hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

20. پابندی کا بیان

سنن البيهقي

11299
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ؟ فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلِعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ لِنَفْسِہِ ضَعِیفُ الْعَطَائِ مِنْہَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۱۲]
(١١٢٩٤) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدنے حضرت ابن عباس (رض) کی طرف خط لکھا، جس میں انھوں نے یہ سوال کیا تھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ تو مجھے قسم ہے ! جب آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے اور ابھی تک وہ اپنے لیے کچھ حاصل نہیں کرسکتا ، کچھ دے نہیں سکتا ہوتا اس لیے جب وہ اپنے لیے کوئی اچھی چیز حاصل کرے جیسے دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں تو اس وقت اس کی یتیمی ختم ہوجائے گی۔
11300
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ الْحَرُورِیُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ لِیَزِیدَ : اکْتُبْ إِلَیْہِ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْیَتِیمِ مَتَی یَنْقَطِعُ عَنْہُ اسْمُ الْیُتْمِ وَإِنَّہُ لاَ یَنْقَطِعُ عَنْہُ اسْمُ الْیُتْمِ حَتَّی یَبْلُغَ وَیُؤْنَسَ مِنْہُ الرُّشْدُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔
(١١٢٩٥) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس (رض) کی طرف خط لکھا، پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے یزید سے کہا : لکھ، آپ نے پوچھا کہ یتیم کو کب تک یتیم کہہ سکتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور اس سے رشد معلوم نہ ہو، یتیم کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں چیزیں واضح ہوجائیں تو یتیم نہیں رہے گا۔
11301
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۶) وَرَوَاہُ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَائِ یُتْمِ الْیَتِیمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْہُ رُشْدُہُ فَقَدْ انْقَضَی یُتْمُہُ فَادْفَعْ إِلَیْہِ مَالَہُ۔ أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ قَیْسًا فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح]
(١١٢٩٦) جریر بن حازم فرماتی ہیں کہ میں نے قیس سے سنا۔۔۔ بقیہ پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
11302
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ فِی الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃٍ فَلَمْ یُجِزْنِی فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَعُمَرُ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ حَدَّثْتُہُ بِہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا لْحَدٌّ بَیْنَ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ وَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ : أَنِ افْرِضُوا ابْنَ خَمْسَ عَشْرَۃَ وَمَا کَانَ سِوَی ذَلِکَ فَأَلْحِقُوہُ بِالْعِیَالِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۶۶۴، مسلم ۱۸۶۸]
(١١٢٩٧) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کے لیے مجھے حاضردیکھا اور میں اس وقت ١٤ سال کا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت نہیں دی۔ پھر جب خندق کا موقع آیا تو میں اس وقت پندرہ سال کا تھا، آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور حضرت عمر (رض) ان دنوں خلیفہ تھے۔ میں نے انھیں یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا : بڑے اور چھوٹے کے درمیان یہی حد ہے اور انھوں نے اپنے گورنروں کی طرف لکھا : پندرہ سال والے پر فرض کرو جو اس سے کم عمر ہوں انھیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملاؤ۔
11303
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُرَیْشٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَعَرَضَنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ َأَجَازَنِی قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَمَنْ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَاجْعَلُوہُ فِی الْعِیَالِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ۔
(١١٢٩٨) عبیداللہ نے مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا ہے، مگر اس میں صرف یہ زیادتی ہے اور خندق والے دن مجھے دیکھا اور میں اس وقت پندرہ سال کا تھا تو آپ نے مجھے جانے دیا۔ نافع کہتے ہیں : میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا پھر حدیث بیان کی اور انھوں نے یہ بھی کہا : اور جو اس سے کم عمر کا ہو اسے اس کے اہل و عیال کے ساتھ کردو۔
11304
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۹۹) وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِیہِ عِنْدَ قَوْلِہِ فَلَمْ یُجِزْنِی وَلَمْ یَرَنِی بَلَغْتُ أَخْبَرَنِیہِ الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتَحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِزِیَادَتِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ فِی الْعِیَالِ قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ حَرْفٌ غَرِیبٌ وَہْوَ قَوْلُہُ : وَلَمْ یَرَنِی بَلَغْتُ۔
(١١٢٩٩) مذکورہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف عیال کے الفاظ نہیں ہیں۔
11305
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۰۰) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ وَعَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عُرِضْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَاسْتَصْغَرَنِی ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَیْہِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ : عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَکَذَلِکَ قَالَہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ فَاسْتَصْغَرَنِی فَرَدَّنِی مَعَ الْغِلْمَانِ۔
(١١٣٠٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : احد کے دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر ١٤ سال تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چھوٹا قرار دیا۔ پھر اگلے سال خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے مجھے لڑائی کے لیے جانے دیا۔ مسلم کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مجھے چھوٹ اقرار دیا اور مجھے بچوں کی طرف لوٹا دیا۔
11306
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَاسْتَصْغَرَنِی وَرَدَّنِی مَعَ الْغِلْمَانِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِی وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ وَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ: أَنْ أَجِیزُوا فِی الْفَرْضِ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَۃَ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : لاَ أُرَی نَافِعًا إِلاَّ حَدَّثَہُ بِہَذَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ وَفِی حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَبِلَ ابْنَ عُمَرَ وَرَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُمَا ابْنَا خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً۔ رَوَاہُ إِسْحَاقُ عَنْ رَوْحٍ عَنْہُ۔
(١١٣٠١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد والے دن مجھے دیکھا، میں اس وقت ١٤ سال کا تھا۔ آپ نے مجھے چھوٹا قرار دیا اور مجھے بچوں میں بھیج دیا۔ جب خندق کا دن آیا تو آپ نے مجھے دیکھا۔ میں اس وقت پندرہ سال کا ہوچکا تھا۔ آپ نے مجھے جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی۔ عبیداللہ کہتے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ پندرہ سال والے کو فرض (جہاد ) میں شامل کرو۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عمر اور رافع بن خدیج کو خندق والے دن قبول کرلیا تھا اور وہ اس وقت پندرہ سال کی عمر کے تھے۔
11307
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عُرِضْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَوْمِ بَدْرٍ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَلَمْ یُجِزْنِی فِی الْمُقَاتِلَۃِ وَعُرِضْتُ عَلَیْہِ یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَلَمْ یُجِزْنِی فِی الْمُقَاتِلَۃِ وَعُرِضْتُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی فِی الْمُقَاتِلَۃِ۔
(١١٣٠٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : بدر والے دن مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا۔ میں اس وقت ١٣ سال کا تھا آپ نے مجھے مجاہدین میں شامل نہیں کیا۔ پھر مجھے احد والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں ١٤ سال کا تھا۔ آپ نے مجاہدین میں مجھے شامل نہیں کیا پھر مجھے خندق والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں پندرہ سال کا تھا، آپ نے مجاہدین میں مجھے شامل کرلیا۔
11308
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : ہَذِہِ مَغَازِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّتِی قَاتَلَ فِیہَا یَوْمَ بَدْرٍ فِی رَمَضَانَ مِنْ سَنَۃِ اثْنَتَیْنِ ثُمَّ قَاتَلَ یَوْمَ أُحُدٍ فِی شَوَّالٍ سَنَۃَ ثَلاَثٍ ثُمَّ قَاتَلَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یَوْمُ الأَحْزَابِ وَبَنَی قُرَیْظَۃَ فِی شَوَّالٍ سَنَۃَ أَرْبَعٍ ثُمَّ قَاتَلَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَبَنَی لِحْیَانَ فِی شَعْبَانَ مِنْ سَنَۃِ خَمْسٍ ثُمَّ قَاتَلَ یَوْمَ خَیْبَرَ مِنْ سَنَۃِ سِتٍّ ثُمَّ قَاتَلَ یَوْمَ الْفَتْحِ فِی رَمَضَانَ مِنْ سَنَۃِ ثَمَانٍ وَقَاتَلَ یَوْمَ حُنَیْنٍ وَحَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفِ فِی شَوَّالٍ سَنَۃَ ثَمَانٍ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۰۲۶]
(١١٣٠٣) ابن شہاب (رض) کہتے ہیں : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی ہیں، رمضان ٢ ھ؁ میں غزؤہ بدر ہوا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوال ٣ ھ میں غزؤہ احد لڑی۔ ٤ ھ میں غزؤہ خندق جسے احزاب بھی کہتے ہیں اور غزؤہ بنی قریظہ لڑی۔ پھر شعبان ٥ ھ میں غزؤہ بنی مصطلق اور غزؤہ بنی لحیان لڑی، ٦ ھ ؁ میں غزؤہ خیبر۔ رمضان، ٨ ھ ؁ میں غزؤہ فتح مکہ اور شوال ٨ ھ ؁ میں غزؤہ حنین اور اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔