Sunan Al Bayhaqi
51. عدت کا بیان
سنن البيهقي
15384
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۷۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْبَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیدَ بْنِ السَّکَنِ الأَنْصَارِیَّۃِ : أَنَّہَا طُلِّقَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یَکُنْ لِلْمُطَلَّقَۃِ عِدَّۃٌ فَأَنْزَلَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ حِینَ طُلِّقَتْ أَسْمَاء ُ بِالْعِدَّۃِ لِلطَّلاَقِ فَکَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَ فِیہَا الْعِدَّۃُ لِلطَّلاَقِ۔
(١٥٣٧٨) اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ (رض) سے روایت ہے کہ اسے (یعنی اسماء بنت یزید (رض) کو) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں طلاق دے دی گئی اور طلاق شدہ عورتوں کے لیے عدت نہیں تھی ۔ چنانچہ اللہ جل شانہ نے طلاق کی عدۃ کے متعلق اس وقت آیات نازل فرمائیں جب اسماء کو طلاق دی گئی۔ یہ پہلی عورت تھی جس کے بارے میں طلاق کی عدت نازل ہوئی۔
[حسن۔ اخرجہ السجستانی ٢٢٨١]
[حسن۔ اخرجہ السجستانی ٢٢٨١]
15385
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۷۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عِدَّۃُ النِّسَائِ فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی الْمُطَلَّقَۃِ وَالْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا قَالَ قَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ یَقُولُونَ قَدْ بَقِیَ مِنَ النِّسَائِ مَا لَمْ یُذْکَرْ فِیہِ شَیْء ٌ قَالَ : وَمَا ہُوَ۔ قَالَ الصِّغَارُ وَالْکِبَارُ وَذَوَاتُ الْحَمْلِ قَالَ فَنَزَلَتْ {وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ وَالَّلائِی لَمْ یَحِضْنَ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} ۔ [ضعیف]
(١٥٣٧٩) ابو عثمان (رض) سے روایت ہے جب سورة بقرہ میں مطلقہ عورتوں اور جن کے خاوند کی عدۃ نازل ہوئی تو ابو عثمان (رض) فرماتے ہیں : ابی بن کعب نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اہل مدینہ کے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں : یقیناً عورتوں میں وہ رہ گئی ہیں جن کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کون ہیں ؟ ابی بن کعب نے کہا : چھوٹی عورتیں اور بوڑھیاں اور حمل والیاں۔ ابو عثمان (رض) نے فرمایا : پھر یہ آیت نازل ہوئی : { وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ وَالَّلائِی لَمْ یَحِضْنَ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } ” اور وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہیں اگر تم شک کرو تو ان کی عدۃ تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا اور حمل والی عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہوجانا ہے، (یعنی بچے کا پیدا ہوجانا) ۔
15386
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ثُمَّ لِیُمْسِکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیضَ ثُمَّ تَطْہُرَ ثُمَّ إِنْ شَائَ أَمْسَکَ بَعْدَ ذَلِکَ وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَاء ُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے]
(١٥٣٨٠) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں طلاق دے دی عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرلے، پھر وہ اس کو روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر وہ حائضہ ہو، پھر پاک ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اس کو روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس کو چھونے سے پہلے طلاق دے دے۔ یہ وہ عدۃ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
15387
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَیْمَنَ یَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَبُو الزُّبَیْرِ یَسْمَعُ قَالَ : کَیْفَ تَرَی فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ حَائِضًا۔قَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لِیُرَاجِعْہَا ۔ فَرَدَّہَا عَلَیَّ وَقَالَ : إِذَا طَہَرَتْ فَلْیُطَلِّقْ أَوْ یُمْسِکْ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَرَأَ النَّبِیُّ -ﷺ- { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ } فِی قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے]
(١٥٣٨١) ابن جریج فرماتے ہیں : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ اس نے عبدالرحمن بن ایمن سے سنا کہ عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے سوال کیا گیا اور ابو زبیر (رض) سن رہے تھے، فرماتے ہیں : آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دی ؟ فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں طلاق دی، عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اور کہا کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اس سے رجوع کرے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور فرمایا : ” جب وہ پاک ہوجائے تو وہ اس کو طلاق دے دے یا اس کو روک لے۔ “ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوہُنَّ } ” اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت میں طلاق دو ۔ “
15388
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا انْتَقَلَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ حِینَ دَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ : صَدَقَ عُرْوَۃُ وَقَدْ جَادَلَہَا فِی ذَلِکَ أُنَاسٌ وَقَالُوا إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ { ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ } فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَتَدْرُونَ مَا الأَقْرَاء ُ إِنَّمَا الأَقْرَاء ُ الأَطْہَارُ۔
قَالاَ وَأَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ : مَا أَدْرَکْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَہَائِنَا إِلاَّ وَہُوَ یَقُولُ ہَذَا یُرِیدُ الَّذِی قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : صَدَقْتُمْ وَہَلْ تَدْرُونَ مَا الأَقْرَاء ُ؟ الأَقْرَاء ُ الأَطْہَارُ۔
[صحیح۔ اس کو مالک نے نکالا ہے]
(١٥٣٨٢) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق (رض) منتقل ہوئیں جب وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میں نے یہ معاملہ عمرۃ بنت عبدالرحمن سے ذکر کیا، فرماتی ہیں : عمرۃ نے سچ کہا اور اس بارے میں لوگوں نے جھگڑا کیا اور انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے { ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ } تین قروء۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : کیا تم جانتے ہو الاقرأ کیا ہے ؟ الاقرا سے مراد طہر ہے۔
15389
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : الأَقْرَاء ُ الأَطْہَارُ۔ [صحیح]
(١٥٣٨٣) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ قروء سے مراد طہر ہیں۔
15390
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَۃُ فِی الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ۔ [صحیح]
(١٥٣٨٤) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب طلاق شدہ عورت تیسرے حیض میں داخل ہوجائے تو وہ اسی سے بری ہوگئی۔
15391
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ وَزَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ الأَحْوَصَ ہَلَکَ بِالشَّامِ حِینَ دَخَلَتِ امْرَأَتُہُ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ وَکَانَ قَدْ طَلَّقَہَا وَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ زَیْدٌ أَنَّہَا إِذَا دَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ وَبَرِئَ مِنْہَا وَلاَ تَرِثُہُ وَلاَ یَرِثُہَا وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ : وَقَدْ کَانَ طَلَّقَہَا ، وَالْبَاقِی سَوَاء ٌ۔ [صحیح۔ اس کو مالک نے نکالا ہے]
(١٥٣٨٥) سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ جب احوص شام میں ہلاک ہوگئے، جب اس کی بیوی تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی اور اس نے اُس کو طلاق دے دی تھی۔ معاویہ بن ابی سفیان نے زید بن ثابت کی طرف (خط) لکھا، وہ اس کے بارے میں زید سے سوال کر رہے تھے ۔ زید بن ثابت نے اس کی طرف لکھا کہ جب وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی تو وہ اس سے بری اور وہ اس سے بری اور وہ نہ اس کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی وہ (خاوند) اس کا وارث بن سکتا ہے اور امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے : وَقدْ کانَ طَلَّقَہَا کے الفاظ ہیں باقی اسی طرح ہے۔
15392
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی زَیْدٍ فَکَتَبَ زَیْدٌ إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَۃُ فِی الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ۔ [صحیح]
(١٥٣٨٦) سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ معاویہ نے زید کی طرف لکھا ۔ زید نے لکھا : جب وہ طلاق شدہ تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو وہ اس (خاوند) سے بری ہوگئی۔
15393
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۳۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ فَدَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ وَبَرِئَ مِنْہَا وَلاَ تَرِثُہُ وَلاَ یَرِثُہَا۔ [صحیح]
(١٥٣٨٧) نافع سے روایت ہے وہ ابن عمر سے نقل فرماتے ہیں کہ اُس نے کہا : وہ کہتا ہے جب آدمی اپنی عورت کو طلاق دے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوجائے تو وہ اس سے بری ہے اور وہ اس سے بری ہے اور نہ بیوی خاوند کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی خاوند اس کا وارث بن سکتا ہے۔