hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

11. زکوۃ کا بیان

سنن البيهقي

7222
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ - یَعْنِی ابْنَ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((بُنِیَ الإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ شَہَادَۃِ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ وَإِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ))۔ [صحیح۔ البخاری]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ } [سورۃ بینہ ٥]
(٧٢٢١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام کی بنیادی پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے : 1 اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، 2 نماز قائم کرنا 3 زکوۃ ادا کرنا اور 4 حج بیت اللہ کرنا اور 5 ۔ رمضان کے روزے رکھنا۔
7223
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٢٢٢) محمد بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور پوری حدیث اسی طرح بیان کی۔
7224
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَی الرَّازِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ آتَاہُ اللَّہُ مَالاً فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاع أَقْرَعَ لَہُ زَبِیبَتَانِ یُطَوَّقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، ثُمَّ یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ - یَعْنِی شِدْقَیْہِ - ثُمَّ یَقُولُ : أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ))، ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونُ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، وَرَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ مَوْقُوفًا۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ البخاری]
(٧٢٢٣) ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو اللہ نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے مال کو بڑے اژدھے کی مانند بنایا جائے گا ۔ جس کے دو ہونٹ ہوں گے تو وہ اس کا طوق بن جائے گا ۔ پھر وہ اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا : میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : { لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونُ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ } کہ نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال میں جو اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے۔ وہ ان کے لیے بہتر ہے، نہیں بلکہ وہ تو ان کے لیے شر ہے۔ عنقریب وہ بخل کی وجہ سے قیامت کے دن گلے میں طوق پہنچائے جائیں گے ۔
7225
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ سَمِعَ جَامِعَ بْنَ أَبِی رَاشِدٍ وَعَبْدَالْمَلِکِ بْنَ أَعْیَنَ سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ یُخْبِرُ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاۃَ مَالِہِ إِلاَّ مُثِّلَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ یَفِرُّ مِنْہُ وَہُوَ یَتْبَعُہُ حَتَّی یُطَوَّقَہُ فِی عُنُقِہِ))۔ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- {سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ} [صحیح۔ أخرجہ الترمذی]
(٧٢٢٤) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اس کے مال کو قیامت کے دن چتکبرے سانپ کی شکل دی جائے گی ، مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کا پیچھا کرے گا ، یہاں تک کہ وہ اس کی گردن کا طوق بن جائے گا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر یہ آیت پڑھی { سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ }
7226
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنِی أَبِی وَیَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْہَرَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا سُہَیْلٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ صَاحِبِ کَنْزٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہُ إِلاَّ أُحْمِیَ عَلَیْہِ فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَیُجْعَلُ صَفَائِحَ فَیُکْوَی بِہَا جَنْبَاہُ وَجَبِینُہُ حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ یُرَی سَبِیلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا إِلَی النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہَا إِلاَّ بُطِحَ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ تُسَیَّرُ عَلَیْہِ کُلَّمَا مَضَی أُخْرَاہَا رُدَّتْ عَلَیْہِ أُولاَہَا حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ یَرَی سَبِیلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا إِلَی النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہَا إِلاَّ بُطِحَ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ فَتَطَؤُہُ بِأَظْلاَفِہَا وَتَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا لَیْسَ فِیہَا عَقْصَائُ ، وَلاَ جَلْحَائُ کُلَّمَا مَضَی عَلَیْہِ أُخْرَاہَا رُدَّتْ عَلَیْہِ أُولاَہَا حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ أَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ یَرَی سَبِیلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا إِلَی النَّارِ))۔ قَالَ سُہَیْلٌ : فَلاَ أَدْرِی أَذَکَرَ الْبَقَرَ أَمْ لاَ۔ قَالُوا : فَالْخَیْلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((الْخَیْلُ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ - أَوْ قَالَ - الْخَیْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))۔ قَالَ سُہَیْلٌ : أَنَا أَشُکُّ۔ ((الْخَیْلُ ثَلاَثَۃٌ فَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ۔ فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ یَتَّخِذُہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَیُعِدُّہَا لَہُ فَلاَ یُغَیِّبُ شَیْئًا فِی بُطُونِہَا إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِہَا أَجْرًا ، وَلَوْ رَعَاہَا فِی مَرْجٍ مَا أَکَلَتْ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِہَا أَجْرًا ، وَلَوْ سَقَاہَا مِنْ نَہْرٍ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ تُغَیِّبُہَا فِی بُطُونِہَا أَجْرٌ حَتَّی ذَکَرَ الأَجْرَ فِی أَبْوَالِہَا ، وَأَرْوَاثِہَا ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَتَبَ لَہُ بِکُلِّ خَطْوَۃٍ تَخْطُوہَا أَجْر ، وَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ یَتَّخِذُہَا تَکَرُّمًا وَتَجَمُّلاً وَلاَ یَنْسَی حَقَّ اللَّہِ فِی ظُہُورِہَا وَبُطُونِہَا فِی عُسْرِہَا وَیُسْرِہَا ، وَأَمَّا الَّذِی عَلَیْہِ وِزْرٌ فَالَّذِی یَتَّخِذُہَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِیَائً لِلنَّاسِ فَذَاکَ الَّذِی عَلَیْہِ وِزْرٌ ۔ قَالُوا : فَالْحُمُرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَیَّ فِیہَا شَیْئًا إِلاَّ ہَذِہِ الآیَۃَ الْجَامِعَۃَ الْفَاذَّۃَ {مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ} ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ۔ وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ صَاحِبِ ذَہَبٍ ولا فِضَّۃٍ لاَ یُؤَدِّی مِنْہَا حَقَّہَا))۔ فَذَکَرَہُ ، ثُمَّ ذَکَرَ الإِبِلَ ، ثُمَّ ذَکَرَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٧٢٢٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو خزانے والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پلیٹوں کی مانند بنایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ نہ کردیں، اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے صاف میدان میں لٹایا جائے گا اور اس کے زکوۃ نہ ادا کیے ہوئے اونٹوں کو اس پر سے گذارا جائے گا۔ جب آخری گزر جائے گا تو دوبارہ پھر پہلے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ نہ کردیں گے۔ اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی میں پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی ۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو بکریوں والا ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو بکریاں اسے اپنے پاؤں سے روندیں گی اور سینگ ماریں گی۔ ان میں کوئی بغیر سینگوں کے نہیں ہوگی اور نہ کوئی لنگڑی ہوگی، جب اس پر سے آخری گزرے گی تو پہلی کو لایا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کردیں اس دن جس کی مقدار تمہارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی ، پھر اسے اس کا جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سھیل کہتے ہیں : مجھے یاد نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گائے کا تذکر کیا یا نہیں ، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! گھوڑے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک بھلائی اللہ نے قیامت کے دن تکخیرو برکت باندھی ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں باندھی گئی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑا تین طرح کا ہے، یہ مالک کے لیے باعثِ اجر ہے اور باعثِ ستر (پردہ) اور باعثِ بوجھ ہوگا۔ سو وہ جو باعثِ اجر ہوگا وہ ہوگا جسے آدمی اللہ کی راہ میں وقف کر دے گا اور اسی کے لیے تیار کرے گا تو پھر اس کے پیٹ میں کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھیں گے ۔ اگر اس نے اسے چرا گاہ میں چرایا اور اس نے جو کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھ دیں گے یا اس نے اسے نہر سے پلایا تو اس کے لیے ہر قطرے کے عوض جو اس کے پیٹ میں اترا اس کا بھی اجر ہوگا، یہاں تک کہ فرمایا : اس کے بول وبراز (گوبر) میں بھی اجر ہے اور اگر وہ ایک دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم کے بدلے اسے اجر ہوگا، لیکن وہ جو اس کے لیے پردہ (ڈھال) ہوگا وہ یہ ہے جسے انسان خوبصورتی اور عظمت کے لیے رکھتا ہے، مگر وہ اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تنگی و آسانی میں، لیکن وہ جو اس کے لیے بوجھ ہوگا وہ یہ ہے جسے اس نے غرور وتکبر اور ریا و دکھلا وے کے لیے رکھا وہ یہ ہے جو اس کے لیے بوجھ ہوگا۔ انھوں نے کہا : پھر گدھے کے بارے میں کیا ہے ؟ اے اللہ کے رسول ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ پر کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس جامع آیت کے { مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ } ۔
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔
7227
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لاَوِی الصَّدَقَۃِ مَلْعُونٌ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سُفْیَانَ ، وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
(٧٢٢٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : صدقہ دے کر واپس لینے والا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے قیامت کے دن ملعون ٹھہرایا گیا ہے۔
7228
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَامِرٍ الْعُقَیْلِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عُرِضَ عَلَیَّ أَوَّلُ ثَلاَثَۃٍ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ وَأَوَّلُ ثَلاَثَۃٍ یَدْخُلُونَ النَّارَ۔ فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلاَثَۃٍ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ فَالشَّہِیدُ ، وَعَبْدٌ أَدَّی حَقَّ اللَّہِ وَنَصَحَ لِسَیِّدِہِ ، وَفَقِیرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِیَالٍ ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلاَثَۃٍ یَدْخُلُونَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلِّطٌ ، وَذُو ثَرْوَۃٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ یُعْطِ حَقَّ مَالِہِ ، وَفَقِیرٌ فَخورٌ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الترمذی]
(٧٢٢٧) حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن تین قسم کے لوگ جو سب سے پہلے جنت اور جہنم میں داخل کئے جائیں گے ، انھیں جنت میں میرے رو برو پیش کیا جائے گا سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں سے شہید ہوگا اور دوسرا وہ ہوگا جس نے حقوق اللہ ادا کیے ہوں گے اور اپنے مالک کی خیر خواہی کی ہوگی اور تیسرا عیال دار فقیر ہوگا جو سوال کرنے سے بچتا رہا ہوگا اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں ایسا بادشاہ جو لوگوں پر مسلط ہوا ہوگا۔ اور ایسا مال دار آدمی جس نے مال کا حق ( زکوۃ ) ادا نہ کی ہوگی اور فخر کرنے والا فقیر۔
7229
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ الْمَاعُونَ قَالَ : الزَّکَاۃُ الْمَفْرُوضَۃُ۔ وَہَذَا الْقَوْلُ أَیْضًا رُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَہُوَ إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ قَوْلُ أَبِی الْعَالِیَۃِ وَالْحَسَنِ وَمُجَاہِدٍ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبری]
(٧٢٢٨) حضرت علی (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (الماعون) کے متعلق فرماتے ہیں : اس سے مراد فرض زکوۃ ہے اور اسی طرح یہ قول ابن عمر اور انس بن مالک سے بھی منقول ہے۔
7230
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبٍ أَخْبَرَنَا أَبِی عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ - وَہُوَ أَخُو زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَبْدُ اللَّہِ ابْنِ عُمَرَ نَمْشِی فَلَحِقَنَا أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : أَنْتَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : سَأَلْتُ عَنْکَ فَدُلِلْتُ عَلَیْکَ فَأَخْبِرْنِی : أَتَرِثُ الْعَمَّۃُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لاَ أَدْرِی فَقَالَ : أَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَلاَ تَدْرِی، وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی أَنْتَ لاَ تَدْرِی وَلاَ نَدْرِی قَالَ: نَعَمِ اذْہَبْ إِلَی الْعُلَمَائِ بِالْمَدِینَۃِ فَسَلْہُمْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَبَّلَ ابْنُ عُمَرَ یَدَیْہِ فَقَالَ : نِعِمَّا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : یُسْأَلُ عَمَّا لاَ یَدْرِی فَقَالَ : لاَ أَدْرِی فَقَالَ الأَعْرَابِیُّ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ} فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ کَنَزَہُمَا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُمَا فَوَیْلٌ لَہُ۔ إِنَّمَا کَانَ ہَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّکَاۃُ فَلَمَّا نَزَلَتْ جَعَلَہَا اللَّہُ طُہْرَۃً الأَمْوَالِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : مَا أُبَالِی لَوْ کَانَ لِی مِثْلُ أُحُدٍ ذَہَبًا أَعْلَمُ عَدَدَہُ وَأُزَکِّیہِ وَأَعْمَلُ فِیہِ بِطَاعَۃِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا فَقَالَ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبِ وَأَعَادَہُ فِی التَّفْسِیرِ عَنْ أَحْمَدَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٢٢٩) خالد بن اسلم فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ایک اعرابی ملا، اس نے کہا : آپ عبداللہ بن عمر ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں اس نے کہا : میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور آپ کی طرف ہی میری رہنمائی کی گئی ہے، آپ مجھے بتائیے : کیا پھوپھی وارث ہوتی ہے تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : میں نہیں جانتا تو اس نے کہا : آپ ابن عمر ہیں اور یہ نہیں جانتے، اس نے دوسری مرتبہ کہا : آپ بھی نہیں جانتے اور ہم بھی نہیں جانتے ۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : ہاں آپ علمائِ مدینہ کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں، جب وہ پلٹا تو ابن عمر نے اس کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا : ابو عبد الرحمن نے ٹھیک کہا ہے کہ وہ بات پوچھی جا رہی ہے جو وہ جانتا نہیں تو میں نہیں جانتا تو اعرابی نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں “ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : جس نے اسے جمع کیا اور اس میں سے زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے لیے ہلاکت ہے۔ بیشک یہ زکوۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا ، جب زکوۃ کا حکم نازل ہوا تو اسے اللہ تعالیٰ نے مال کی پاکیزگی کا باعث بنادیا۔ پھر میری طرف دیکھا تو فرمایا : مجھے کوئی پروا نہیں اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی ہو میں اس کی مقدار کو جانتا ہوں تو اسے پاک کرتا رہوں گا اور اس میں اللہ کے حکم کے تحت عمل کروں گا۔
7231
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کُلُّ مَا أُدِّیَتْ زَکَاتُہُ وَإِنْ کَانَ تَحْتَ سَبْعِ أَرْضِینَ فَلَیْسَ بِکَنْزٍ ، وَکُلُّ مَالٍ لاَ تُؤَدَّی زَکَاتُہُ فَہُوَ کَنْزٌ وَإِنْ کَانَ ظَاہِرًا عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ نَافِعٍ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ وَقَدْ رَوَاہُ سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ الطبری]
(٧٢٣٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : وہ تمام قسم کا مال جس کی زکوۃ ادا کی جائے اگرچہ وہ ساتوں زمینوں کے نیچے بھی ہو وہ ” کنز “ نہیں ہے اور ہر وہ مال جس کی زکوۃ ادا نہ کی جائے، وہ کنز ہے اگرچہ وہ زمین کے اوپر ٹھہرا ہو۔