Sunan Al Bayhaqi
12. صدقہ فطر کا بیان
سنن البيهقي
7670
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَعْقُوبَ الُّسوسِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمَّادٍ الْحَنَفِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی} فِی زَکَاۃِ رَمَضَانَ۔ [ضعیف جداً]
(٧٦٦٧) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ آیت { قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی } تحقیق کامیاب ہوا وہ شخص جس نے تزکیہ کیا “ صدقہ فطر کے حق میں نازل ہوئی ہے۔
7671
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ یَاسِینَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَیِّبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُئِلَ عَنْ قَوْلِہِ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی} قَالَ : ہِیَ زَکَاۃُ الْفِطْرِ۔
[ضعیف جداً۔ ابن خزیمہ]
(٧٦٦٨) کثیر بن عبداللہ مزنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت { قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی } کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ فطر سے مراد ہے۔
7672
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۶۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنِی شَیْخٌ مِنْ بَنِی سَعْدٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکِّی} قَالَ: یُعْطِی صَدَقَۃَ الْفِطْرِ، ثُمَّ یُصَلِّی۔
وَرُوِّینَاہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ وَغَیْرِہِمَا مِنَ التَّابِعِینِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَجْمَعِینَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ عبد بن حمید]
(٧٦٦٩) بنو سعد کے ایک شیخ ابو العالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ { قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکِّی } فرمایا کہ صدقہ فطر دیا جائے، پھر نمازِعید ادا کی جائے (عید الفطر) ۔
7673
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَرَضَ زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ صَغِیرٍ أَوْ کَبِیرٍ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔
وَأَمَّا الَّذِی رُوِیَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ فِی ذَلِکَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٦٧٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا کھجور یا جو میں سے ہر آزاد غلام ‘ بڑے اور چھوٹے پر۔
7674
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۱) فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ عَنْ أَبِی عَمَّارٍ قَالَ : سَأَلْنَا قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ فَقَالَ : أَمَرَنَا بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّکَاۃُ فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّکَاۃُ لَمْ یَأْمُرْنَا وَلَمْ یَنْہَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا لاَ یَدُلُّ عَلَی سُقُوطِ فَرْضِہَا لأَنَّ نُزُولَ فَرْضٍ لاَ یُوجِبُ سُقُوطَ آخَرَ وَقَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلَی وُجُوبِ زَکَاۃِ الْفِطْرِ وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِی تَسْمِیَتِہَا فَرْضًا فَلاَ یَجُوزُ تَرْکُہَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر]
(٧٦٧١) حضرت عمار (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے قیس بن سعد (رض) سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے حکم دیا جب زکوۃ کی فرضیت نازل ہوئی تو پھر نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا اور نہ ہی منع کیا لیکن ہم دیا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ فرض کے ساقط ہونے پر دال نہیں، کیونکہ فرض دوسرے ساقط کو واجب نہیں کرتا اور اہل علم نے صدقہ فطر کے وجوب پرا جماع کیا ہے، اگرچہ اس کے نام میں اختلاف کیا ہے مگر اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ فرض کے ساقط ہونے پر دال نہیں، کیونکہ فرض دوسرے ساقط کو واجب نہیں کرتا اور اہل علم نے صدقہ فطر کے وجوب پرا جماع کیا ہے، اگرچہ اس کے نام میں اختلاف کیا ہے مگر اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔
7675
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : کُنَّا نُخْرِجُ إِذَا کَانَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَنْ کُلِّ صَغِیرٍ وَکَبِیرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِیبٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٦٧٢) ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تو ہم صدقہ فطر زکوۃ الفطر نکالا کرتے تھے ہر چھوٹے بڑے اور غلام وآزاد کی طرف سے نکالا کرتے تھے، گندم، پنیر، جو ، کھجور یا منقی میں سے ایک صاع کے بقدر۔
7676
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۳) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((لَیْسَ فِی الْعَبْدِ صَدَقَۃٌ إِلاَّ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٧٦٧٣) عراک بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام میں صدقہ نہیں ہے سوائے صدقہ فطر کے۔
7677
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِینَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((لاَ صَدَقَۃَ عَلَی الرَّجُلِ فِی فَرَسِہِ وَفِی عَبْدِہِ إِلاَّ زَکَاۃَ الْفِطْرِ))۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ عَسْکَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِی عَبْدِہِ وَلاَ فَرَسِہِ صَدَقَۃٌ إِلاَّ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ))۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٦٧٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں سوائے صدقہ فطر کے۔ ابن ابی حریم نے یہ بیان کیا کہ مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوۃ نہیں ۔
7678
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَرَضَ زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ عَنْ کُلِّ کَبِیرٍ أَوْ صَغِیرٍ أَوْ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ۔ کَذَا قَالُوا عَنْ کُلِّ صَغِیرٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٦٧٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صاع کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے اور آزادو غلام کی طرف سے مقرر کیا۔
7679
Sunan Al Bayhaqi(۷۶۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ فَرَضَ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ أَوْ تَمْرٍ عَنِ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوکِ
کَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی عَنِ الصَّغِیرِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ عَبَّاسٌ النَّرْسِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقَطَّانِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی فَقَالَ ((عَلَی)) وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَعَبْدِاللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ ((عَلَی))۔[صحیح۔ ہذا لفظ البخاری]
(٧٦٧٦) ابن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے صدقہ فطر کھجور اور جو میں سے ہر ایک صاع چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے مقرر فرمایا۔
میں نے اپنی کتاب میں بچے کی طرف سے ایسے ہی پایا ہے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ سے روایت نقل کی ہے انھوں نے (عَلَی عن) کی جگہ (عَلَی) ذکر کیا ہے۔
میں نے اپنی کتاب میں بچے کی طرف سے ایسے ہی پایا ہے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ سے روایت نقل کی ہے انھوں نے (عَلَی عن) کی جگہ (عَلَی) ذکر کیا ہے۔