hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

27. مانگے کى چیز کا بیان

سنن البيهقي

11472
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۶۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شَقِیقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : کُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَۃٌ وَکُنَّا نَعُدُّ الْمَعْرُوفَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْقِدْرَ وَالدَّلْوَ وَأَشْبَاہَ ذَلِکَ۔ [حسن۔ ابوداؤد ۱۶۵۷]
(١١٤٦٧) حضرت شفیق سے روایت ہے کہ عبداللہ نے بیان کیا، ہر اچھا کام صدقہ ہے اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہنڈیا اور ڈول اور اس جیسی چیزوں کو معروف شمار کیا کرتے تھے۔
11473
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَکُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْقِدْرَ وَالدَّلْوَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [حسن]
(١١٤٦٨) اور ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں عون، ہنڈیا اور ڈول کو شمار کرتے تھے۔
11474
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۶۹) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِی قَوْلِہِ ( الْمَاعُونَ) قَالَ ہُوَ مَنْعُ الْفَأْسِ وَالدَّلْوِ وَالْقِدْرِ وَنَحْوِہَا۔ [حسن]
(١١٤٦٩) ابن مسعود (رض) سے ماعون کے بارے میں منقول ہے کہ چمچ ، ڈول اور ہنڈیا دینے سے روک لینا۔
11475
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ: زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} قَالَ: عَارِیَّۃَ الْمَتَاعِ۔[حسن]
(١١٤٧٠) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ { وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ } کا مطلب ہے فائدہ کی چیز عاریتاً دینے سے منع کرنا۔
11476
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ بَسَّامٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : الْمَاعُونَ الْفَأْسُ وَالْقِدْرُ وَالدَّلْوُ قُلْتُ : فَمَنْ مَنَعَ ہَذَا فَلَہُ الْوَیْلُ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ مَنْ جَمَعَہُنَّ فَلَہُ الْوَیْلُ مَنْ رَایَا فِی صَلاَتِہِ وَسَہَا عَنْہَا وَمَنَعَ ہَذَا فَلَہُ الْوَیْلُ۔ [ضعیف]
(١١٤٧١) عکرمہ سے روایت ہے ” الماعون “ سے مراد چمچ ، ڈول ، ہنڈیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا : جو ان چیزوں کو روکے اس کے لیے ہلاکت ہے ؟ کہا : نہیں لیکن جو ان چیزوں کو جمع کر کے رکھے اس کے لیے ہلاکت ہے اور جو نماز میں دکھلاوا ظاہر کرے اور غافل رہے اور اس سے رک جائے اس کے لیے ہلاکت ہے۔
11477
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِینَۃِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَسًا مِنْ أَبِی طَلْحَۃَ یُقَالُ لَہُ الْمَنْدُوبُ فَرَکِبَہُ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ : مَا رَأَیْنَا مِنْ شَیْئٍ وَإِنْ وَجَدْنَاہُ لَبَحْرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [بخاری ۲۶۲۷، مسلم ۲۳۰۷]
(١١٤٧٢) حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا کہ مدینہ میں دشمن کا ڈر تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طلحہ سے گھوڑا عاریتاً لیا، اس (گھوڑے ) کا نام مندوب تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہوئے جب واپس آئے تو فرمایا : ہم نے تو کوئی ڈر والی چیز محسوس نہیں کی ، لیکن ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرحپایا ہے۔
11478
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ وَعِنْدَہَا جَارِیَۃٌ لَہَا عَلَیْہَا دِرْعُ قُطْنٍ ثَمَنُہُ خَمْسَۃُ دَرَاہِمَ قَالَتْ : ارْفَعْ بَصَرَکَ إِلَی جَارِیَتِی انْظُرْ إِلَیْہَا فَإِنَّہَا تَزْہَی عَلَیَّ أَنْ تَلْبَسَہُ فِی الْبَیْتِ وَقَدْ کَانَ لِی مِنْہُنَّ دِرْعٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا کَانَتِ امْرَأَۃٌ تُقَیَّنُ بِالْمَدِینَۃِ إِلاَّ أَرْسَلَتْ إِلَیَّ تَسْتَعِیرُہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [بخاری ۲۶۲۸]
(١١٤٧٣) عبدالواحد بن ایمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس گیا۔ ان کے پاس ایک لونڈی تھی اس پر ایک یمنی چادر تھی جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ حضرت عائشہ کہنے لگیں : اس میری لونڈی کی طرف دیکھو اسے گھر میں اس طرح کے کپڑے پہننے میں کوئی دلچسپی نہیں حالانکہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اس جیسی ایک چادر تھی مدینہ میں۔ جو بھی عورت دلہن بنتی وہ مجھ سے یہ چادر عاریتاً لیتی تھی۔
11479
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِیُّ سَمِعَ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الدَّیْنُ مَقْضِیٌّ وَالْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُودَۃٌ وَالزَّعِیمُ غَارِمٌ۔ [حسن]
(١١٤٧٤) ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرض ادا کرنا فرض ہے اور عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنا ہوتی ہے اور جس جانور کو دودھ کے لیے لیا ہو اسے واپس کرنا چاہیے اور ذمہ میں لینے والا ضامن ہوتا ہے۔
11480
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ أَدْرَاعًا وَسِلاَحًا فِی غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَارِیَّۃٌ مُؤَدَّاۃٌ قَالَ : عَارِیَّۃٌ مُؤَدَّاۃٌ۔ [ضعیف]
(١١٤٧٥) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے ذرعیں اور اسلحہ عاریتاً لیا، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہی فرمایا : عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں۔
11481
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ تَفْسِیرِ الْعَارِیَّۃِ الْمُؤَّدَاۃِ قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ فِی أَیْدِیہِمْ عَوَارِیٌّ مِنَ الْمُشْرِکِینِ فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلاَمُ مَا بِأَیْدِینَا مِنْ عَوَارِیِّ الْمُشْرِکِینَ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الإِسْلاَمَ لاَ یُحْرِزُ لَکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ الْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ ۔ فَأَدَّی الْقَوْمُ مَا بِأَیْدِیہِمْ مِنْ تِلْکَ الْعَوَارِیِّ۔ قَالَ عَلِیٌّ ہَذَا مُرْسَلٌ وَلاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ۔ [ضعیف]
(١١٤٧٦) عطاء بن ابی رباح نے عاریتاً موذاۃ کی تفسیر میں فرمایا : ایک قوم نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس مشرکوں سے لی ہوئی عاریتاً چیزیں تھیں۔ انھوں نے کہا : اسلام نے مشرکوں کی ان چیزوں کو ہمارے لیے محفوظ کردیا ہے۔ یہ بات آپ کے پاس پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام ایسی چیز تمہارے قبضے میں نہیں دیتا جو تمہاری ملکیت نہ ہو۔ عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنی چاہیے تو اس قوم نے وہ اشیاء واپس کردیں۔