hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

23. ضمانتوں کا بیان

سنن البيهقي

11397
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الزَّعِیمُ غَارِمٌ ۔ قَالَ الْمُزَنِیُّ : وَالزَّعِیمُ فِی اللُّغَۃِ ہُوَ الْکَفِیلُ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ السُّدِّیِّ۔ [حسن]
(١١٣٩٢) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ضمانت دینے والا اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔ مزنی کہتے ہیں : زعیم لغت میں کفیل کو کہتے ہیں۔
11398
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو ہَانِئٍ الْخَوْلاَنِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ سَمِعَ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: أَنَا زَعِیمٌ وَالزَّعِیمُ الْحَمِیلُ لِمَنْ آمَنَ بِی وَأَسْلَمَ وَہَاجَرَ بِبَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ ۔ [حسن]
(١١٣٩٣) فضالۃ بن عبید فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ میں ضمانت دیتا ہوں اور ضمانت دینے والا اپنا ذمہ لینے والا ہوتا ہے۔ اس شخص کے لیے جو میرے ساتھ ایمان لایا اور مسلمان ہوا اور ہجرت کی جنت کے آخری مقام کی بشارت ہے۔
11399
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو ہَانِئٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ الْجَنْبِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : أَنَا زَعِیمٌ وَالزَّعِیمُ الْحَمِیلُ لِمَنْ آمَنَ بِی وَأَسْلَمَ وَجَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِبَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ وَبِبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ وَأَنَا زَعِیمٌ لِمَنْ آمَنَ بِی وَأَسْلَمَ وَہَاجَرَ بِبَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ وَبِبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ وَبِبَیْتٍ فِی أَعْلَی غُرَفِ الْجَنَّۃِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَلَمْ یَدَعْ لِلْخَیْرِ مَطْلَبًا وَلاَ مِنَ الشَّرِّ مَہْرَبًا یَمُوتُ حَیْثُ یَشَائُ أَنْ یَمُوتَ ۔ وَذَکَرَ الْمُزَنِیُّ ہَا ہُنَا حَدِیثَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی الضَّمَانِ وَإِسْنَادُ حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ ضَعِیفٌ۔فَالأَوْلَی بِنَا أَنْ نُقَدِّمَ مَا : [حسن]
(١١٣٩٤) فضالۃ بن عبید فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ میں ضامن ہوں اور ضامن ذمہ دار ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور ہجرت کی جنت کے آخری مقام میں گھر کی بشارت ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کی اور جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر کی اور جس نے یہ کیا اس نے خیر کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور شر سے واسطہ نہیں بنانا چاہا وہ جس جگہ بھی فوت ہو۔
11400
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِجَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہَا فَقَالَ : ہَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ فَقَالُوا : لاَ قَالَ : ہَلْ تَرَکَ شَیْئًا؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ فَصَلَّی عَلَیْہِ وَأُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟۔ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: ہَلْ تَرَکَ شَیْئًا؟ ۔ قَالُوا : لاَ قَالَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہُوَ عَلَیَّ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَصَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ۔ [بخاری ۲۲۹۷، مسلم ۱۶۱۹]
(١١٣٩٥) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز ے جنازہ پڑھادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض تو نہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کی نماز ے جنازہ پڑھ لو۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
11401
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الأَکْوَعِ قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : لاَ قَالَ : فَہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔ قَالُوا : لاَ فَصَلَّی عَلَیْہَا ثُمَّ أُتِیَ بِجَنَازَۃٍ أُخْرَی فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : لاَ۔ قَالَ : ہَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔ قَالُوا : ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ قَالَ: ثَلاَثُ کَیَّاتٍ ۔ قَالَ : ثُمَّ أُتِیَ بِالثَّالِثِ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ : فَہَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔قَالُوا : لاَ قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ أَبُو قَتَادَۃَ صَلِّ عَلَیْہِ وَعَلَیَّ دَیْنُہُ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ہَکَذَا فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَفِی رِوَایَۃِ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ فِی الْجَنَازَۃِ الأُخْرَی قَالُوا : ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ [صحیح]
(١١٣٩٦) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس پر نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ نے پوچھا : کیا اس پر قرض تو نہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اس کی نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : تین دینار۔ آپ نے فرمایا : تین دینار مختصر سازوسامان، پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کی نماز ے جنازہ پڑھ لو انصار کے ایک آدمی جسے ابو قتادہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
11402
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُصَلِّی عَلَی أَحَدٍ عَلَیْہِ دَیْنٌ فَأُتِیَ بِمَیِّتٍ فَقَالَ : ہَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ دِینَارَانِ۔ قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ : ہُمَا عَلَیَّ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَصَلَّی عَلَیْہِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ -ﷺ- قَالَ : أَنَا أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہِ ۔وَأَمَّا حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح۔أخرجہ احمد۲۲۹۶۳،۱۴۲۰۵،۱۴۲۰۶]
(١١٣٩٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت لائی گئی۔ آپ نے پوچھا : اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں دو دینار۔ آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کی نمازِجنازہ پڑھ لو۔ ابو قتادہ نے کہا : میں ان کا ذمہ دار ہوں، پھر آپ نے اس کی نماز پڑھائی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہر مومن کا زیادہ حق دار ہوں اس کی جان سے۔ جو مقروض فوت ہو اس کا قرض مجھ پر اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے۔
11403
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۸) فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْجَوْہَرِیُّ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْوَصَّافِیُّ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِجَنَازَۃٍ لَیُصَلِّی عَلَیْہَا فَتَقَدَّمَ لَیُصَلِّی فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : ہَلْ عَلَی صَاحِبِکُمْ دَیْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ : ہَلْ تَرَکَ لَہُ مِنْ وَفَائٍ؟ قَالُوا: لاَ قَالَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: عَلَیَّ دَیْنُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی عَلَیْہِ وَقَالَ: جَزَاکَ اللَّہُ یَا عَلِیُّ خَیْرًا کَمَا فَکَکْتَ رِہَانَ أَخِیکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَکَّ رِہَانَ أَخِیہِ إِلاَّ فَکَّ اللَّہُ رِہَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ وَرَوَاہُ عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ : الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ وَفِیہِ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَرِئَ مِنْ دِینِہِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَیْہِ۔وَرَوَاہُ زَافِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْوَصَّافِیِّ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنَا ضَامِنٌ لِدَیْنِہِ۔ وَالْحَدِیثُ یَدُورُ عَلَی عُبَیْدِ اللَّہِ الْوَصَّافِیِّ وَہُوَ ضَعِیفٌ جِدًّا۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ۔ [ضعیف]
(١١٣٩٨) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ نے ہماری طرف دیکھا اور کہا : کیا یہ مقروض تو نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اسے پورا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے اس نے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، آپ آگے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا : اے علی ! اللہ تجھے بہتر جزادے جس طرح سے تو نے اپنے بھائی سے قرض کا بوجھ ہلکا کیا۔ جو بھی مسلمان اپنے بھائی سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بوجھ ہلکا کریں گے۔
11404
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۳۹۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْعَلاَئِ الزُّبَیْدِیُّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أُتِیَ بِجَنَازَۃٍ لَمْ یَسْأَلْ عَنْ شَیْئٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلاَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنْ دَیْنِہِ فَإِنْ قِیلَ عَلَیْہِ دَیْنٌ کَفَّ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ وَإِنْ قِیلَ لَیْسَ عَلَیْہِ دَیْنٌ صَلَّی عَلَیْہِ فَأُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَہُ : ہَلْ عَلَی صَاحِبِکُمْ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : عَلَیْہِ دِینَارَانِ دَیْنٌ فَعَدَلَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ ہُمَا عَلَیَّ بَرِئَ مِنْہُمَا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : یَا عَلِیُّ جَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا فَکَّ اللَّہُ رِہَانَکَ کَمَا فَکَکْتَ رِہَانَ أَخِیکِ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ مَیِّتٍ یَمُوتُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ إِلاَّ وَہُوَ مُرْتَہِنٌ بِدَیْنِہِ فَمَنْ فَکَّ رِہَانَ مَیِّتٍ فَکَّ اللَّہُ رِہَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہَذَا لِعَلِیٍّ خَاصَّۃً أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً فَقَالَ : لاَ بَلْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔ (ج) عَطَائُ بْنُ عَجْلاَنَ ضَعِیفٌ وَالرِّوَایَاتُ فِی تَحَمُّلِ أَبِی قَتَادَۃَ دَیْنَ الْمَیِّتِ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔وَأَمَّا حَدِیثُ الْحَمَالَۃِ الَّتِی احْتَجَّ بِہَا الْمُزَنِیُّ۔ [ضعیف]
(١١٣٩٩) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی جنازہ لایاجاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے کہ کیا یہمقروض تو نہیں تھا۔ پس اگر کہا جاتا : ہاں تو آپ جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا : نہیں تو آپ جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا ؟ انھوں نے کہا : اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہٹ گئے اور فرمایا : تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ آگے ہوئے اور نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا : اے علی ! اللہ تجھے بہتر جزادے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا اللہ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔ بعض صحابہ نے کہا : کیا یہ علی کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
11405
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۰۰) فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَحْتَرِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَسْأَلُہُ فِی حَمَالَۃٍ فَقَالَ : إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ حُرِّمَتْ إِلاَّ فِی ثَلاَثٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَۃٍ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُؤَدِّیَہَا ثُمَّ یُمْسِکُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہُ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ أَوْ فَاقَۃٌ حَتَّی تَکَلَّمَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِلْمِ مِنْ قَوْمِہِ فَقَدْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ وَمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ فَہُوَ سُحْتٌ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۰۴۴]
(١١٤٠٠) حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تاکہ تاوان ( کے سلسلہ ) میں (مدد کے لیے ) سوال کروں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے : ایک وہ آدمی جس پر تاوان (چٹی ) پڑگیا۔ اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کے وہ اسے ادا کر دے۔ پھر (سوال کرنے سے ) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جسی اچانک آفت آجائے اور وہ (آفت ) اس کا مال تباہ کر دے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کی گزر بسر مضبوط ہوجائے یا یہ کہا : اس کی گزر بسر سیدھی ہوجائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے اور تیسرا وہ آدمی جو ضرورت مند بن جائے یا اس (کی حالت ) فاقوں تک پہنچ جائے اور اس کی قوم کے تین آدمی اس کے متعلق گواہی دیں تو اس کے لیے سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے۔ اس کے علاوہ سوال کرنا (مانگنا ) ناجائز اور حرام ہے۔
11406
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ قَالَ قَالَ جَابِرٌ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- لَیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَتَخَطَّی خُطًی ثُمَّ قَالَ : عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ قُلْنَا: نَعَمْ دِینَارَانِ قَالَ فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہُمَا أَبُو قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ الدِّینَارَانِ عَلَیَّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ بِیَوْمٍ : مَا فَعَلَ الدِّینَارَانِ ۔ فَقَالَ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ فَعَادَ عَلَیْہِ کَالْغَدِ فَقَالَ : قَدْ قَضَیْتُہُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الآنَ بَرَّدْتَ عَلَیْہِ جِلْدَہُ ۔ فَأَخْبَرَ -ﷺ- فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّہُ بِالْقَضَائِ بَرَدَ عَلَیْہِ جِلْدُہُ وَقَوْلُہُ : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ إِنْ کَانَ حَفِظَہُ ابْنُ عَقِیلٍ فَإِنَّمَا عَنَی بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لِلْغَرِیمِ مُطَالَبَتُکَ بِہِمَا وَحْدَکَ إِنْ شَائَ کَمَا لَوْ کَانَ لَہُ عَلَیْکَ حَقٌّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ وَالْمَیِّتُ مِنْہُ بَرِیئٌ کَانَ لَہُ مُطَالَبَتُکَ بِہِ وَحْدَکَ إِنْ شَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١١٤٠١) (الف) عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ جابر (رض) نے فرمایا : ایک آدمی فوت ہوگیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا۔ پھر ہم اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ قدم چلے اور پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں دو دینار ہیں۔ آپ واپس پھرگئے۔ ابو قتادہ نے دو دینار اپنے ذمہ لے لیے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے۔ ابو قتادہ نے کہا : دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ نے فرمایا : قرض کی ذمہ داری حق ہے اور میت ان دیناروں سے بری ہے۔ اس نے کہا : ہاں، پھر آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک دن اس کے بعد ارشاد فرمایا : کیا کیا ان دو دیناروں کا ؟ آپ نے فرمایا : وہ فوت ہوگیا ہے کل اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ قتادہ نے کہا : میں نے وہ دونوں ادا کردیے تھے، آپ نے فرمایا : تو نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کردیا ہے۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضاکیساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوگئی۔