Sunan Al Bayhaqi
10. جنازوں کا بیان
سنن البيهقي
6909
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوصَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَ إِنْسَانٌ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُہُ فَدَفَنُوہُ بِاللَّیْلِ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوہُ بِمَوْتِہِ فَقَالَ: ((مَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تُعْلِمُونِی؟))۔ فَقَالُوا: کَانَ اللَّیْلُ وَکَانَتِ الظُّلْمَۃُ فَکَرِہْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَیْکَ۔ فَأَتَی قَبْرَہُ فَصَلَّی عَلَیْہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٩٠٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص فوت ہوگیا جس کی تیمار داری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے، اسے رات میں ہی دفن کردیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی موت سے آگاہ کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کس نے منع کیا کہ مجھے اطلاع دیتے تو انھوں نے کہا کہ اندھیری رات تھی، اس لیے ہم نے آپ کو مشقت میں ڈالنا پسند نہ کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر پر آئے اور نمازِ جنازہ ادا کی۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں محمد سے اور انھوں نے ابو معاویہ سے بیان کیا اور مسلم نے دوسری سند سے شیبانی سے مختصاً بیان کیا۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں محمد سے اور انھوں نے ابو معاویہ سے بیان کیا اور مسلم نے دوسری سند سے شیبانی سے مختصاً بیان کیا۔
6910
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَوْ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ : رَأَی نَاسٌ نَارًا فِی الْمَقْبَرَۃِ فَأَتَوْہَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْقَبْرِ وَإِذَا ہُوَ یَقُولُ : ((نَاوِلُونِی صَاحِبَکُمْ))۔ وَإِذَا ہُوَ الَّذِی کَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالذِّکْرِ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ ذَلِکَ کَانَ لَیْلاُ وَکَانَ مَعَہُ الْمِصْبَاحُ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
(٦٩١٠) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں نے قبرستان میں آگ دیکھی تو وہ وہاں آئے تو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر میں ہیں اور کہہ رہے ہیں : مجھے اپنا ساتھی پکڑاؤ اور یہ وہ تھا جو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آواز بلند کرتا تھا۔
ابو ذر (رض) سے یہ روایت ہے کہ یہ رات کا وقت تھا اور آپ کے ساتھ چراغ تھا۔
ابو ذر (رض) سے یہ روایت ہے کہ یہ رات کا وقت تھا اور آپ کے ساتھ چراغ تھا۔
6911
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ وَعَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَتْ حَدِیثًا ثُمَّ قَالَتْ قَالَ : فِی أَیِّ یَوْمٍ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قُلْتُ : یَوْمَ الاِثْنَیْنِ قَالَ : أَرْجُو فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ اللَّیْلِ۔ قَالَتْ : فَلَمْ یُتَوَفَّ حَتَّی أَمْسَی لَیْلَۃَ الثُّلاَثَائِ فَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ یُصْبِحَ قَالَتْ وَقَدْ قَالَ : فِی کَمْ کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قُلْتُ : فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ سَحُولِیَّۃٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ ، وَلاَ عِمَامَۃٌ۔ فَنَظَرَ إِلَی ثَوْبٍ کَانَ یُمَرَّضُ فِیہِ فِیہِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ أَوْ مَِشْقٍ فَقَالَ : اغْسِلُوا ثَوْبِی ہَذَا وَزِیدُوا فِیہِ ثَوْبَیْنِ وَکَفِّنُونِی فِیہَا ۔ قُلْتُ : إِنَّ ہَذَا خَلَقٌ قَالَ : إِنَّ الْحَیَّ أَحَقُّ بِالْجَدِیدِ مِنَ الْمَیِّتِ إِنَّمَا ہُوَ لِلْمُہْلَۃِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَبَّاسِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَلَّی بْنِ أَسَدٍ وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دُفِنَ لَیْلاً۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- دُفِنَتْ لَیْلاً۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ دُفِنَ بَعْدَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔ وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ صَلَّی عَلَی عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ صَلَّوُا الصُّبْحَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٩١١) سیدہ عائشہ (رض) نے روایت ہے کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس گئی اور حدیث بیان کی۔ پھر وہ فرماتی ہیں کہ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس دن فوت ہوئے تھے ؟ میں نے کہا : پیر کے دن تو انھوں نے کہا : مجھے امید ہے کہ میرے اور موت کے درمیان رات ہے۔ آپ (رض) منگل کی شام فوت ہوئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کردیے گئے ، انھوں نے پوچھا : کتنے کپڑوں میں آپ کو کفن دیا گیا ؟ میں نے کہا : تین یمنی چاروں میں ، جس میں قمیص نہیں تھی اور نہ ہی پگڑی تھی تو انھوں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جس میں وہ بیمار ہوئے تھے ، جس میں زعفران کستوری کی آمیزش تھی تو انھوں نے کہا : میرے ان کپڑوں کو دھو ڈالو اور اس میں دو کپڑوں کا اضافہ کر کے مجھے کفن دینا ۔ میں نے کہا : یہ پرانے ہیں تو انھوں نے کہا : زندہ لوگ نئے کپڑوں کے مردہ سے زیادہ حق دار ہیں بیشک یہ مہلت کے لیے تھے۔
سیدہ عائشہ (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور ابن عباس (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں دفن کیا گیا۔ عثمان بن عفان (رض) سے نقل کیا گیا کہ عشا کے آخری وقت میں دفن کیا گیا۔ کتاب الصلوٰۃ میں ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ (رض) کا جنازہ صبح کی نماز کے بعد پڑھا۔
سیدہ عائشہ (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور ابن عباس (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں دفن کیا گیا۔ عثمان بن عفان (رض) سے نقل کیا گیا کہ عشا کے آخری وقت میں دفن کیا گیا۔ کتاب الصلوٰۃ میں ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ (رض) کا جنازہ صبح کی نماز کے بعد پڑھا۔
6912
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ بِإِسْنَادٍ لاَ أَحْفَظُہُ : أَنَّہُ صُلِّیَ عَلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالشَّمْسُ مُصْفَرَّۃٌ قَبْلَ الْمَغِیبِ قَلِیلاً وَلَمَ یَنْتَظِرُوا بِہِ مَغِیبَ الشَّمْسِ۔ [ضعیف جداً]
(٦٩١٢) امام شافعی فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے ہمیں بتلایا، مجھے سند یاد نہیں کہ عقیل بن ابی طالب کی نماز جنازہ پڑھائی گئی تو سورج زرد ہوچکا تھا۔ غروب ہونے سے پہلے اور انھوں نے اس کے غروب ہونے کا انتظار نہ کیا۔
6913
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَعْنِی الْجُہَنِیَّ یَقُولُ : ثَلاَثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَانَا أَنْ نُصَلِّیَ فِیہِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِیہِنَّ مَوْتَانَا حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتَّی تَرْتَفِعَ ، وَحِینَ یَقُومُ قَائِمُ الظَّہِیرَۃِ حَتَّی تَمِیلَ الشَّمْسُ ، وَحِینَ تَضَیَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔ وَرَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ثَلاَثِ سَاعَاتٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَۃَ : أَیُدْفَنُ بِاللَّیْلِ؟ قَالَ : نَعَمْ قَدْ دُفِنَ أَبُو بَکْرٍ بِاللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]
(٦٩١٣) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں : تین اوقات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے : جب سورج چڑھ رہا ہو حتیٰ کہ وہ طلوع نہ ہوجائے اور جب وہ دوپہر کے وقت کھڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک طرف جھک نہ جائے اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ غروب نہ ہوجائے۔
6914
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۴) أَخْبَرَنَاہُ عُلَیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ الاوسط]
(٦٩١٤) یزید بن زریع فرماتے ہیں : ہمیں روح بن قاسم نیحدیث بیان کی تو انھوں نے اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔
6915
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَرْمَلَۃَ : أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ تُوُفِّیَتْ وَطَارِقٌ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فَأُتِیَ بِجَنَازَتِہَا بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَوُضِعَتْ بِالْبَقِیعِ قَالَ وَکَانَ طَارِقٌ یُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ قَالَ ابْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لأَہْلِہَا : إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآنَ وَإِمَّا أَنْ تَتْرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک]
(٦٩١٥) محمد بن ابو حرملۃ فرماتے ہیں : زینب بنت ابو سلمہ فوت ہوگئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے ۔ ان کے پاس ایک جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتا تھا۔ ابو حرملہ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سناوہ اپنے گھر والوں کو کہہ رہے تھے ؟ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔
6916
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی زِیَادٌ أَنَّ عَلِیًّا أَخْبَرَہُ: أَنَّ جَنَازَۃً وُضِعَتْ فِی مَقْبَرَۃِ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ حِینَ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہَا حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ۔ فَأَمَرَ أَبُو بَرْزَۃَ الْمُنَادِی فَنَادَی بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ أَقَامَہَا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَرْزَۃَ فَصَلَّی بِہِمُ الْمَغْرِبَ وَفِی النَّاسِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَأَبُو بَرْزَۃَ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّوْا عَلَی الْجَنَازَۃِ۔[ضعیف۔ عبد الرزاق]
(٦٩١٦) زیاد فرماتے ہیں کہ اہل بصرہ نے قبرستان میں جنازہ رکھا، جب دھوپ زرد ہوچکی تھی۔ پھر حضرت علی (رض) کو خبر دی تو انھوں نے سورج کے غروب ہونے تک جنازہ نہ پڑھا۔ پھر مؤذن ابو برذہ کو اذان کا کہا، انھوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی گئی اور برزہ آگے بڑھے اور انھیں مغرب کی نماز پڑھائی اور لوگوں میں انس بن مالک (رض) اور انصاریوں میں سے ابو برزہ (رض) تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیگر صحابہ بھی تھے، پھر انھوں نے جنازہ پڑھا۔
6917
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَبَ یَوْمًا فَذَکَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ قُبِضَ فَکُفِّنَ فِی کَفَنٍ غَیْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَیْلاً فَزَجَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّیْلِ حَتَّی یُصَلَّی عَلَیْہِ إِلاَّ أَنْ یُضْطَرُّوا إِلَی ذَلِکَ۔ وَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِذَا کَفَّنَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحَسِنْ کَفَنَہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ المسلم]
(٦٩١٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور اپنے صحابہ میں سے ایک کا تذکرہ کیا جو فوت ہوگیا اور اسے کوئی عمدہ کفن نہ دیا گیا اور رات ہی میں دفن کردیا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈانٹا اور فرمایا : جب تک جنازہ نہ پڑھا جائے رات کو دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔
6918
Sunan Al Bayhaqi(۶۹۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : فَقَدَ النَّبِیُّ -ﷺ- امْرَأَۃً سَوْدَائَ کَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِیدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : ((أَیْنَ فُلاَنَۃُ))۔ قَالُوا : مَاتَتْ قَالَ : ((أَفَلاَ آذَنْتُمُونِی))۔ قَالُوا : مَاتَتْ مِنَ اللَّیْلِ وَدُفِنَتْ فَکَرِہْنَا أَنْ نُوقِظَکَ۔ فَذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی قَبْرِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَقَالَ : ((إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَلاَ تَدَعُوا أَنْ تُؤْذِنُونِی))۔ [حسن۔ ابن خزیمہ]
(٦٩٢٨) ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کالی عورت کو گم پایا جو مسجد سے تنکے وغیرہ اٹھاتی اور صفائی کرتی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فلاں عورت کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ فوت ہوچکی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ انھوں نے کہا : وہ رات کو فوت ہوئی تھی اور دفن کردی گئی۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر پر گئے اور نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا : جب مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہوجائے تو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو۔