Sunan Al Bayhaqi
1. پاکی کا بیان
سنن البيهقي
1
Sunan Al Bayhaqi(۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی رَحِمَہُمَا اللَّہُ تَعَالَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ السُّنَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ دَاسَۃَ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَیْمَانُ بْنُ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَلَمَۃَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ أَبِی بُرْدَۃَ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: ((سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیلَ مِنَ الْمَائِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِہِ عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَائِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ))۔
وَقَدْ تَابِعَ الْجُلاَحُ أَبُو کَثِیرٍ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍ عَلَی رِوَایَتِہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد ۸۳، والترمذی ۶۹، والنسائی ۳۳۲]
(١) سیدنا مغیرہ بن بردہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : ایک شخص نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے کر جاتے ہیں، اگر ہم اس پانی کے ساتھ وضو کریں تو ہم پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی کے ساتھ وضو کرلیں ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ “
2
Sunan Al Bayhaqi(۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْجُلاَحُ أَبُو کَثِیرٍ أَنَّ ابْنَ سَلَمَۃَ الْمَخْزُومِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ أَبِی بُرْدَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمًا فَجَائَہُ صَیَّادٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَنْطَلِقُ فِی الْبَحْرِ نُرِیدُ الصَّیْدَ فَیَحْمِلُ مَعَہُ أَحَدُنَا الإِدَاوَۃَ وَہُوَ یَرْجُو أَنْ یَأْخُذَ الصَّیْدَ قَرِیبًا ، فَرُبَّمَا وَجَدَہُ کَذَلِکَ وَرُبَّمَا لَمْ یَجِدِ الصَّیْدَ حَتَّی یَبْلُغَ مِنَ الْبَحْرِ مَکَانًا لَمْ یَظُنَّ أَنْ یَبْلُغَہُ ، فَلَعَلَّہُ یَحْتَلِمُ أَوْ یَتَوَضَّأُ ، فَإِنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ بِہَذَا الْمَائِ فَلَعَلَّ أَحَدَنَا یُہْلِکُہُ الْعَطَشُ ، فَہَلْ تَرَی فِی مَائِ الْبَحْرِ أَنْ نَغْتَسِلَ بِہِ أَوْ نَتَوَضَّأَ بِہِ إِذَا خِفْنَا ذَلِکَ۔ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((اغْتَسِلُوا مِنْہُ وَتَوَضَّئُوا بِہِ فَإِنَّہُ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ))
(ت) وَقَدْ تَابَعَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ وَیَزِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ سَعِیدًا عَلَی رِوَایَتِہِ إِلاَّ أَنَّہُ اخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ : فَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-
وَرُوِیَ عَنْہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ۔
وَرُوِیَ عَنْہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الْکِنْدِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ۔
وَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ۔
وَعَنْہُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ۔
وَقِیلَ غَیْرُ ہَذَا ، وَاخْتَلَفُوا أَیْضًا فِی اسْمِ سَعِیدِ بْنِ سَلَمَۃَ فَقِیلَ کَمَا قَالَ مَالِکٌ ، وَقِیلَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَخْزُومِیُّ۔
وَقِیلَ سَلَمَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَہُوَ الَّذِی أَرَادَ الشَّافِعِیُّ رضی اللہ عنہ بِقَوْلِہِ : فِی إِسْنَادِہِ مَنْ لاَ أَعْرِفُہُ أَوِ الْمُغِیرَۃَ أَوْ ہُمَا إِلاَّ أَنَّ الَّذِی أَقَامَ إِسْنَادَہُ ثِقَۃٌ أَوْدَعَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ الْمُوَطَّأَ وَأَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ۔
وَقَدْ رُوِیَ الْحَدِیثُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔[صحیح لغیرہ۔ أخرجہ أحمد ۲/۳۷۸]
(٢) سیدنا مغیرہ بن بردہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک شکاری آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم سمندر میں شکار کی غرض سے سفر کرتے ہیں اور ہم میں سے کوئی پانی کا لوٹا بھی ساتھ لے لیتا ہے اور اسے امید ہوتی ہے کہ وہ قریب سے ہی شکار پکڑ لے گا، اکثر ایسے ہی ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار شکار نہیں پاتا حتیٰ کہ وہ سمندر میں فلاں جگہ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اپنے گمان میں وہاں پہنچنے والا نہیں تھا۔ کبھی اسے احتلام ہوجائے یا وہ بےوضو ہوجائے، پھر اگر وہ اس پانی سے غسل کرے یا وضو کرے تو شاید ہم میں سے کسی کو پیاس ہلاک کر دے۔ آپ سمندر کے پانی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا ہم اس کے ساتھ غسل یا وضو کرلیں جب ہمیں یہ ڈر ہو ؟ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے پانی سے غسل اور وضو کرو، اس لیے کہ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
یہی حدیث حضرت علی بن أبی طالب، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں۔
یہی حدیث حضرت علی بن أبی طالب، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں۔
3
Sunan Al Bayhaqi(۳) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَرَوَی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہِنْدٍ الْفِرَاسِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ ((مَنْ لَمْ یُطَہِّرْہُ الْبَحْرُ فَلاَ طَہَّرَہُ اللَّہُ))۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُفَیْرٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُخْتَارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ ، فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَقُلِ الْفِرَاسِیِّ۔ [ضعیف جدًا۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۳۵]
(٣) (الف) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عبدالعزیز بن عمر نے سعید بن ثوبان اور ابوہند فراسی کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس کو سمندر کا پانی پاک نہ کرے اس کو اللہ تعالیٰ پاک نہ کرے۔ “
(ب) ابراہیم بن مختار کہتے ہیں : عبدالعزیز بن عمر نے اس جیسی حدیث بیان کی ہے، لیکن فراسی کا نام ذکر نہیں کیا۔
(ب) ابراہیم بن مختار کہتے ہیں : عبدالعزیز بن عمر نے اس جیسی حدیث بیان کی ہے، لیکن فراسی کا نام ذکر نہیں کیا۔
4
Sunan Al Bayhaqi(۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ: أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنْ مَیْتَۃِ الْبَحْرِ فَقَالَ: ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحَلاَلُ مَیْتَتُہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ الدارقطنی ۱/۳۵]
(٤) عامر بن واثلہ (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) سے سمندر کے مردار کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
5
Sunan Al Bayhaqi(۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ یَزِیدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیَّ حَدَّثَہُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَتَی نَفَرٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا: إِنَّا نَصِیدُ فِی الْبَحْرِ وَمَعَنَا مِنَ الْمَائِ الْعَذْبِ ، فَرُبَّمَا تَخَوَّفْنَا الْعَطَشَ فَہَلْ یَصْلُحُ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنَ الْبَحْرِ الْمَالِحِ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ تَوَضَّئُوا مِنْہُ۔۔۔))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۳۹]
(٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہم سمندر میں شکار کرتے ہیں اور ہمارے پاس (تھوڑا سا) میٹھا پانی ہوتا ہے۔ ہمیں پیاس کا ڈر ہوتا ہے۔ کیا ہمارے لیے درست ہے کہ ہم سمندر کے نمکین پانی سے وضو کرلیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! تم اس سے وضو کر لو۔۔۔
6
Sunan Al Bayhaqi(۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ، وَہِیَ بِئْرٌ یُلْقَی فِیہَا النَّتَنُ وَالْجِیفَۃُ وَالْمَحِیضُ وَالْکِلاَبُ؟ فَقَالَ: ((الْمَائُ طَہُورٌ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ))
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ ، قَالَ وَقَالَ بَعْضُہُمُ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ۔
(ق) قَالَ الشَّیْخُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی: وَالْحَدِیثُ عَلَی طَہُورِہِ إِذَا لَمْ تُلْقَ فِی الْبِئْرِ نَجَاسَۃٌ ، فَإِذَا أُلْقِیَتْ فِیہَا نَجَاسَۃٌ فَمَعْنَی الْحَدِیثِ فِیمَا بَلَغَ قُلَّتَیْنِ وَلَمْ یَتَغَیَّرْ ، وَدَلِیلُہُ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
(٦) (الف) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بضاعہ کنویں کے پانی سے وضو کرلیں اور اس میں گندگی، گلاسڑا گوشت، حیض والے کپڑے اور مردار کتے پھینکے جاتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ “ [صحیح ]
(ب) شیخ احمد (رح) فرماتے ہیں : حدیث میں اس کنویں سے طہارت حاصل کرنے پر دلیل ہے جس میں نجاست نہ پھینکی جائے۔ اگر اس میں نجاست پھینکی جائے تو حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب پانی دو مٹکے ہو اور (اس کا ذائقہ، رنگ اور بو) تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اس کا ذکر اصل جگہ پر آجائے گا۔ ان شاء اللہ
(ب) شیخ احمد (رح) فرماتے ہیں : حدیث میں اس کنویں سے طہارت حاصل کرنے پر دلیل ہے جس میں نجاست نہ پھینکی جائے۔ اگر اس میں نجاست پھینکی جائے تو حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب پانی دو مٹکے ہو اور (اس کا ذائقہ، رنگ اور بو) تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اس کا ذکر اصل جگہ پر آجائے گا۔ ان شاء اللہ
7
Sunan Al Bayhaqi(۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُنِی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَائٍ مِنَ السَّمَائِ وَإِنِّی لأَدْلُکُ ظَہْرَہُ وَأَغْسِلُہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن طھمان فی مشیختہ ۷]
(٧) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں : میں نے خود کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بارش کے پانی میں دیکھا کہ میں آپ کی کمر مل رہا تھا اور اسے دھو رہا تھا۔
8
Sunan Al Bayhaqi(۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَجْزَأَۃَ بْنِ زَاہِرٍ الأَسْلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِی مِنَ الذُّنُوبِ وَنَقِّنِی مِنْہَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَالْوَسَخِ))
رَوَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ: مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
(٨) مجزأۃ بن زاہراسلمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تیرے لیے آسمانوں اور زمین کے بھراؤ کے برابر تعریف ہے اور اس کے بعد جو تو چاہے اس چیز کے بھراؤ کے برابر بھی۔ اے اللہ ! تو مجھے برف ‘ اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کر دے۔ اے اللہ ! تو مجھے گناہوں سے پاک صاف کر دے اور ان کو دھو ڈال جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ صحیح۔ أخرجہ مسلم [٢٠٤]
9
Sunan Al Bayhaqi(۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَتَعَوَّذُ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْسِلْ قَلْبِی بِمَائِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ)) وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ: ((اللَّہُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِمَائِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ)) [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۰۱۶ و مسلم ۵۸۹]
(٩) (الف) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ مانگتے ہوئے یوں کہا کرتے تھے : اے اللہ ! میرے دل کو برف اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال ۔۔۔
(ب) بعض نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں :
اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔
(ب) بعض نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں :
اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔
10
Sunan Al Bayhaqi(۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الأَسْلَعِ بْنِ شَرِیکٍ قَالَ: کُنْتُ أَرْحَلُ نَاقَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الرَّاحِلَۃَ ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَرْحَلَ نَاقَتَہُ وَأَنَا جُنُبٌ ، وَخَشِیتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَائِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ
قَالَ: ثُمَّ وَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ فِیہَا مَائً فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ لَحِقْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: ((یَا أَسْلَعُ مَا لِی أَرَی رَاحِلَتَکَ تَضْطَرِبُ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَمْ أَرْحَلْہَا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ قُلْتُ: فَأَسْخَنْتُ مَائً فَاغْتَسَلْتُ۔ [ضعیف جدًا۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۸۷۷]
(١٠) سیدنا اسلع بن شریک (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو سفر کے لیے تیار کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک سرد رات میں مجھے احتلام ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے یہ ناپسند سمجھا کہ جنبی ہونے کی حالت میں آپ کی سواری تیار کروں۔ میں ڈر گیا کہ اگر میں نے ٹھنڈے پانی کے ساتھ وضو کیا تو مر جاؤں گا۔ میں نے میں پتھر رکھے ان پر پانی گرم کیا، پھر غسل کیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسلح ! میں تیری سواری کو مضطرب دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اس کو تیار نہیں کیا۔ پھر مکمل بات ذکر کی اور عرض کیا : پھر میں نے گرم پانی سے غسل کیا۔