Kanz al-Ummal
5. اجارہ کا بیان
كنز العمال
9173
Kanz al-Ummal9173- عن عمر قال: أيما رجل أكرى كراء فجاوز صاحبه ذا الحليفة فقد وجب كراؤه ولا ضمان عليه. "ق".
٩١٧٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو شخص بھی کرائے پر کوئی (جانور) دے پھر اس کا مالک ذولحلیفہ سے آگے گزر گیا تو اس کا کرایہ واجب ہے جبکہ اس پر ضمان نہیں۔ (بیھقی فی الشعب)
9174
Kanz al-Ummal9174- عن بكير بن عبد الله بن الأشج أن عمر بن الخطاب ضمن الصناع الذين انتصبوا للناس في أعمالهم ما أهلكوا في أيديهم. "عب ش".
٩١٧٤۔۔۔ بکیربن عبداللہ بن الاشج سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ان کاریگروں کو جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے کاموں کیلئے مقرر کیا ہے جو چیز ان کے ہاتھوں میں ضائع ہوجائے اس کا ضامن بنایا۔ (عبدالرزاق ، مصنف ابن ابی شیبہ)
9175
Kanz al-Ummal9175- عن أبي هريرة قال: إذا اشترط عليه رب المال أن لا ينزل بطن واد فنزله فهلك فهو ضامن."عب".
٩١٧٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر مال والا اس سے یہ شرط طے کرے کہ وہ بطن وادی میں نہیں اترے گا پھر وہ وہاں اترا اور ہلاک ہوگیا تو وہ ضامن ہے۔ (عبدالرزاق)
9176
Kanz al-Ummal9176- عن رافع بن خديج قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بحائط فأعجبه، فقال: لمن هذا؟ قلت هو لي، قال: من أين لك هذا؟ قلت استأجرته قال: لا تستأجره بشيء. "طب".
٩١٧٦۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دیوار کے پاس سے گزرے وہ آپ کو اچھی لگی، فرمایا : یہ کسی کی ہے ؟ میں نے عرض کیا : میری ہے آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیسے حاصل کی ؟ میں نے کہا : میں نے کہا : میں نے اسے اجرت پر دیا ہے آپ نے فرمایا : کسی چیز کے بدلہ اسے اجرت پر نہ دو ۔ (طبرانی فی الکبیر)
9177
Kanz al-Ummal9177- قال محمد بن إسحاق: أخبرني يزيد بن أبي حبيب أنه حدث عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنت في الغزاة التي بعث فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم عمرو بن العاص إلى ذات السلاسل، قال: فصحبت أبا بكر وعمر، فمررت بقوم على جزور لهم قد تحروها، وهم لا يقدرون أن يقصبوها، وكنت امرأ لبقا جازرا، فقلت: أتعطوني منها عشرا على أن أقسمها بينكم؟ فقالوا: نعم، فأخذت الشفرتين، فجزأتها مكاني، وأخذت منها جزءا، فحملته إلى أصحابي، فأطبخناه، وأكلناه، فقال لي أبو بكر وعمر: أنى لك هذا اللحم يا عوف؟ فأخبرتهما خبره، فقالا: والله ما أحسنت حين أطعمتنا هذا، ثم قاما يتقيآن ما في بطونهما من ذلك، فلما قفل الناس من ذلك السفر كنت أول قادم على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجئته وهو يصلي في بيته، فقلت: السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته، قال: أعوف بن مالك؟ قلت: نعم بأبي أنت وأمي، قال: أصاحب الجزور؟ ولم يزدني رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك. قال ابن كثير: هذا منقطع فإن يزيد لم يدرك عوفا.
٩١٧٧۔۔۔ محمد بن اسحاق ، یزیدبن ابی حبیب وہ حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرماتے ہیں :
میں اس غزوہ میں تھا جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (حضرت) عمر وبن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ فرمایا تھا، فرماتے ہیں ابوبکر اور عمر کے ساتھ تھا، میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ذبح شدہ چند اونٹ تھے جنہیں انھوں جمع کررکھا تھا (لیکن) وہ انھیں کاٹ نہ سک رہے تھے، جبکہ میں ماہر اور اونٹوں والا شخص تھا، میں نے کہا : کیا تم مجھے ان میں دس حصے دوگے اگر میں انھیں تمہارے درمیان تقسیم کردوں ، انھوں نے کہا : ٹھیک ہے، میں نے دوچھریاں لیں، میں نے اپنی جگہ ان کے ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑا اپنے دوستوں کے پاس لے گیا، اور اسے پکا کر کھایا، مجھے ابوبکر (رض) اور عمر نے کہا : عوف تم نے یہ گوشت کہاں سے حاصل کیا ہے ؟ تو میں نے اس کا سارا واقعہ انھیں بتایا۔
ان حضرات نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم تم نے ہمیں یہ گوشت کھلا کر اچھا نہ کیا، پھر دونوں اٹھے اور جو کچھ ان کے پیٹ
میں تھا اس کے قے کرنے لگے، بعد میں جب لوگ اس سفر سے واپس ہوئے تو میں سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
کے پاس گیا، میں جب آیا تو آپ اپنے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : کیا عوف بن مالک ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں میرے مان باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا : کیا اونٹوں والے ہو ؟ اس سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ نہ کہا، علامہ ابن کیثر فرماتے ہیں : یہ منقطع روایت ہے کیونکہ یزید بن ابی حبیب نے حضرت عوف کو نہیں دیکھا۔
میں اس غزوہ میں تھا جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (حضرت) عمر وبن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ فرمایا تھا، فرماتے ہیں ابوبکر اور عمر کے ساتھ تھا، میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ذبح شدہ چند اونٹ تھے جنہیں انھوں جمع کررکھا تھا (لیکن) وہ انھیں کاٹ نہ سک رہے تھے، جبکہ میں ماہر اور اونٹوں والا شخص تھا، میں نے کہا : کیا تم مجھے ان میں دس حصے دوگے اگر میں انھیں تمہارے درمیان تقسیم کردوں ، انھوں نے کہا : ٹھیک ہے، میں نے دوچھریاں لیں، میں نے اپنی جگہ ان کے ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑا اپنے دوستوں کے پاس لے گیا، اور اسے پکا کر کھایا، مجھے ابوبکر (رض) اور عمر نے کہا : عوف تم نے یہ گوشت کہاں سے حاصل کیا ہے ؟ تو میں نے اس کا سارا واقعہ انھیں بتایا۔
ان حضرات نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم تم نے ہمیں یہ گوشت کھلا کر اچھا نہ کیا، پھر دونوں اٹھے اور جو کچھ ان کے پیٹ
میں تھا اس کے قے کرنے لگے، بعد میں جب لوگ اس سفر سے واپس ہوئے تو میں سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
کے پاس گیا، میں جب آیا تو آپ اپنے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : کیا عوف بن مالک ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں میرے مان باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا : کیا اونٹوں والے ہو ؟ اس سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ نہ کہا، علامہ ابن کیثر فرماتے ہیں : یہ منقطع روایت ہے کیونکہ یزید بن ابی حبیب نے حضرت عوف کو نہیں دیکھا۔
9178
Kanz al-Ummal9178- عن الوضين بن عطاء قال: ثلاثة كانوا بالمدينة يعلمون الصبيان، وكان عمر بن الخطاب يرزق كل واحد منهم خمسة عشر درهما كل شهر. "ش هق".
٩١٧٨۔۔۔ وضین بن عطاء سے روایت ہے کہ مدینہ میں تین شخص تھے جو بچوں کو کام پر لگاتے تھے، حضرت عمران میں سے ہر ایک کو ہر ماہ پندرہ درھم دیا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، بیھقی فی السنن)
9179
Kanz al-Ummal9179- "علي رضي الله عنه" عن جعفر بن محمد، عن أبيه قال: كان علي يضمن الخياط والصباغ وأشباه ذلك احتياطا للناس، وقال: لا يصلح للناس إلا ذلك. "عب هق".
٩١٧٩۔۔۔ (علی (رض)) جعفر بن محمد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : فرمایا : کہ حضرت علی (رض) لوگوں کی حفاظت کے لیے، درزیوں رنگریزوں اور ان جیسے لوگوں کو ضامن قرار دیتے تھے اور فرماتے : لوگوں کے لیے اس کے علاوہ اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ (عبدالرزاق، بیھقی فی السنن)
9180
Kanz al-Ummal9180- عن عمر قال: إيلاء العبد شهران. "عب".
٩١٨٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : غلام کا ایلادوماہ ہے۔ (عبدالرزاق)
9181
Kanz al-Ummal9181- عن عمر قال: إذا مضت على المولى أربعة أشهر فهي تطليقة وهو أملك بردها ما دامت في عدتها. "قط هق".
٩١٨١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایلاء کرنے والے کو اگر چار ماہ ہوجائیں تو یہ ایک طلاق ہے وہ عورت کو اس کی عدت کے دوران واپس لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے۔ (دارقطنی، بیھقی فی السنن)
9182
Kanz al-Ummal9182- عن عمر أنه قال: في الإيلاء إذا مضت أربعة أشهر فلا شيء عليه حتى يوقف فيطلق أو يمسك.ابن جرير.
٩١٨٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایلاء کرنے والے کو جب چار ماہ ہوجائیں تو جب تک وہ وقوف کرے اس پر کچھ واجب نہیں ، پھر یا طلاق دے یا عورت کو روکے رکھے۔ (ابن جریر)