Sunan Al Bayhaqi
28. غصب کا بیان
سنن البيهقي
11498
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی وَہُو یَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَلاَ أَیُّ شَہْرٍ تَعْلَمُونَہُ أَعْظَمُ حُرْمَۃً ۔ قَالُوا : شَہْرُنَا ہَذَا قَالَ : أَیُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَہُ أَعْظَمُ حُرْمَۃً ۔ قَالُوا : بَلَدُنَا ہَذَا قَالَ : أتَعْلَمُونَ أَیَّ یَوْمٍ أَعْظَمُ ۔ قَالُوا : یَوْمُنَا ہَذَا قَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ ۔ ثَلاَثًا کُلُّ ذَلِکَ یُجِیبُونَہُ أَلاَ نَعَمْ۔ [بخاری ۶۷۸۵، مسلم ۶۶]
(١١٤٩٣) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوادع کے موقع پر فرمایا : سنو ! تم کس مہینے کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : اپنے اس (ذوالحجہ ) مہینے کو۔ پھر فرمایا : کس شہر کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : اس شہر (مکہ ) کو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو، کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہمارا یہ دن (حج کا دن) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تم پر حرام کردیا ہے، تمہارے خون، مال اور عزتوں کو مگر حق کے ساتھ جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبردار ! کیا میں نی پیغام الٰہیپہنچا دیا ؟ تین دفعہ پوچھا، سب نے ہاں میں جواب دیا۔
11499
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَلاَ أَیُّ بَلَدٍ أَلاَ أَیُّ یَوْمٍ ۔ وَقَالَ : أَلاَ شَہْرُنَا ہَذَا أَلاَ بَلَدُنَا ہَذَا أَلاَ یَوْمُنَا ہَذَا ۔ وَزَادَ فِیہِ : مِنْ شَہْرِکُمْ ہَذَا ۔ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ : وَیْحَکُمْ أَوْ وَیْلَکُمْ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح]
(١١٤٩٤) ایک سند کے ساتھ اس طرح روایت ہے، آپ نے فرمایا : کون سا شہر اور کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے اور فرمایا : ہمارا یہ مہینہ ہمارا یہ شہر ہمارا یہ دن اور یہ بھی اضافہ ہے کہ تمہارے اس مہینے میں ایک زیادتی یہ بھی ہے کہ ہلاکت ہوگی تمہارے لیے ! میرے بعدتم کفر میں نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگ جاؤ۔
11500
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ السَّرِیِّ الرَّافِقِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ : ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ بْنِ ہِلاَلٍ الْقُتَبِیُّ حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ : لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْیَوْمَ رَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- نَاقَتَہُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ : أَتَدْرُونَ أَیَّ یَوْمٍ ہَذَا ۔ فَسَکَتْنَا حَتَّی رَأَیْنَا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ سِوَی اسْمِہِ فَقَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ أَیَّ شَہْرٍ ہَذَا ۔ فَسَکَتْنَا حَتَّی رَأَیْنَا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ سِوَی اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ ذَا الْحِجَّۃِ ۔ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : أَتَدْرُونَ أَیَّ بَلَدٍ ہَذَا ۔ فَسَکَتْنَا حَتَّی رَأَیْنَا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ سِوَی اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ ۔ فَقُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَإِنَّ أَمْوَالَکُمْ وَأَعَرَاضَکُمْ وَدِمَائَ کُمْ حَرَامٌ بَیْنَکُمْ مِثْلُ یَوْمِکُمْ فِی مِثْلِ شَہْرِکُمْ فِی مِثْلِ بَلَدِکُمْ أَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ مَرَّتَیْنِ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ ہُوَ أَوْعَی مِنْ سَامِعٍ ۔ ثُمَّ مَالَ عَلَی نَاقَتِہِ إِلَی غُنَیْمَاتٍ فَجَعَلَ یَقْسِمُہَا بَیْنَ الرِّجْلَیْنِ الشَّاۃَ وَالثَّلاَثَۃِ الشَّاۃَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ وَغَیْرِہِ۔
[بخاری ۱۷۴۲، مسلم ۱۶۷۹]
(١١٤٩٥) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ جب حجۃ الوداع کا دن تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹی پر سوار ہوئے، پھر ٹھہرے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ ہم خاموش ہوگئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ نے فرمایا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم خاموش ہوگئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں یا رسول اللہ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ ہم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ حج کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تمہارا مال ، عزتیں اور تمہارے خون آپس میں حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس دن اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ خبردار جو حاضر ہے اسے غائب تک پہنچا دینا چاہیے۔ یہ دو مرتبہ فرمایا۔ بسا اوقات جسے پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتا ہے۔ پھر آپ اپنی اونٹنی کی طرف مائل ہوئے، غنیمتوں کی طرف آئے، ایک بکری دو آدمیوں کے درمیان آپ تقسیم کرنے لگے اور تین کے درمیان بھی ایک بکری۔
11501
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا : أَبُو الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ وَہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَیْزٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَلاَ یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَیْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّہِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یَخْذُلُہُ وَلاَ یَحْقِرُہُ التَّقْوَی ہَا ہُنَا ۔ یُشِیرُ إِلَی صَدْرِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : بِحَسْبِ امْرئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہُ وَمَالُہُ وَعِرْضُہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [مسلم ۲۵۶۴]
(١١٤٩٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم آپس میں حسد نہ کرو، نہ بغض رکھو اور نہ دشمنی رکھو اور پیٹھ کے پیچھے کسی کی برائی بیان نہ کرو اور نہ تم اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرو اور اللہ کے بندے ! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ حقیر خیال کرتا ہے۔ تقوٰی یہاں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا، آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے۔ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، عزت اور مال حرام ہے۔
11502
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِیَۃَ غَیْرِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُہُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُہُ فَیُنْتَقَلَ طَعَامُہُ فَإِنَّمَا یَخْزُنُ لَہُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِیہِمْ أَطْعِمَتَہُمْ فَلاَ یَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِیَۃَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔
[بخاری ۲۴۳۵، مسلم ۱۷۲۶]
(١١٤٩٧) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی کسی کے جانور کا بغیر اجازت دودھ نہ دوہے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا پینے کا برتن لایا جائے اور اسے توڑ دیا جائے۔ پھر اس کا پانی اور کھانا بہہ جائے، اسی طرح ان کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لیے غم کا باعث ہوتے ہیں، ان میں ان کی غذا ہوتی ہے۔ لہٰذا کوئی شخص بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس جانور کا دودھ نہ نکالے۔
11503
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ الْہَمَذَانِیُّ فِی الْمَرْجِعِ مِنْ مَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا عَدِیُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّ وَہُوَ جَدُّہُ أَبُو أُمِّہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ النُّہْبَی وَالْمُثْلَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [بخاری ۲۴۷۴]
(١١٤٩٨) حضرت عبداللہ بن یزید انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
11504
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۴۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَأْخُذْ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیہِ لاَعِبَ الْجِدِّ وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُکُمْ عَصَا أَخِیہِ فَلْیَرُدَّہَا إِلَیْہِ۔
(١١٤٩٩) عبداللہ بن سائب بن یزید (رض) اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا مال جھانسا دے کر نہ لے اور جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی چھڑی لے تو اسے واپس کر دے۔
11505
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۵۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
[بخاری ۲۴۴۷، مسلم ۲۵۷۹]
(١١٥٠٠) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے۔
11506
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَہُمْ عَلَی أَنْ سَفَکُوا دِمَائَ ہُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [مسلم ۲۵۷۸]
(١١٥٠١) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم سے بچو، بیشک ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ہے اور بخل سے بچو ، بیشک بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا، اس نے ان کو اس پر ابھارا ، پھر انھوں نے خون بہائے اور حرام کو حلال کردیا۔
11507
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۵۰۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَکِّیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَیْفِیٍّ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْیَمَنِ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللَّہِ حِجَابٌ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ وَغَیْرِہِ۔ [بخاری ۲۴۴۸، مسلم ۱۹]
(١١٥٠٢) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجا۔۔۔ اس کے آخر میں فرمایا : مظلوم کی بددعا سے بچنا ، بیشک اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔