Sunan Al Bayhaqi
44. باری مقرر کرنے کا بیان
سنن البيهقي
14709
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ فَالأَمِیرُ رَاعٍ عَلَی النَّاسِ وَہُوَ مَسْئُولٌ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَہْلِہِ وَہُوَ مَسْئُولٌ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلَی بَیْتِ زَوْجِہَا وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَیِّدِہِ وَہُوَ مَسْئُولٌ أَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ أَبِی النُّعْمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۹۳]
(١٤٧٠٣) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سب ذمہ دار ہو، تم سب سے پوچھا جائے گا۔ امیر لوگوں کا ذمہ دار ہے، اس سے عوام کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ گھر کا فرد اعلیٰ اپنے گھر والوں کی طرف سے جوابدہ ہے، اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا، آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ تم میں ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔
14710
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا لِمَا عَظَّمَ اللَّہُ مِنْ حَقِّہِ عَلَیْہَا ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٤٧٠٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں کسی کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کا بہت زیادہ حق عورت پر رکھا ہے۔
14711
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الزِّیَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ النَّخَعِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ قَیْسٍ قَالَ : قَدِمْتُ الْحِیرَۃَ فَرَأَیْتُ أَہْلَہَا یَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَہُمْ فَقُلْتُ نَحْنُ کُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَیْہِ أَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی رَأَیْتُ قُلْتُ : نَحْنُ کُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوا أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِی أَکُنْتَ سَاجِدًا؟ ۔ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : فَلاَ تَفْعَلُوا فَإِنِّی لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا یُسْجَدُ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ النِّسَائَ أَنْ یَسْجُدْنَ لأَزْوَاجِہِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّہُ مِنْ حَقِّہِمْ عَلَیْہِنَّ ۔
رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ شَرِیکٍ فَقَالَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ۔ [حسن لغیرہ]
(١٤٧٠٥) شعبی قیس سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حیرہ شہر میں آیا تو وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کریں، میں نے واپس آکر جو دیکھا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا اور کہا کہ ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کرنا کیا تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو سجدہ کرو گے، میں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں، کیونکہ ان کے حقوق اللہ رب العزت نے ان پر رکھے ہیں۔
14712
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ حَصِینِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی قَالَتْ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی بَعْضِ الْحَاجَۃِ فَقَالَ : أَیْ ہَذِہِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ : کَیْفَ أَنْتِ لَہُ؟ ۔ قَالَتْ : مَا آلُوہُ إِلاَّ مَا عَجَزْتُ عَنْہُ۔ قَالَ : فَأَیْنَ أَنْتِ مِنْہ فَإِنَّمَا ہُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ ۔
[صحیح۔ اخرجہ الحمیدی ۳۵۸]
(١٤٧٠٦) حصین بن محصن کہتے ہیں کہ میری پھوپھی نے بیان کیا کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کسی کام کے لیے گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرا خاوند ہے ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری کیا حالت ہے اس کے لیے ؟ اس نے کہا : میں کمی نہیں کرتی جب تک میں عاجز نہ آجاؤں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس سے کہاں ہے ؟ وہ تیری جنت اور جہنم ہے۔
14713
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ نَہَارٍ الْعَبْدِیُّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِابْنَۃٍ لَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ ابْنَتِی قَدْ أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- : أَطِیعِی أَبَاکِ ۔ فَقَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ حَتَّی تُخْبِرَنِی مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ قَالَ : حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ أَنْ لَوْ کَانَتْ لَہُ قُرْحَۃٌ فَلَحِسَتْہَا مَا أَدَّتْ حَقَّہُ ۔ [حسن]
(١٤٧٠٧) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری اس بیٹی نے شادی سے انکار کردیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے باپ کی اطاعت کرو۔ وہ کہنے لگی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب تک آپ مجھے خاوند کا حق بیوی پر کیا ہے نہ بتائیں گے تو میں شادی نہ کروں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاوند کا حق بیوی پر اتنا ہے کہ اگر خاوند کو زخم ہو اور بیوی اس کے زخم کو چاٹ کر صاف کرے تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔
14714
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ إِلَی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانًا لَعَنَتْہَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ بخاری۵۱۹۳۔۵۱۹۴]
(١٤٧٠٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے تو وہ انکار کر دے اور خاوند نے ناراضگی کی حالت میں رات گذاری تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے ہیں۔
14715
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ مُہَاجِرَۃً لِفِرَاشِ زَوْجِہَا لَعَنَتْہَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ أَوْ تُرَاجِعَ ۔
شَکَّ أَبُو دَاوُدَ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ثُمَّ فِی رِوَایَۃِ بَعْضِہِمْ : حَتَّی تُصْبِحَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ بَعْضِہِمْ : حَتَّی تَرْجِعَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٧٠٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو اس کے صبح یا لوٹنے تک فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
(ب) بعض کی روایات میں کہ وہ صبح کرے اور بعض کی روایات میں کہ وہ واپس پلٹے۔
(ب) بعض کی روایات میں کہ وہ صبح کرے اور بعض کی روایات میں کہ وہ واپس پلٹے۔
14716
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَہُ لِحَاجَتِہِ فَلْتُجِبْہُ وَإِنْ کَانَتْ عَلَی التَّنُّورِ ۔ [ضعیف]
(١٤٧١٠) حضرت طلق بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جب مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اگر وہ تنور پر بھی ہو تو اس کی بات مانے۔
14717
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی : أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمَ الشَّامَ فَرَآہُمْ یَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِہِمْ وَأَسَاقِفَتِہِمْ فَرَوَّی فِی نَفْسِہِ أَنْ یَفْعَل ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمَّا قَدِمَ سَجَدَ بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فَأَنْکَرَ ذَلِکَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَیْتُہُمْ یَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِہِمْ وَأَسَاقِفَتِہِمْ فَرَوَّیْتُ فِی نَفْسِی أَنْ أَفْعَلَ ذَلِکَ بِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا کُلِّہِ حَتَّی إِنْ لَوْ سَأَلَہَا نَفْسَہَا وَہِیَ عَلَی قَتَبٍ أَعْطَتْہُ أَوْ قَالَ لَمْ تَمْنَعْہُ ۔ [صحیح۔ بدون القصۃ]
(١٤٧١١) عبداللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) شام آئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو اس نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسے کریں گے، وہ واپس آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کرنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا، وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میں شام آیا تو وہاں کے لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کر رہے تھے تو میں نے دل میں سوچا کہ میں آپ کے ساتھ ایسا کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عورت اتنی دیر اللہ کا بھی حق ادا نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے۔ اگر وہ اپنی ضرورت کا سوال کرے اور وہ پالان پر بھی ہو تب بھی اس کے پاس آئے یا فرمایا : اس کو نہ روکے۔
14718
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الرُّزْجَاہِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَصُومُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ وَلاَ تَأْذَنُ فِی بَیْتِہِ وَہُوَ شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہِ عَنْ غَیْرِ أَمْرِہِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِہِ لَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ بخاری ۵۱۹۲]
(١٤٧١٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت خاوند کی موجودگی میں نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دے اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے خرچ نہ کرے۔ بیشک خرچ کرنے کا نصف اجر اس کو ملے گا۔