Sunan Al Bayhaqi
4. کتاب الصلوة
سنن البيهقي
3396
Sunan Al Bayhaqi(۳۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَنِی لِحَاجَۃٍ ، ثُمَّ أَدْرَکْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَأَشَارَ إِلَیَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِی فَقَالَ: ((إِنَّکَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّی))۔وَہُوَ مُوَجِّہٌ حِینَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۴۰]
(٣٣٩٦) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ جب میں واپس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں پایا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا : تم نے مجھے ابھی ابھی سلام کہا تھا اور میں نماز میں تھا (اس لیے جواب نہیں دیا) اور آپ اس وقت مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔
3397
Sunan Al Bayhaqi(۳۳۹۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنِی أَبُوالزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّی عَلَی بَعِیرِہِ ، فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ لِی بِیَدِہِ ہَکَذَا وَأَوْمَأَ زُہَیْرٌ بِیَدِہِ ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ لِی ہَکَذَا وَأَوْمَأَ زُہَیْرٌ أَیْضًا بِیَدِہِ نَحْوَ الأَرْضِ وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ یُومِئُ بِرَأْسِہِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ لَہُ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أُکَلِّمَکَ إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّی۔ قَالَ زُہَیْرٌ: وَأَبُو الزُّبَیْرِ جَالِسٌ مَعَہُ مُسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ بِیَدِہِ أَبُو الزُّبَیْرِ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ بِیَدِہِ إِلَی غَیْرِ الْکَعْبَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٩٧) سیدنا جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا اور آپ بنی مصطلق کی طرف گئے ہوئے تھے۔ میں جب (کام سے) واپس آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے ہیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا : میں نے پھر بات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس طرح اشارہ کیا اور زہیر نے بھی ایسے ہی اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کیا۔ جابر بیان کرتے ہیں کہ میں سن رہا تھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھ رہے تھے اور سر سے اشارہ بھی کر رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا کر آئے ہو ؟ مجھے کلام سے مانع بات یہ تھی کہ میں نماز میں تھا۔ زہیر کہتے ہیں اور ابو زبیر ان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر بیٹھے تھے تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یعنی اپنے ہاتھ کے ساتھ غیر قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔
3398
Sunan Al Bayhaqi۳۳۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَاجَۃٍ ، فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ إِشَارَۃً۔وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ سُفْیَانَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ کَلاَمًا ، وَرَدَّ عَلَیَّ إِشَارَۃً ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَقَدْ جَمَعَہُمَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ فِی الرِّوَایَۃِ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٩٨) (ا) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کام کے لیے بھیجا ۔ میں (کام سے فارغ ہو کر) آپ کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو اسلام کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سلام کا جواب اشارے سے دیا۔ سفیان وغیرہ کی حدیث کے الفاظ ہیں :” لم یرد علی “ کہ مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔
(ب) ” لم یرد علی “ سے مراد یہ ہے کہ بول کر جواب نہیں دیا بلکہ اشارہ کے ساتھ جواب دیا۔ وباللہ التوفیق
(ب) ” لم یرد علی “ سے مراد یہ ہے کہ بول کر جواب نہیں دیا بلکہ اشارہ کے ساتھ جواب دیا۔ وباللہ التوفیق
3399
Sunan Al Bayhaqi(۳۳۹۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَہُ إِلَی حَاجَۃٍ لَہُ، فَجَائَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یُصَلِّی فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلَّی))۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٩٩) حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجا۔ وہ واپس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہ دیا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : میں تمہارے سلام کا جواب ضرور دیتا مگر میں نماز میں تھا۔
3400
Sunan Al Bayhaqi(۳۴۰۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَائِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَرَدَّ إِلَیَّ إِشَارَۃً۔قَالَ لَیْثٌ حَسِبْتُہُ قَالَ: بِإِصْبَعِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ بِإِسْنَادٍ فِیہِ إِرْسَالٌ أَنَّہُ أَشَارَ بِیَدِہِ بِلاَ شَکٍّ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۳۶۷]
(٣٤٠٠) صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ نے اشارے سے جواب دیا۔ لیث کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انھوں نے فرمایا : اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
3401
Sunan Al Bayhaqi(۳۴۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِمِنًی
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: ذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَسْجِدِ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَائَ لَیُصَلِّی فِیہِ ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ رِجَالُ الأَنْصَارِ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ ، فَسَأَلْتُ صُہَیْبًا وَکَانَ مَعَہُ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِینَ کَانُوا یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی؟ فَقَالَ صُہَیْبٌ: کَانَ یُشِیرُ إِلَیْہِمْ بِیَدِہِ۔قَالَ سُفْیَانُ فَقُلْتُ لِرَجُلٍ: سَلْہُ أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ؟ فَقَالَ: یَا أَبَا أُسَامَۃَ أَسَمِعْتَہُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا قَدْ کَلَّمْتُہُ وَکَلَّمَنِی وَلَمْ یَقُلْ زَیْدٌ سَمِعْتُہُ۔
وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٠١) اس قصہ میں متعدد روایات ہیں، لیکن ان کی اسناد اس قول میں مرسل ہیں کہ انھوں نے بغیر کسی شک کے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف کی مسجد کی طرف قبا میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھائیں۔ انصار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کہا : میں نے صہیب (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں ان کے سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے ؟ تو صہیب (رض) نے کہا : ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی سے کہا : اس سے پوچھ : کیا تو نے یہ ابن عمر (رض) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : اے ابو اسامہ ! کیا تم نے یہ بات ابن عمر (رض) سے سنی ہے ؟ انھوں نے کہا : یقیناً میں نے ان سے بات کی ہے اور انھوں نے مجھ سے بات کی ہے اور زید نے نہیں کہا کہ میں نے ان سے سنا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف کی مسجد کی طرف قبا میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھائیں۔ انصار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کہا : میں نے صہیب (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں ان کے سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے ؟ تو صہیب (رض) نے کہا : ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی سے کہا : اس سے پوچھ : کیا تو نے یہ ابن عمر (رض) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : اے ابو اسامہ ! کیا تم نے یہ بات ابن عمر (رض) سے سنی ہے ؟ انھوں نے کہا : یقیناً میں نے ان سے بات کی ہے اور انھوں نے مجھ سے بات کی ہے اور زید نے نہیں کہا کہ میں نے ان سے سنا ہے۔
3402
Sunan Al Bayhaqi(۳۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَکْرٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ وَہُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی قُبَائَ ، فَجَائَ تِ الأَنْصَارُ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ ، فَإِذَا ہُوَ یُصَلِّی فَجَعَلُوا یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: یَا بِلاَلُ کَیْفَ رَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَرُدُّ عَلَیْہِمْ وَہُوَ یُصَلِّی؟ قَالَ: ہَکَذَا بِیَدِہِ کُلِّہَا یَعْنِی یُشِیرُ۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ ہِشَامٍ فَقَالَ بِلاَلٌ أَوْ صُہَیْبٌ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۹۲۷]
(٣٤٠٢) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبا کی طرف نکلے ۔ انصار کے لوگ حاضر ہو کر آپ کو سلام کہنے لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کو سلام کہنے لگے تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : اے بلال ! آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا ؟ انھوں نے فرمایا : اس طرح اور انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے دکھایا کہ آپ یوں اشارہ کر رہے تھے۔
3403
Sunan Al Bayhaqi(۳۴۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی قُبَائَ فَسَمِعَتْ بِہِ الأَنْصَارُ ، فَجَائُ وا یُسَلِّمُونَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔قَالَ فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ أَوْ صُہَیْبٍ: کَیْفَ رَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَرُدُّ عَلَیْہِمْ وَہُمْ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی؟
قَالَ: یُشِیرُ بِیَدِہِ۔قَالَ وَبَلَغَنِی فِی غَیْرِ ہَذَا الْحَدِیثِ أَنَّ صُہَیْبًا الَّذِی سَأَلَہُ ابْنُ عُمَرَ ، ابْنُ وَہْبٍ یَقُولُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ: کِلاَ الْحَدِیثَیْنِ عِنْدِی صَحِیحٌ وَقَدْ رَوَاہُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ بِلاَلٍ وَصُہَیْبٍ جَمِیعًا۔ [صحیح لغیرہ۔ اہل الحدیث مضی قبلہ]
(٣٤٠٣) (ا) نافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبا کی طرف تشریف لے گئے۔ انصار کو آپ کے بارے میں پتا چلا تو وہ حاضر ہو کر آپ کو سلام کرنے لگے (آپ نماز میں تھے) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے بلال یا صہیب (رض) سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے تھے۔
3404
Sunan Al Bayhaqi۳۴۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ سَلَّمَ عَلَی رَجُلٍ وَہُوَ یُصَلِّی فَرَدَّ عَلَیْہِ الرَّجُلُ کَلاَمًا فَقَالَ: إِذَا سُلِّمَ عَلَی أَحَدِکُمْ وَہُوَ یُصَلِّی فَلاَ یَتَکَلَّمْ ، وَلَکِنْ یُشِیرُ بِیَدِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳۴۹۵]
(٣٤٠٤) نافع سیدنا ابن عمر (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک آدمی کو سلام کہا اور وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس آدمی نے سلام کا جواب الفاظ کے ساتھ دیا تو انھوں نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ کلام نہ کرے بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرلے۔
3405
Sunan Al Bayhaqi(۳۴۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ مُوسَی بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَمِیلٍ الْجُمَحِیَّ سَلَّمَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ یُصَلِّی فَأَخَذَ بِیَدِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ]
(٣٤٠٥) عطاء بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عبداللہ بن جمیل جمحی نے سیدنا ابن عباس (رض) کو حالت نماز میں سلام کیا تو انھوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔