Sunan Al Bayhaqi
7. کتاب صلوة الخسوف
سنن البيهقي
6298
Sunan Al Bayhaqi(۶۲۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسٍ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ إِبْرَاہِیمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ النَّاسُ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاہِیمَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ وَإِلَی الصَّلاَۃِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۰۳۲]
(٦٢٩٨) ابو مسعود انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو سورج گرہن لگ گیا۔ لوگوں نے کہا : سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا ۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف رغبت کرو۔
6299
Sunan Al Bayhaqi(۶۲۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَوَکِیعٌ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ قَیْسٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ النَّاسُ: انْکَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاہِیمَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ۔ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمَا فَصَلُّوا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو وَعَائِشَۃُ وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ وَأَبُو بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٦٢٩٩) ابو مسود انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتیبل کہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جب تم اس کو دیکھو تو نماز پڑھو۔
6300
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی وَأَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ خُشَیْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ لَمَّا کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نُودِیَ أَنَّ الصَّلاَۃَ جَامِعَۃٌ فَرَکَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جَلَسَ ثُمَّ جُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ۔ [صحیح۔ بخاری۹۹۸]
(٦٣٠٠) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوتا تو آواز دی جاتی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر کھڑے ہوئے تو ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر بیٹھ گئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔
6301
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِْحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَبَعَثَ مُنَادِیًا فَنَادَی: الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّی بِہِمْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِی رَکْعَتَیْنِ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ثُمَّ تَشَہَّدَ وَسَلَّمَ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۱۶]
(٦٣٠١) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج بےنور ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ منادی کرے ” نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ‘ ‘ تو لوگ جمع ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دو رکعات چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیرا۔
6302
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ إِمْلاَئً فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی وَالنَّاسُ مَعَہُ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیلاً قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ قِیَامًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ۔فَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ لاَ یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ۔فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّہَ ۔قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْئًا فِی مُقَامِکَ ہَذَا ، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ۔فَقَالَ: ((إِنِّی رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ أَوْ أُرِیتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُہُ لأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا ، وَأُرِیتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ مِنْہَا وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَہْلِہَا النِّسَائَ))۔قَالُوا: لِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((بِکُفْرِہِنَّ))۔قِیلَ: یَکْفُرْنَ بِاللَّہِ قَالَ: ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ ، وَیَکْفُرْنَ الإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاہُنَّ الدَّہْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ وَفِی حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسُ مَعَہُ وَکَذَلِکَ فِی رِوَایَۃِ إِسْحَاقَ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَلَمْ یَذْکُرْ الشَّافِعِیُّ قَوْلَہُ: ((أَفْظَعَ مِنْہَا)) ۔وَالْبَاقِی سَوَاء ٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۰۰۴]
(٦٣٠٢) (الف) عطاء بن یسار ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا۔ تقریباً سورة بقرہ کی تلاوت کے برابر۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا۔ لیکن پہلے قیام سے ذرا کم۔ پھر لمبا رکوع کیا۔ لیکن پہلے رکوع سے ذرا کم۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا قیام کیا ، لیکن وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا رکوع کیا۔ لیکن پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبارکوع کیا ، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو۔ صحابہ فرماتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! ہم نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جگہ کچھ پکڑ رہے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ الٹے پاؤں واپس آ رہے تھے۔ فرماتے ہیں : میں نے جنت دیکھی فرمایا : مجھے جنت دکھائی گئی۔ میں نے ایک انگور کا گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس کو کھاتے رہتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی۔ میں نے آج تک اتنا گھبراہٹ والا منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریتدیکھی۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی ناشکری کی وجہ سے ” کہا گیا۔ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں ؟ فرمایا : وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ اگر آپ ان پر زمانہ بھر احسان کرتے رہو پھر اگر آپ سے تھوڑی سی کوتاہی ہوگئی تو اسی وقت کہہ دیتی ہیں کہ میں نے سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں۔
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ سورج بےنور گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن انھوں نے ’ افظع منھا “ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ سورج بےنور گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن انھوں نے ’ افظع منھا “ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
6303
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَکَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قِرَائَ ۃً طَوِیلَۃً ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ۔، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَائَ ۃً طَوِیلَۃً ہِیَ أَدْنَی مِنَ الْقِرَائَ ۃِ الأُولَی ، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِیلاً ہُوَ أَدْنَی مِنَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ۔، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ فَاسْتَکْمَلَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَنْصَرِفَ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمَا فَافْزَعُوا إِلَی الصَّلاَۃِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عَنْبَسَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ۔ وَزَادَ [صحیح۔ بخاری ۹۹۷]
(٦٣٠٣) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ مسجد آئے اور کھڑے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صفیں بنالیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبی قراءت کی۔ پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ “ فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور لمبا رکوع کیا۔ لیکن یہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر کہا ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ “ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور سورج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فارغ ہونے سے پہلے روشن ہوچکا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ اللہ کی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم اس کو دیکھو تو نماز کے لیے جلدی کیا کرو۔
6304
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۴) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرُ بْنُ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی فِی کُسُوفِ الشَّمْسِ مِثْلَ حَدِیثِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-: أَنَّہُ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ رَکْعَتَیْنِ۔ [صحیح۔ أبو داؤد ۱۱۷۱]
(٦٣٠٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج گرہن کے وقت نماز پڑھائی، جیسے عروہ عن عائشہ (رض) سے بیان ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
6305
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ہُوَ ابْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِہَذَا وَزَادَ فَقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: إِنَّ أَخَاکَ یَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِینَۃِ لَمْ یَزِدْ عَلَی رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَ: أَجَلْ إِنَّہُ أَخْطَأَ السُّنَّۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ بِطُولِہِ مَعَ ہَاتَیْنِ الزِّیَادَتَیْنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۹۹]
(٦٣٠٥) احمد بن صالح فرماتے ہیں، لیکن کچھ اضافہ ہے کہ میں نے عروہ سے کہا : آپ کے بھائی نے سورج گرہن کے وقت دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی۔ جیسے صبح کی نماز ہوتی ہے۔ فرمایا : وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے غلطی ہوگئی۔
6306
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ: أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یُخْبِرُ بِذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ
قَالَ الزُّہْرِیُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: مَا فَعَلَ ذَلِکَ أَخُوکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ مَا صَلَّی إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّی بِالْمَدِینَۃِ قَالَ: أَجَلْ إِنَّہُ أَخْطَأَ السُّنَّۃَ۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی کَثِیرُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِی رَکْعَتَیْنِ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ دُونَ حَدِیثِ کَثِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ مَعَ حَدِیثِ کَثِیرٍ دُونَ قِصَّۃِ ابْنِ الزُّبَیْرِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٦٣٠٦) (الف) زہری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عروہ (رض) سے کہا : آپ کے بھائی عبداللہ بن زبیر نے مدینہ میں صرف دو رکعت صبح کی نماز کی طرح پڑھائی۔ فرمایا : وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے خطا ہوگئی۔
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
6307
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ التَّمِیمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فَأَطَالَ الْقِیَامَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ ، وَلَکِنَّہُمَا مِنْ آیَاتِ اللَّہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہَا فَصَلُّوا ، وَتَصَدَّقُوا وَاذْکُرُوا اللَّہَ ، وَادْعُوہُ))۔ ثُمَّ قَالَ: ((یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللَّہِ إِنْ أَحَدٌ أَغْیَرَ مِنَ اللَّہِ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللَّہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً))۔قَالَتْ: ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ))۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۰۹]
(٦٣٠٧) (الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کردیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا قیام کیا۔ لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا رکوع کیا۔ لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا۔ وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا تو سورج روشن ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ صدقہ، اللہ کا ذکر اور دعا کیا کرو۔ پھر فرمایا : اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم ! تمہارا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم ! اگر تم جان لو۔ جو میں جانتا ہوں تو تم رو زیادہ اور ہنسو کم۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھالیے اور فرمایا : آگاہ رہو ! میں نے پہنچادیا۔
(ب) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔
(ب) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔