hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

52. رضاعت کا بیان

سنن البيهقي

15611
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ عِنْدَہَا وَإِنَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُرَاہُ فُلاَنًا ۔ لِعَمِّ حَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ کَانَ فُلاَنٌ حَیًّا لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یَدْخُلُ عَلَیَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٠٥) عمرہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تھے۔ انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ حفصہ (رض) کے گھر میں داخلے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کو جانتاہوں، وہ حفصہ (رض) کا رضاعی چچا ہے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر فلاں یعنی اس کا چچا رضاعی زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہوسکتا تھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! رضاعت ان رشتوں کو حرام کرتی ہے جو پیدائش حرام کرتی ہے۔
یہ الفاظ امام شافعی کی حدیث کے ہیں۔ اس کو امام بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس اور اس کے علاوہ دیگر رواۃ سے نقل کیا ہے اور اس کو امام مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
15612
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ الْبَرِیدِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ ہَاشِمٍ۔ [صحیح]
(١٥٦٠٦) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو رشتے پیدائش سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے حرام ہوتے ہیں۔ اس کو امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں ابو معمر ہذلی عن علی بن ہاشم کی سند سے روایت کیا ہے۔
15613
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلَیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِی الْقُعَیْسِ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ لَہُ : لاَ آذَنُ لَکَ حَتَّی أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنَّ أَخَا أَبِی الْقُعَیْسِ لَیْسَ ہُوَ أَرْضَعَنِی وَلَکِنْ أَرْضَعَتْنِی امْرَأَۃُ أَبِی الْقُعَیْسِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِی الْقُعَیْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ حَتَّی أَسْتَأْذِنَکَ فِی ذَلِکَ۔ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَمَا یَمْنَعُکِ أَنْ تَأْذَنِی لِعَمِّکِ؟ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ الرَّجُلَ لَیْسَ ہُوَ أَرْضَعَنِی وَلَکِنْ أَرْضَعَتْنِی امْرَأَتُہُ۔ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ائْذَنِی لَہُ فَإِنَّہُ عَمُّکِ تَرِبَتْ یَمِینُکِ ۔ قَالَ عُرْوَۃُ فَبِذَلِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عُقَیْلٍ : بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللَّہِ لاَ آذَنُ لَہُ حَتَّی أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَالْبَاقِی نَحْوَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَعَن أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٠٧) عروۃ بن زبیر فرماتے ہیں : عائشہ (رض) سے فرماتی ہیں : افلح ابو قیس کے بھائی نے مجھپر (داخل ہونے کی) اجازتطلب کی پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد۔ میں نے اسے کہا : میں تجھے اجازت نہیں دیتی حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لوں۔ ابو قیس کے بھائی نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا اور ابو قیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں : مجھ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! افلح ابو قیس کے بھائی نے مجھ پر داخل ہونے کی اجازت طلب کی میں نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیاحتیٰ کہ اس کے بارے میں آپ سے اجازت لے لوں۔ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تجھے کس چیز نے اپنے چچا کو اجازت دینے سے روکا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک مجھے آدمی نے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کو اجازت دے، بیشک وہ تیرا چچا ہے تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
عروہ فرماتے ہیں : اس کے ساتھ عائشہ (رض) فرماتی تھیں : تم رضاعت سے حرام قرار دو جو تم نسب سے حرام کرتے ہو ۔
یہ شعیب بن ابی حمزہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے حجاب کے حکم نازل ہونے کے بعد میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کو اجازت نہیں دوں گی۔ یہاں تک کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال نہ کرلوں اور باقی اسی طرح ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔
15614
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ بِہَذَا الْحَدِیثِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
(١٥٦٠٨) ہمیں یونس نے ابن شہاب سے اسی روایت کی خبر دی۔ اس کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں حرملہ عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
15615
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ عَمَّہَا أَخَا أَبِی الْقُعَیْسِ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَہُ حَتَّی یَأْتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَسْتَأْذِنَہُ فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَتْ: جَائَ عَمِّی أَخُو أَبِی الْقُعَیْسِ فَرَدَدْتُہُ حَتَّی أَسْتَأْذِنَکَ فَقَالَ: أَوَلَیْسَ بِعَمِّکِ؟ قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ۔ قَالَ: إِنَّہُ عَمُّکِ فَیَلِجُ عَلَیْکِ۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٠٩) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے عائشہ (رض) نے خبر دی کہ ان کا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا، ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ عائشہ (رض) نے اسے اجازت دینے سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیں اور وہ آپ سے اجازت مانگے ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیتو انھوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا میرا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا تھا، میں نے اس کو واپس بھیج دیا حتیٰ کہ میں آپ سے اجازت لوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ تیرا چچا نہیں ہے، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ آپ نے فرمایا : وہ تیرا چچا ہے وہ تیرے پاس آسکتا ہے۔ عائشہ (رض) رضاعت سے تھیں حرام قرار دیتی جو پیدائش سے حرام ہوتا۔
15616
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِی الْقُعَیْسِ فَلَمْ آذَنْ لَہُ فَقَالَ : أَتَحْتَجِبِینَ مِنِّی وَأَنَا عَمُّکِ؟ قَالَتْ قُلْتُ : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ : أَرْضَعَتْکِ امْرَأَۃُ أَخِی بِلَبَنِ أَخِی ۔ قَالَتْ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : صَدَقَ أَفْلَحُ فَائْذَنِی لَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١٠) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھ سے ابو قعیس کے بھائی افلح نے اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت نہیں دی۔ اس نے کہا : کیا تو مجھ سے پردہ کرتی ہے اور میں تیرا چچا ہوں۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : یہ کیسے ؟ اس نے کہا : تجھے میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : افلح نے سچ کہا تو اس کو اجازت دے۔
اس کو بخاری نے صحیح میں آدم سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ایک دوسری سند عن شعبہ سے نکالا ہے۔
15617
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ عَمَّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یُسَمَّی أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا فَحَجَبَتْہُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : لاَ تَحْتَجِبِی فَإِنَّہُ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١١) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اس سے پردہ کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس سے پردہ نہ کر۔ کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجائے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں اس کو مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔
15618
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَنْبَرٍ أَخْبَرَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أُرِیدَ عَلَی ابْنَۃِ حَمْزَۃَ فَقَالَ : إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَإِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ہُدْبَۃَ : إِنَّہَا لاَ تَصْلُحُ لِی إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَیَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہُدْبَۃَ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١٢) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حمزہ کی بیٹی کا ارادہ کیا گیا، آپ نے فرمایا : وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے حرام کیا ہے جو نسب سے حرام کیا ہے اور ہدبہ کی روایت میں ہے کہ وہ میرے لیے درست نہیں ہے کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے جو حرام ہوتا ہے نسب سے بھی وہ حرام ہوتا ہے۔
بخاری نے اس کو صحیح میں مسلم بن ابراہیم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ہدبہ بن خالد سے روایت کیا ہے۔
15619
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لِی أَرَاکَ تَنَوَّقُ فِی قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا؟ قَالَ : عِنْدَکَ شَیْئٌ؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمِ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ۔ قَالَ : إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیِّ۔ [صحیح۔ ۱۴۴۶]
(١٥٦١٣) علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے قریش اور ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا : تیرے پاس کوئی چیز ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں ! حمزہ کی بیٹی، آپ نے فرمایا : وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں محمد بن ابی بکر مقدمی سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
15620
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُسْلِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ قِیلَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَیْنَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَنِ ابْنَۃِ حَمْزَۃَ أَوْ قِیلَ لاَ تَخْطُبُ ابْنَۃَ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ : إِنَّ حَمْزَۃَ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ الأَیْلِیِّ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١٤) حمید بن عبدالرحمن فرماتی ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ام سلمہ سے سنا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیکہا گیا : حمزہ کی بیٹی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے یا کہا گیا : آپ حمزہ بن عبدالمطلب کی بیٹی کو نکاح کا پیغام نہیں بھیجتے ! آپ نے فرمایا : بیشک حمزہ میرا رضاعی بھائی ہے۔
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ہارون ایلی اور اس کے علاوہ ابن وہب سے روایت کیا ہے۔