Sunan Al Bayhaqi
65. مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
سنن البيهقي
19733
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الآجُرِّیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو یَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی عَلِیٍّ : ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ أَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ {وَأَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۷]
(١٩٧٢٧) عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : { وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ } ” ان کے ساتھ مقابلہ کے لیے جس قدر ممکن ہو تیار رکھو۔ “ اس آیت میں ” القوۃ “ سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ کلمات تین بار دھرائے۔
19734
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۲۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدِ بْنِ یَعْقُوب أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَم أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْب أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی عَلِیٍّ الْہَمْدَانِیِّ أَنَّہ سَمِع عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : سَتُفْتَحُ لَکُمْ أَرَضُونَ وَیَکْفِیکُمُ اللَّہُ الْمُؤْنَۃَ فَلاَ یَعْجِزْ أَحَدُکُمْ أَنْ یَلْہُوَ بِأَسْہُمِہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَہْب۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۸]
(١٩٧٢٨) عقبہ بن عامرجہنی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : عنقریب علاقے تم فتح کرلو گے اور اللہ تمہاری مشقت سے کافی ہوجائے گا، خبردار ! تمہیں کوئی بھی چیز اپنے تیروں سے غافل نہ کرے۔
19735
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنِی یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَۃَ أَنَّ فَقِیمَ اللَّخْمِیَّ قَالَ لِعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ : تَخْتَلِفُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْغَرَضَیْنِ وَأَنْتَ کَبِیرٌ یَشُقُّ عَلَیْکَ ذَلِکَ فَقَالَ عُقْبَۃُ لَوْلاَ کَلاَمٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ أُعَانِہِ قَالَ الْحَارِثُ فَقَالَ ابْنُ شُمَاسَۃَ وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : إِنَّہُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ ثُمَّ إِنَّہُ تَرَکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۹]
(١٩٧٢٩) عبدالرحمن بن ثمامہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے عقبہ بن عامر سے کہا : آپ دو مقاصد کے درمیان اختلاف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو مشکل ہوگی۔ عقبہ فرماتے ہیں : اگر میں نے یہ کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا تو میں ان کی کبھی بھی مدد نہ کرتا۔ حارث کہتے ہیں کہ ابن شماس نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ تیر اندازی جان لینے کے بعد یا سیکھ لینے کے بعد، جس نے اس کو چھوڑ دیا، وہ ہم سے نہیں یا اس نے نافرمانی کی۔
19736
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۰) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لاِبْنِ شُمَاسَۃَ وَمَا ذَاکَ قَالَ إِنَّہُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ الَّذِی تَرَکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّیْثُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٩٧٣٠) حارث فرماتے ہیں : میں نے ابن شماسہ سے کہا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : جس نے تیر اندازی سیکھی اور چھوڑ دیا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔
19737
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْبَیْرُوتِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلاَّمٍ : الأَسْوَدُ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً رَامِیًا أُرَامِی عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ فَمَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ یَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِی فَأَبْطَأْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ یَا خَالِدُ تَعَالَ أُحَدِّثُکَ مَا حَدَّثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ أَقُولُ لَکَ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ الْجَنَّۃَ صَانِعَہُ الَّذِی احْتَسَبَ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَمُنْبِلَہُ وَالرَّامِیَ ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا وَلَیْسَ مِنَ اللَّہْوِ إِلاَّ ثَلاَثَۃٌ تَأْدِیبُ الرَّجُلِ فَرَسَہُ وَمُلاَعَبَتُہُ زَوْجَتَہُ وَرَمْیُہُ بِنَبْلِہِ عَنْ قَوْسِہِ وَمَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ ثُمَّ تَرَکَہُ فَہِیَ نِعْمَۃٌ کَفَرَہَا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَالْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَالْوَلِیدُ بْنُ مَزْیَدٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ۔ [ضعیف]
(١٩٧٣١) خالد بن زید فرماتے ہیں کہ میں تیر انداز آدمی تھا۔ میں عقبہ بن عامر کے ساتھ مل کر تیر اندازی کرتا، ایک دن وہ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا : اے خالد ! ہمارے ساتھ آو ، ہم تیر اندازی کریں، لیکن میں نے تھوڑی دیر کردی تو فرمایا : خالد جلدی آؤ میں تمہیں وہ بیان کرو جو مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا تھا۔ یا میں تجھے وہ بات کہوں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ایک تیر کی وجہ سے تین اشخاص جنت میں داخل ہوں گے : 1 تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے۔ 2 تیر چلانے والا 3 تیر انداز کو تیر پکڑانے والا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو۔ گھڑ سواری کی نسبت تیر اندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین چیزیں کھیل میں شمار نہیں ہوتیں : 1 اگر کوئی شخص گھوڑے کو سکھاتا ہے۔ 2 اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ 3 اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرتا ہے جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تو اس نے نعمت کی ناشکری۔
19738
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی ہُوَ ابْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ الأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُدْخِلُ الثَّلاَثَۃَ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّۃَ صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ بِصَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَالرَّامِیَ بِہِ وَالْمُمِدَّ بِہِ ۔ [ضعیف]
(١٩٧٣٢) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے : تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے، تیر چلانے والا اور اس کا تعاون کرنے والا۔
19739
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۳) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مَنْ أَنْ تَرْکَبُوا وَکُلُّ شَیْئٍ یَلْہُو بِہِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْیَ الرَّجُلِ بِقَوْسِہِ أَوْ تَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ أَوْ مُلاَعَبَتَہُ امْرَأَتَہُ فَإِنَّہُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ تَرَکَ الرَّمْیَ بَعْدَ مَا عَلِمَہُ فَقَدْ کَفَرَ الَّذِی عَلِمَہُ ۔
کَذَا فِی کِتَابِی ابْنُ یَزِیدَ وَقَالَ غَیْرُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٩٧٣٣) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو، تیر اندازی مجھے گھڑ سواری سے زیادہ پسند ہے۔ تمام قسم کی کھیلیں جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، لیکن تیراندازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے چھیڑچھاڑ کرنا یہ درست ہیں۔ تیر اندازی سیکھنے کے بعد چھوڑنا ایسے ہے جیسے اس نے کسی چیز کو جاننے کے بعد کفر کیا۔
19740
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُکْبُرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مَعَہُ قَوْسٌ فَارِسِیَّۃٌ فَقَالَ اطْرَحْہَا ثُمَّ أَشَارَ إِلَی الْقَوْسِ الْعَرَبِیَّۃِ فَقَالَ بِہَذِہِ وَرِمَاحِ الْقَنَا یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ بِہَا فِی الْبِلاَدِ وَیَنْصُرُکُمْ عَلَی عَدُوِّکُمْ۔
تَفَرَّدَ بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ وَفِیہِ انْقِطَاعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُوَیْمٍ لَیْسَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ۔ [ضعیف]
(١٩٧٣٤) عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عویم، اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں فارسی کمان دیکھی تو فرمایا : اس کو پھینک دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عربی کمان کی طرف اشارہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان تیر کمانوں کی وجہ سے اللہ تمہیں ان شہروں پر غلبہ دے گا اور دشمنوں کے خلاف تمہیں مدد فراہم کرے گا۔
19741
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۵) وَقِیلَ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی قَوْسًا فَارِسِیًّا فَقَالَ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ حَمَلَہَا عَلَیْکُمْ بِہَذِہِ وَأَشَارَ إِلَی الْقَوْسِ الْعَرَبِیَّۃِ وَبِرِمَاحِ الْقَنَا یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ فِی الْبِلاَدِ وَیَنْصُرُکُمْ عَلَی عَدُوِّکُمْ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ عُتْبَۃُ بْنُ عُوَیْمٍ لَمْ یَصِحَّ حَدِیثُہُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٩٧٣٥) عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عویم بن ساعدہ۔ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک فارسی کمان دیکھی تو فرمایا : جو اس کو اٹھائے گا ، وہ ملعون ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عربی کمان کو لازم پکڑو۔ اس کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف مدد کرے گا۔
19742
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۷۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُسْرٍ عَنْ أَبِی رَاشِدٍ الْحُبْرَانِیُّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عَمَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ بِعِمَامَۃٍ سَدَلَہَا خَلْفِی ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ أَمَدَّنِی یَوْمَ بَدْرٍ وَحُنَیْنٍ بِمَلاَئِکَۃٍ یَعْتَمُّونَ ہَذِہِ الْعِمَّۃَ وَقَالَ إِنَّ الْعِمَامَۃَ حَاجِزَۃٌ بَیْنَ الْکُفْرِ وَالإِیمَانِ وَرَأَی رَجُلاً یَرْمِی بِقَوْسٍ فَارِسِیَّۃٍ فَقَالَ ارْمِ بِہَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَی قَوْسٍ عَرَبِیَّۃٍ فَقَالَ عَلَیْکُمْ بِہَذِہِ وَأَمْثَالِہَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّ بِہَذِہِ یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ فِی الْبِلاَدِ وَیُؤَیِّدُکُمْ فِی النَّصْرِ۔ أَشْعَثُ ہُوَ أَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ (ت) وَخَالَفَہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ فَرَوَاہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِیٍّ الْبَہْرَانِیِّ عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُنْقَطِعًا۔ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُسْرٍ ہَذَا لَیْسَ بِالْقَوِیِّ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُ۔
[ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٩٧٣٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غدیر خم کے دن پگڑی پہنائی اور اس کا ایک کنارہ میرے پیچھے کی جانب لٹکا دیا۔ پھر فرمایا : اللہ نے بدر اور حنین کے دن ایسی پگڑی پہنے ہوئے فرشتوں سے میری مدد فرمائی اور فرمایا کہ یہ عمامہ کفر و ایمان کے درمیان رکاوٹ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا، جو فارسی کمان سے تیر اندازی کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو۔ پھر آپ نے عربی کمان دیکھی تو فرمایا : اس جیسی یا اس کو لازم پکڑو اور نیزے جس کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دیں گے اور تمہارے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے۔