Sunan Al Bayhaqi
45. خلع اور طلاق کا بیان
سنن البيهقي
14842
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ سَہْلٍ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہَا أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِیبَۃَ بِنْتَ سَہْلٍ عِنْدَ بَابِہِ فِی الْغَلَسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ ہَذِہِ؟ ۔ فَقَالَتْ : أَنَا حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ فَقَالَ : مَا شَأْنُکِ؟ ۔ فَقَالَتْ : لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتٌ لِزَوْجِہَا فَلَمَّا جَائَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذِہِ حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَذْکُرَ ۔ فَقَالَتْ حَبِیبَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کُلُّ مَا أَعْطَانِی عِنْدِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ : خُذْ مِنْہَا ۔ فَأَخَذَ مِنْہَا وَجَلَسَتْ فِی أَہْلِہَا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٨٣٦) ثابت بن قیس بن شماس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ کہنے لگی : حبیبہ بنت سہل، پوچھا : تیری کیا حالت ہے ؟ کہتی ہیں کہ میں اور میرے خاوند ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حبیبہ بنت سہل ہے جو اللہ نے چاہا اس نے تذکرہ کیا، کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو اس نے مجھے دیا ہے وہ تمام مال میرے پاس موجود ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثابت مال اس سے لے لو تو انھوں نے لے لیا اور وہ اپنے اہل کے گھر بیٹھ گئی۔
14843
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ سَہْلٍ : أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی الْغَلَسِ وَہِیَ تَشْکُو شَیْئًا بِبَدَنِہَا وَہِیَ تَقُولُ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا ثَابِتُ خُذْ مِنْہَا ۔ فَأَخَذَ مِنْہَا وَجَلَسَتْ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٨٣٧) عمرہ فرماتی ہیں کہ حبیبہ بنت سہل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر اندھیرے میں شکایت کی اور وہ اپنے بدن پر کچھ دکھا رہی تھیں۔ کہنے لگیں : میں اور ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ثابت ! اپنا مال لے، لو انھوں نے اپنا مال لے لیا اور وہ اپنے گھر بیٹھ گئی۔
14844
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ جَائَ تْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتٍ فِی خُلُقٍ وَلاَ دِینٍ وَلَکِنْ أَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الإِسْلاَمِ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : یَا ثَابِتُ اقْبَلِ الْحَدِیقَۃَ وَطَلِّقْہَا تَطْلِیقَۃً ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَزْہَرَ بْنِ جَمِیلٍ وَأَرْسَلَہُ غَیْرُہُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ۔ [صحیح۔ تقد قبلہ]
(١٤٨٣٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی، کہتی ہیں : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثابت اپنا باغ لے کر اس کو طلاق دے دو ۔
14845
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔
(١٤٨٣٩) ایضاً ۔
14846
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَۃُ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَنْقِمَ عَلَی ثَابِتٍ فِی دِینٍ وَلاَ خُلُقٍ غَیْرَ أَنِّی أَخَافُ الْکُفْرَ فِی الإِسْلاَمِ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرُدَّ عَلَیْہِ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْمَخْرَمِیِّ عَنْ قُرَادٍ أَبِی نُوحٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَرَدَّتْ عَلَیْہِ وَأَمَرَہُ فَفَارَقَہَا۔
وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِمَعْنَاہُ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ جَمِیلَۃَ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً وَکَذَلِکَ رَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ أَیُّوبَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٨٤٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی؛ کیونکہ اسلام میں ناشکری کو پسند نہیں کرتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی ؟ اس عورت نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باغ واپس کرنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تفریق کروا دی۔
(ب) قراد ابی نوح سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت نے باغ واپس کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جدا کرنے کا حکم دے دیا۔
(ب) قراد ابی نوح سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت نے باغ واپس کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جدا کرنے کا حکم دے دیا۔
14847
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۱) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوْفِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ جَمِیلَۃَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- تُرِیدُ الْخُلْعَ فَقَالَ لَہَا : مَا أَصْدَقَکِ؟ ۔ قَالَتْ : حَدِیقَۃً قَالَ : فَرُدِّی عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ [ضعیف]
(١٤٨٤١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، وہ خلع کا رادہ رکھتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تیرا حق مہر کیا تھا ؟ اس عورت نے کہا : باغ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا باغ واپس کر دو ۔
14848
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ جَمِیلَۃَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی مَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِی خُلُقٍ وَلاَ دِینٍ وَلَکِنِّی لاَ أُطِیقُہُ بُغْضًا وَأَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الإِسْلاَمِ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَأْخُذَ مِنْہَا مَا سَاقَ إِلَیْہَا وَلاَ یَزْدَادَ۔
کَذَا رَوَاہُ عَبْدُالأَعْلَی بْنُ عَبْدِالأَعْلَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ مَوْصُولاً وَأَرْسَلَہُ غَیْرُہُ عَنْہُ۔[ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٨٤٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے کہا : میرے ماں، باپ آپ پر قربان ! میں ثابت بن قیس بن شماس کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی۔ لیکن میں بغض کی بھی طاقت نہیں رکھتی اور اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں، آپ نے پوچھا : کیا تو اسے اس کا باغ لوٹا دے گی ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : جو مال دیا ہے وہ واپس لے لو زیادہ نہیں لینا۔
14849
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ: عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ قَالَ أَبُو نَصْرٍ یَعْنِی عَبْدَ الْوَہَّابَ بْنَ عَطَائٍ سَأَلْتُ سَعِیدًا عَنِ الرَّجُلِ یَخْلَعُ امْرَأَتَہُ بِأَکْثَرَ مِمَّا أَعْطَاہَا فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ جَمِیلَۃَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ فُلاَنًا تَعْنِی زَوْجَہَا ثَابِتَ بْنَ قَیْسٍ وَاللَّہِ مَا أَعْتِبُ عَلَیْہِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : خُذْ مَا أَعْطَیْتَہَا وَلاَ تَزْدَدْ ۔وَقَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ بِمِثْلِ مَا قَالَ قَتَادَۃُ عَنْ عِکْرِمَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ لاَ أَحْفَظُ وَلاَ تَزْدَدْ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٨٤٣) ابونصر عبدالوہاب بن عطاء فرماتے ہیں میں نے سعید سے پوچھا کہ جو شخص زیادہ مال کی واپسی کا تقاضا کر کے خلع کرنا چاہتا ہے، انھوں نے بیان کیا کہ قتادہ حضرت عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میرا خاوند ثابت قیس ہے۔ میں اس پر عیب نہیں لگاتی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دیا ہے واپس لے لو لیکن زیادہ نہ لینا۔ قتادہ عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لا تذدد کے الفاظ مجھے یاد نہیں ہیں۔
14850
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- تَشْکُو زَوْجَہَا فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔قَالَتْ : نَعَمْ وَزِیَادَۃً۔ قَالَ : أَمَّا الزِّیَادَۃُ فَلاَ ۔ [ضعیف]
(١٤٨٤٤) ابن جریج حضرت عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے خاوند کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے ؟ کہنے لگی : ہاں کچھ زیادہ بھی دوں گی۔ فرمایا : زیادہ نہیں۔
14851
Sunan Al Bayhaqi(۱۴۸۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أُبْغِضُ زَوْجِی وَأُحِبُّ فِرَاقَہُ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ الَّتِی أَصْدَقَکِ؟ ۔ قَالَ : وَکَانَ أَصْدَقَہَا حَدِیقَۃً قَالَتْ نَعَمْ وَزِیَادَۃً قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمَّا الزِّیَادَۃُ مِنْ مَالِکِ فَلاَ وَلَکِنْ الْحَدِیقَۃُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ فَقَضَی بِذَلِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی الرَّجُلِ فَأُخْبِرَ بِقَضَائِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُ قَضَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ مُرْسَلاً مُخْتَصَرًا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٨٤٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں اپنے خاوند سے بغض رکھتی ہوں اور میں تفریق چاہتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس نے تجھے حق مہر میں باغ دیا تھا واپس کرتی ہو ؟
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کا حق مہر باغ تھا۔ کہتی ہے : ہاں اور زیادہ بھی دیتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ تیرا مال ہے، صرف باغ واپس کر دو ۔ کہتی ہے : ٹھیک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا، جب اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کی خبر ملی تو اس نے کہا : مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ منظور ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کا حق مہر باغ تھا۔ کہتی ہے : ہاں اور زیادہ بھی دیتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ تیرا مال ہے، صرف باغ واپس کر دو ۔ کہتی ہے : ٹھیک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا، جب اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کی خبر ملی تو اس نے کہا : مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ منظور ہے۔