Kanz al-Ummal
54. لعان کا بیان
كنز العمال
40586
Kanz al-Ummal40573- لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شأن."د، ت، هـ عن ابن عباس؛ ن عن أنس"
٤٠٥٧٣۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو میرا اور اس عورت کا حال دیکھنے والاہوتا۔ ابوداؤد ترمذی۔ ماجۃ عن ابن عباس، نسائی عن عمر
40587
Kanz al-Ummal40574- البينة، وإلا فحد في ظهرك."د، ت، ك، هـ عن ابن عباس".
٤٠٥٧٤۔۔۔ گواہ پیش کرودرنہ تمہاری پیٹھ پر حد (قذف، تہمت کے) کوڑے لگیں گے۔ ابوداؤد، ترمذی، حاکم، ابن ماجۃ عن ابن عباس
40588
Kanz al-Ummal40575- أربع من النساء لا ملاعنة بينهن: النصرانية تحت المسلم، واليهودية تحت المسلم، والحرة تحت المملوك، والمملوكة تحت الحر."هـ ، ق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
٤٠٥٧٥۔۔۔ چار عورتیں ایسی ہیں کہ ان کے اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں نصرانی عیسائی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو یہودی عورت جو کسی مسلمان کی بیوی ہوآزاد عورت جو کسی غلام کی بیوی ہوباندی جو کسی آزاد کے نکاح میں ہو۔ ابن ماجہ بیہقی عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ
40589
Kanz al-Ummal40576- أربعة ليس بينهن لعان: ليس بين الحر والأمة لعان، ولا بين الحرة والعبد لعان، وليس بين المسلم واليهودية لعان، وليس بين المسلم والنصرانية لعان."قط، ق وضعفاه عن ابن عمرو".
٤٠٥٧٦۔۔۔ چار عورتوں کے درمیان لعان نہیں، آزاد مرد اور باندی کے درمیان لعان نہیں، نہ آزاد عورت اور غلام کے درمیان لعان ہے اور نہ مسلمان مرد اور یہودی عورت کے درمیان لعان ہے اور نہ مسلمان مرد اور نصرانی عورت کے مابین لعان ہے۔ دارقطنی، بیہقی وضعفاہ عن ابن عمرو
40590
Kanz al-Ummal40577- أربعة ليس بينهم ملاعنة: اليهودية تحت المسلم، والنصرانية تحت المسلم، والعبد عند الحرة، والحر عند الأمة."عد، ق عن ابن عباس".
٤٠٥٧٧۔۔۔ چار اشخاص کے درمیان لعان نہیں یہودی عورت جو مسلمان کے ماتحت ہو نصرانی عورت جو مسلمان کی بیوہ ہو غلام جو آزاد عورت کے پاس ہو، آزاد مرد جو کسی لونڈی کے پاس ہو۔ ابن عدی، بیہقی عن ابن عباس
40591
Kanz al-Ummal40578- إن الله يعلم أن أحدكما كاذب، فهل منكما تائب قاله للمتلاعبين."خ، م عن ابن عمر؛ خ عن ابن عباس "
٤٠٥٧٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے کیا تم میں سے کوئی رجوع کرنے والا ہے آپ نے آپس میں لعان کرنے والے خاوند بیوی سے فرمایا۔ بخاری مسلم عن ابن عمربخاری عن ابن عباس
40592
Kanz al-Ummal40579- حسابكما على الله عز وجل، أحدكما كاذب، لا سبيل لك عليها، قال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم مالي! قال: لا مال لك، إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كذبت عليها فهو أبعد لك منها قاله للمتلاعنين."حم، خ، م د، ن، هـ عن ابن عمر".
٤٠٥٧٨۔۔۔ تم دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے تجھے اس پر کوئی اختیار نہیں، اس نے کہا : یارسول اللہ ! مہر میں دیا گیا میرا مال ! آپ نے فرمایا : تمہیں مال بھی نہیں ملے گا اگر تم نے اس کے بارے میں سچ کہا تو وہ اس کا عوض ہوگیا جو تم نے اس کی شرم گاہ کو حلال جانا اور اگر تم نے اس کے بارے میں جھوٹ بولا تو وہ تمہیں اس سے دور کرنے والا ہے آپ نے دولعان کرنے والوں سے فرمایا۔ مسنداحمد، بخاری مسلم ابوداؤد نسائی، ابن ماجہ عن ابن عمر
40593
Kanz al-Ummal40580- ذاكم التفريق بين كل متلاعنين."م عن سهل ابن سعد" "
٤٠٥٨٠۔۔۔ یہ تم دونوں لعان کرنے والوں میں جدائی ہے۔ مسلم عن سھل ابن سعد
40594
Kanz al-Ummal40581- لولا الإيمان لكان لي ولها أمر."ط عن ابن عباس" "
٤٠٥٨١۔۔۔ اگر ایمان نہ ہوتا تو میرا اور اس عورت کا حال دیدنی تھا۔ ابوداؤد طیالسی، عن ابن عباس
40595
Kanz al-Ummal40582- عن عمر قال: المتلاعنان يفرق بينهما فلا يجتمعان أبدا."عب، ش، ق".
٤٠٥٨٢۔۔۔ لعان کرنے والوں میں جدائی ہوگی کبھی جمع نہیں ہوسکیں گے۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ، بیہقی