1448
46066
Kanz al-Ummal46054- "من حضره الموت فوضع وصيته على كتاب الله كان ذلك كفارة لما ضيع من زكاته في حياته. " طب، والخطيب - عن معاوية بن قرة عن أبيه".
46054 جس شخص نے مرتے وقت کتاب اللہ پر اپنی وصیت لکھ دی اس نے زندگی میں جس قدر زکوۃ ضائع کی ہوگی اس کا کفارہ ہوجائے گا۔ ، روا ہ الطبرانی والخطیب عن معاویۃ بن فروۃ عن ابیہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 210 و ترتیب الموضوعات 1073
46067
Kanz al-Ummal46055- "إن الله عز وجل أعطاكم ثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في أعمالكم. " طب - عن خالد بن عبيد السلمي".
46055 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے مال میں سے ایک تہائی حصہ مرتے وقت اعمال میں اضافہ کرنے کے لیے عطا کیا ہے۔ رواہ الطبرانی عن خالد بن عبید السلمی ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الاثر 327
46068
Kanz al-Ummal46056- "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث، والولد للفراش وللعاهر الحجر. " ت - عن عمرو بن خارجة".
46056 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کیا ہے لہٰذا وارث کے لیے وصیت کا کوئی جواز نہیں بچے کا نسب صاحب فراش سے ثابت ہوگا جب کہ زانی کے لیے پتھر ہیں۔۔ رواہ الترمذی عن عمرو بن خارجہ
46069
Kanz al-Ummal46057- "إن الله تعالى قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث، والولد للفراش وللعاهر الحجر، وحسابهم على الله، ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله التابعة إلى يوم القيامة، لا تنفق امرأة من بيت زوجها إلا بإذن زوجها، قيل ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا. " حم، ن - عن أبي أمامة، وروى د، هـ بعضه".
46057 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کیا ہے لہٰذا وارث کے لیے وصیت کا کوئی جواز نہیں بچے کا نسب صاحب فراش (باپ ) سے ثابت ہوگا جب کہ زانی کے لیے پتھر ہیں ان کا حساب، کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی یا جس نے اپنے آقاؤں کے علاوہ حق ولایت کی غیر آقاؤں کی طرف نسبت کی تاقیامت اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی رہے۔ کوئی عورت بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا۔ کیا عورت کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں لے سکتی۔ فرمایا : کھانے پینے کی اشیاء ہمارا افضل مال ہیں۔۔ رواہ احمد بن حنبل والنسائی عن ابی امامۃ وروی ابوداؤد و ابن ماجہ بعضہ