hadith book logo

Kanz al-Ummal

51. قصاص کا بیان

كنز العمال

39818
Kanz al-Ummal
39805- "العمد قود1 والخطأ دية". "طب - عن ابن حزم"
٣٩٨٠٥۔۔۔ جان بوجھ کر قتل کرنے کی سزا (قاتل کو) قتل کرنا ہے اور غلطی سے قتل کرنے سے دیت واجب ہوتی ہے۔ طبرانی عن ابن جزم
39819
Kanz al-Ummal
39806- "من قتل عمدا دفع إلى أولياء المقتول، فإن شاؤا قتلوا، وإن شاؤا أخذوا الدية، وهي ثلاثون حقة3 وثلاثون جذعة " وأربعون خلفة2وما صولحوا عليه فهو لهم". "حم، ت، هـ - عن ابن عمرو
٣٩٨٠٦۔۔۔ جس شخص نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کیا تو قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالہ کیا جائے گا، چاہیں تو بدلہ میں اسے قتل کریں اور اگر چاہیں تودیت وصول کرلیں، جس کی مقدارتیس چار سالے اونٹ اور تیس پانچ سالے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں اور جس مال پر وہ صلح کرلیں تو وہ ان کے لیے ہے۔ مسنداحمد، ترمذی ابن ماجۃ عن ابن عمرو
39820
Kanz al-Ummal
39807- "لا قود إلا بالسيف". "هـ - عن أبي بكرة وعن النعمان بن بشير"
٣٩٨٠٧۔۔۔ صرف تلوار کی وجہ سے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ ابن ماجۃ عن ابی بکرۃ وعن النعمان بن بشیر
39821
Kanz al-Ummal
39808- "من أصيب بدم أو خبل فهو بالخيار بين إحدى ثلاث: إما أن يقتص أو يأخذ العقل أو يعفو، فإن أراد الرابعة فخذوا على يديه، فإن فعل شيئا من ذلك ثم عدا بعد فقتل فله النار خالدا مخلدا فيها أبدا". "حم، هـ "عن أبي شريح".
٣٩٨٠٨۔۔۔ جسے خون یا کوئی نقصان پہنچا ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیا رہے یا توبدلہ لے، یا دیت وصول کرے یا معاف کردے سوا گروہ چوتھی چیز کا ارادہ کرے تو اس کے ہاتھ روک لو، اگر اس نے ان میں سے کوئی کام کیا اور حد سے تجاوز کیا اور بدلہ میں اسے قتل کردیا گیا تو اس کے لیے جہنم ہے اس میں ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ مسند احمدا، ابن ماجۃ عن ابی شریح کلام۔۔۔ ضعیف الجامع ٥٤٣٣
39822
Kanz al-Ummal
39809- "من قتل عبده قتلناه، ومن جدع عبده جدعناه". "حم، 4 "عن سمرة".
٣٩٨٠٩۔۔۔ جو کوئی اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بدلہ میں اسے قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کی ناک کاٹی ہم اس کی ناک اٹیں گے۔ مسنداحمد، ابوداؤد، ترمدی، ابن ماجہ نسائی عن سمرۃ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دورحیات میں حاکم تھے لہٰذا بعد میں یہ کام حکام ہی کریں گے کسی علاقہ کی پنچائت اور جرگہ نہیں کرسکتا۔ ع ش
39823
Kanz al-Ummal
39810- "من خصى عبده خصيناه". "د، ك - عن سمرة"
٣٩٨١٠۔۔۔ جس نے اپنے غلام کو آختہ بنایاہم اسے آختہ بنائیں گے۔ ابوداؤد حاکم، عن سمرۃ کلام :۔۔۔ ضعیف ابوداؤد ٩٧٥، ضعیف الجامع ٥٥٧٢
39824
Kanz al-Ummal
39811- "المرأة إذا قتلت عمدا لا تقتل حتى تضع ما في بطنها إن كانت حاملا وهي تكفل ولدها، وإن زنت لم ترجم حتى تضع ما في بطنها وحتى تكفل ولدها". "هـ - عن معاذ بن جبل وأبي عبيدة بن الجراح وعبادة بن الصامت وشداد بن أوس"
٣٩٨١١۔۔۔ حاملہ عورت جب کسی کو قتل کردے تو وضع حمل اور اپنے بچہ کو کسی کے حوالہ کرنے سے پہلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ابن ماجۃ عن معاذ بن جبل وابی عبیدۃ بن الجراح وعبادۃ بن الصامت وشداد بن اوس کلام :۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ ٥٨٧، ضعیف الجامع ٥٩٢٤۔
39825
Kanz al-Ummal
39812- "لا يقاد الوالد بالولد". "حم، ت - عن عمر".
٣٩٨١٢ ۔۔۔ بیٹے کے بدلہ میں باب قتل نہیں کیا جائے گا۔ مسند احمد، ترمدی عن عمر، کلام اسنی المطالب ١٧٥٢ اتمیز ١٩٧، یعنی باپ جب بیٹے کو پینے اور بیٹا مرجائے، کیونکہ کوئی والد اتنا بےرحم نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر اپنی اولاد کو ماڈالے، دوسری بات یہ ہے کہ باپ بیٹے کی حیات کا سبب تھا۔ ھدایہ ع ش
39826
Kanz al-Ummal
39813- "لا يقتل الوالد بالولد". "هـ - عن ابن عمر وعن ابن عباس".
٣٩٨١٣۔۔۔ والد کو بیٹے کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ ابن ماجۃ عن ابی عمرو عن ابن عباس
39827
Kanz al-Ummal
39814- "أما ابنك هذا فلا يجني عليك ولا تجني عليه". "حم، د، ن، ك - عن أبي رمثة"
٣٩٨١٤۔۔۔ جہاں تک تمہارے اس بیٹے کا تعلق ہے تو تم پر اس کے جرم کی سزا نہیں اور نہ تمہارے جرم کی سزا اس پر ہے۔ مسنداحمد، ابوداؤد۔ نسائی۔ حاکم عن ابی رمثہ یعنی ہر شخص اپنے جرم کی سزاخود بھگتے گا۔