Kanz al-Ummal
44. تعظیم کا بیان
كنز العمال
29826
Kanz al-Ummal29826- "إن الله تعالى لا يغلب ولا يخلب ولا ينبأ بما لا يعلم". "طب" عن معاوية.
29826 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کسی کے آگے زیر نہیں ہوتا اور نہ دھوکا کھاتا ہے جو کچھ وہ نہیں جانتا اس کے متعلق اسے آگاہ نہیں کیا جاتا ۔ (رواہ الطبرانی عن معاویہ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 1677 ۔
29827
Kanz al-Ummal29827- "ويحك إنه لا يستشفع بالله على أحد من خلقه، إن شأن الله أعظم من ذلك، ويحك أتدري ما الله؟ إن الله فوق عرشه، وعرشه على سماواته، وأرضه مثل القبة، وإنه ليئط به أطيط الرحل بالراكب. "د" عن جبير بن مطعم.
29827 ۔۔۔ تیرا اس ہو ! اللہ تعالیٰ سے اس کی مخلوق میں سے کسی کے خلاف مدد نہیں طلب کی جاتی چونکہ اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے تیرا ناس ہو کیا تم اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت وشان کو جانتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر براجمان ہے اس کا عرش آسمانوں پر ہے جبکہ اس کی زمین قبے کی مانند ہے عرش چرچراتا ہے جس طرح سوار سے کجاوہ چرچرانے لگتا ہے۔ (رواہ ابو داؤد عن جبیر بن مطعم) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 6137 ۔
29828
Kanz al-Ummal29828- "خزائن الله الكلام، فإذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون". أبو الشيخ في العظمة - عن أبي هريرة.
29828 ۔۔۔ کلام پاک اللہ تبارک وتعالیٰ کا خزانہ ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی چیز کو وجود دینا چاہتا ہے تو کن کہتا ہے وہ چیز وجود میں آجاتی ہے ۔۔ (رواہ ابو الشیخ فی العظمۃ عن ابوہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 2825 ۔
29829
Kanz al-Ummal29829- إني أرى مالا ترون وأسمع مالا تسمعون، أطت السماء وحق لها أن تئط، فما فيها موضع أربعة أصابع إلا وملك واضع جبهته لله ساجدا، والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا، وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله". "حم، ت، هـ، ك" عن أبي ذر.
29829 ۔۔۔ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان میں چرچراہٹ ہے اور چرچرانا آسمان کا حق ہے چونکہ آسمان میں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ نہیں جہاں فرشتے نے سر سجدے میں نہ رکھا ہو بخدا ! جو کچھ میں جانتا ہوں وہ اگر تم بھی جانتے ہنستے کم روتے زیادہ اور بچھونوں پر لیٹ کر اپنی بیویوں سے لذت نہ اٹھاسکتے تم پہاڑوں پر نکل جاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور آہ وبکا شروع کردیتے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی وابن ماجہ والحاکم عن ابی ذر) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 917 و ضعیف الترمذی 401 ۔
29830
Kanz al-Ummal29830- " أطت السماء وحقها أن تئط، والذي نفس محمد بيده ما فيها موضع شبر إلا وفيه جبهة ملك ساجد يسبح الله بحمده". ابن مردويه - عن أنس.
29830 ۔۔۔ آسمان چر چرا رہا ہے اور چرچرانا اس کا حق بھی ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے آسمان میں بالشت برابر بھی جگہ نہیں جس میں کوئی فرشتہ سر بسجود نہ ہو اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد و تسبیح میں مشغول نہ ہو ۔ (رواہ ابن مردویہ عن انس)
29831
Kanz al-Ummal29831- " أتسمعون ما أسمع إني لأسمع أطيط السماء وما تلام أن تئط، وما فيها موضع شبر إلا وعليه ملك ساجد أو قائم". "طب" والضياء - عن حكيم بن حزام.
29831 ۔۔۔ جو کچھ میں سنتا ہوں کیا وہ تم بھی سنتے ہو ، میں آسمان کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور آسمان کے چرچرانے کو ملامت نہیں چونکہ آسمان پر بالشت برابر بھی جگہ نہیں الا یہ کہ ہر جگہ کوئی فرشتہ سر بسجود ہے یا حالت قیام میں ہے۔ (رواہ الطبرانی والضیاء عن حکیم بن حرام)
29832
Kanz al-Ummal29832- " إن لله تعالى ملكا لو قيل له: التقم السماوات السبع والأرضين بلقمة واحدة لفعل، تسبيحه سبحانك حيث كنت". "طب" عن ابن عباس.
29832 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایک فرشتہ ایسا ہے کہ اگر اسے کہا جائے کہ ساتوں آسمانوں اور زمین کو ایک لقمہ بنا لے یقیناً وہ ایسا کرے گا ” سبحانک حیث کنت “ اس کی تسبیح ہے۔ (رواہ الطبرانی عن ابن عباس (رض))
29833
Kanz al-Ummal29833- " تبارك الله مصرف القلوب". "طب" عن أم سلمة.
29833 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بزرگی والا ہے جو دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ (رواہ الطبرانی عن ام سلمۃ (رض))
29834
Kanz al-Ummal29834- "اجلس حتى أخبرك بغنى الرب تبارك وتعالى عن صلاة أبي جحش إن لله تعالى في سماء الدنيا ملائكة خشوعا لا يرفعون رؤوسهم حتى تقوم الساعة فإذا قامت الساعة رفعوا رؤوسهم ثم قالوا: ربنا ما عبدناك حق عبادتك، وإن لله تعالى في السماء الثانية ملائكة سجودا لا يرفعون رؤوسهم حتى تقوم الساعة فإذا قامت الساعة رفعوا رؤوسهم وقالوا: ربنا ما عبدناك حق عبادتك، وإن لله في السماء الثالثة ملائكة ركوعا لا يرفعون رؤوسهم حتى تقوم الساعة فإذا قامت الساعة رفعوا رؤوسهم وقالوا: ربنا ما عبدناك حق عبادتك قال عمر: وما يقولون يا رسول الله؟ قال: أما أهل السماء الدنيا فيقولون: سبحان ذي الملك والملكوت، وأما أهل السماء الثانية فيقولون: سبحان ذي العزة والجبروت وأما أهل السماء الثالثة فيقولون: سبحان الحي الذي لا يموت". أبو الشيخ في العظمة، "ك، هب" عن ابن عمر؛ قال الذهبي: منكر غريب.
29834 ۔۔۔ بیٹھو تاکہ میں تمہیں رب تعالیٰ کی عظمت سے آگاہ کروں اللہ تعالیٰ ابو جحش کی نماز سے بےنیاز ہے آسمان دنیا پر اللہ تبارک وتعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو رب تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں اور تا قیامت اپنے سر اوپر نہیں اٹھانے پائیں گے جب قیامت قائم ہوجائے گی یہ فرشتے سر اوپر اٹھائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! جس طرح تیری عبادت کا حق ہے ہم نے وہ حق ادا نہیں کیا دوسرے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو سر بسجود ہیں اور تا قیامت اپنے سر اوپر نہیں اٹھانے پائیں گے جب قیامت قائم ہوجائے گی یہ فرشتے سر اوپر اٹھائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! جس طرح تیری عبادت کا حق ہے ہم نے وہ حق ادا نہیں ہوا تیسرے آسمان پر بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرشتے ہیں جو مسلسل رکوع میں جھکے ہوئے ہیں اور تا قیامت اپنے سر اوپر نہیں اٹھانے پائیں گے جب قیامت قائم ہوجائے گی یہ فرشتے سر اوپر اٹھائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! جس طرح تیری عبادت کا حق ہے ہم نے وہ حق ادا نہیں ہوا ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ فرشتے کیا کیا کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آسمان دنیا کے فرشتے کہتے ہیں : ” سبحان ذی الملک والملکوت “۔ دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں : ” سبحان ذی العزۃ والجبروت “۔ تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں : ” سبحان الحی الذی لا یموت “۔ (رواہ ابو الشمیع فی العظمۃ والحاکم والبیہقی عن ابن عمرو (رض) وقال الذھبی منکر غریب)
29835
Kanz al-Ummal29835- "يا عمر ارجع فإن غضبك عز ورضاك حكم، إن لله تبارك وتعالى في السماوات السبع ملائكة يصلون له غني عن صلاة فلان قال عمر: وما صلاتهم فلم يرد عليه شيئا، فأتى جبريل فقال: يا نبي الله سألك عمر عن صلاة أهل السماء؟ قال: نعم قال: اقرأ على عمر السلام وأخبره أن أهل السماء الدنيا سجود إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي الملك والملكوت، وأهل السماء الثانية ركوع إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي العزة والجبروت وأهل السماء الثالثة قيام إلى يوم القيامة يقول: سبحان الحي الذي لا يموت". ابن جرير، "حل" عن سعيد بن جبير مرسلا.
29835 ۔۔۔ اے عمر ! واپس آؤ تمہارا غصہ عزت ہے تمہاری خوشی حکم ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بیشمار فرشتے ہیں جو آسمانوں میں محو عبادت ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ فلاں کی نماز سے بےنیاز ہیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : ان فرشتوں کی نماز کیا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا اے اللہ کے نبی ! عمر نے آپ سے اہل آسمان کی نماز کے متعلق سوال کیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں جبرائیل امین (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ عمر کو سلام کہیں اور انھیں خبر دیں کہ آسمان دنیا کے فرشتے تاقیامت سجدے میں ہیں اور وہ یہ تسبیح کہتے ہیں : ” سبحان ذی الملک والملکوت “ تیسرے آسمان کے فرشتے تاقیامت حالت قیام میں ہیں اور وہ یہ تسبیح کہتے ہیں ” سبحان الحی الذی لایموت “۔ (رواہ ابن جریر وابو نعیم فی الحلیۃ عن سعید بن جبیر مرسلا)