hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

47. طلاق سے رجوع کرنے کا بیان

سنن البيهقي

15153
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ (إِنْ أَرَادُوا إِصْلاَحًا) یُقَالُ : إِصْلاَحُ الطَّلاَقِ بِالرَّجْعَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٥١٤٧) امام شافعی (رح) اللہ تعالیٰ کے قول : { اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا } [البقرۃ ٢٢٨] ” اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ کریں۔ “ کے متعلق فرماتے ہیں کہ طلاق کی اصلاح رجوع ہے۔ [صحیح ]
15154
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا} [البقرۃ ۲۲۸] قَالَ یَقُولُ : إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ تَطْلِیقَۃً أَوِ اثْنَتَیْنِ وَہِیَ حَامِلٌ فَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا مَا لَمْ تَضَعْ وَلاَ یَحِلُّ لَہَا أَنْ تَکْتُمَ حَمْلَہَا وَہُوَ قَوْلُہُ {وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ} [البقرۃ ۲۲۸]
(١٥١٤٨) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول : { وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا } [البقرۃ ٢٢٨] ” اور ان عورتوں کے خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔ “ جب خاوند اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دے ایک یا دو تو وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک وہ وضع حمل نہ کرے اور عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے حمل کو چھپائے۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٨] ” عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اس کو چھپائیں۔ “ [ضعیف ]
15155
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِی ذَلِکَ) یَعْنِی فِی الْعِدَّۃِ۔
(١٥١٤٩) مجاہد اللہ کے اس قول : { وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ } [البقرۃ ٢٢٨] کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد عدت کے ایام میں ہے۔ [حسن ]
15156
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَبِی مَالِکٍ وَأَبِی صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَعَن نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ التَّفْسِیرَ إِلَی قَوْلِہِ (الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ) قَالَ : وَہُوَ الْمِیقَاتُ الَّذِی یَکُونُ عَلَیْہَا فِیہِ الرَّجْعَۃُ فَإِذَا طَلَّقَ وَاحِدَۃً أَوْ ثِنْتَیْنِ فَإِمَّا أَنْ یُمْسِکَ وَیُرَاجِعَ بِمَعْرُوفٍ وَإِمَّا یَسْکُتَ عَنْہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَتَکُونُ أَحَقَّ بِنَفْسِہَا۔
(١٥١٥٠) حضرت عبداللہ صحابہ (رض) سے اس قول کی تفسیر بیان کرتے ہیں : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ } [البقرۃ ٢٢٩] یہ وہ وقت ہے جس میں عورت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جب ایک یا دو طلاقیں دے یا تو وہ روک لے اور اچھائی کے ساتھ رجوع کرلے۔ یا اس سے خاموش رہے کہ اس کی عدت ختم ہوجائے تو عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔ [حسن ]
15157
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثُمَّ یُرَاجِعُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ الْعِدَّۃُ لَیْسَ لِلطَّلاَقِ وَقْتٌ حَتَّی طَلَّقَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَتَہُ لِسُوئِ عِشْرَۃٍ کَانَتْ بَیْنَہُمَا فَقَالَ : لأَدَعَنَّکِ لاَ أَیِّمًا وَلاَ ذَاتَ زَوْجٍ فَجَعَلَ یُطَلِّقُہَا حَتَّی إِذَا دَنَا خُرُوجُہَا مِنَ الْعِدَّۃِ رَاجَعَہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ کَمَا أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَوَقَّتَ لَہُمُ الطَّلاَقَ ثَلاَثًا رَاجَعَہَا فِی الْوَاحِدَۃِ وَفِی الثِّنْتَیْنِ وَلَیْسَ لَہُ فِی الثَّالِثَۃِ رَجْعَۃٌ فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللَّہَ} إِلَی قَوْلِہِ {بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} وَحَدِیثُ رُکَانَۃَ فِی الرَّجْعِیَّۃِ قَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الطَّلاَقِ۔ [حسن]
(١٥١٥١) ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت کے درمیان ہی رجوع کرلیتا ہے تو یہ طلاق کا وقت نہیں ہے، ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ جن کے درمیان رہن سہن اچھا نہ تھا۔ اس نے کہا : نہ تو بیوہ کروں گا اور نہ ہی خاوند والی چھوڑوں گا۔ وہ اس کو طلاق دیتا جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع کرلیتا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } (البقرۃ : ٢٢٩) کہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر اچھائی سے روکنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ تین طلاق ان کے لیے مقرر کردیں ایک یا دو کے بعد رجوع ہے تیسری کے بعد رجوع درست نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان : { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللَّہَ } إِلَی قَوْلِہِ { بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] ” جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے ایام میں دو اور عدت کو شمار کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ۔ “ اور رکانہ کی حدیث رجوع کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے۔
15158
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ یَعْنِی الشَّیْبَانِیَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ وَأَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَہُ أَنْ یُرَاجِعَہَا ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَحِیضَ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ یُطَلِّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا قَالَ : وَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَائُ ۔ قَالَ : فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ یَقُولُ : أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَہَا وَاحِدَۃً أَوْ ثِنْتَیْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَہُ أَنْ یُرَاجِعَہَا ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَحِیضَ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ یُطَلِّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَہَا ثَلاَثًا فَقَدْ عَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ بِہِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ وَبَانَتْ مِنْکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔ [صحیح]
(١٥١٥٢) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجوع کا حکم فرمایا اور فرمایا : پھر دوسرے حیض تک مہلت دے۔ پھر پاک ہونے تک مہلت دے کر جماع سے پہلے طلاق دے دے اور فرمایا : یہ ہے وہ وقت جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے جب بھی حالتِ حیض میں عورت کو دی گئی طلاق کے بارے میں پوچھے گیا تو فرماتے : اگر ایک یا دو طلاقیں دی ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو رجوع کا حکم فرمایا، پھر دوسرے حیض تک مہلت دے کر طہر میں بغیر جماع کیے طلاق دے دینا اور اگر تو نے تین طلاقیں دے دیں ہیں تو تو نے اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے جو اس نے عورتوں کے متعلق دیا ہے اور عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔
15159
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَعَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا طَلَّقَ النَّبِیُّ -ﷺ- حَفْصَۃَ أُمِرَ أَنْ یُرَاجِعَہَا فَرَاجَعَہَا۔ وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ حَسَّانَ قَالَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- طَلَّقَ حَفْصَۃَ فَأُمِرَ أَنْ یُرَاجِعَہَا۔ [صحیح]
(١٥١٥٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو طلاق دی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجوع کرلیا۔
(ب) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) کو طلاق دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔
15160
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : إِذَا شَارَفْنَ بُلُوغَ أَجَلِہِنَّ فَرَاجِعُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ دَعُوہُنَّ تَنْقَضِی عِدَدُہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَنَہَاہُمْ أَنْ یُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِیَعْتَدُوا فَلاَ یَحِلُّ إِمْسَاکُہُنَّ ضِرَارًا۔ [صحیح]
(١٥١٥٤) امام شافعی (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ان کی مدت پوری ہونے کے قریب ہو تو ان سے اچھائی کے ساتھ رجوع کرو یا چھوڑ دو ، تاکہ ان کی عدت پوری ہوجائے اور تکلیف دینے کی غرض سے روکنے سے منع فرمایا ہے کوئی بھی اس غرض سے نہ روکے۔
15161
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ (وَلاَ تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا) قَالَ : الضِّرَارُ أَنْ یُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ تَطْلِیقَۃً ثُمَّ یُرَاجِعَہَا عِنْدَ آخِرِ یَوْمٍ یَبْقَی مِنَ الأَقْرَائِ ثُمَّ یُطَلِّقَہَا ثُمَّ یُرَاجِعَہَا عِنْدَ آخِرِ یَوْمٍ یَبْقَی مِنَ الأَقْرَائِ یُضَارُّہَا بِذَلِکَ۔ [صحیح]
(١٥١٥٥) مجاہد اللہ کے قول : { وَ لَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً } [البقرۃ ٢٣١] ” تکلیف دینے کی غرض سے تم ان کو مت روکو۔ “ ضرار یہ ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے ایک دن پہلے رجوع کر کے طلاق دے۔ اسی طرح وہ کرتے رہے۔ یہ تکلیف دینا ہے۔
15162
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ زِیَادٍ الأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ (وَلاَ تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا) قَالَ : ہُوَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا أَشْہَدَ عَلَی رَجْعَتِہَا ثُمَّ یُطَلِّقُہَا فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا أَشْہَدَ عَلَی رَجْعَتِہَا یُرِیدُ أَنْ یُطَوِّلَ عَلَیْہَا۔ وَرُوِّینَا عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ مَعْنَی ہَذَا۔ [صحیح]
(١٥١٥٦) حضرت حسن اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : { وَ لَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً الِّتَعْتَدُوْا } [البقرۃ ٢٣١] ” اور تم ان کو تکلیف دینے کی غرض سے نہ روکو، فرماتے ہیں کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجوع کر کے پھر طلاق دے دیتا۔ جب عدت پوری ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع پر گواہ بن کر طلاق دے دیتا تاکہ اس کی مدت زیادہ لمبی ہو۔