hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

9. کتاب الجنائز

سنن البيهقي

6504
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ أَمْلاَہُ عَلَیْنَا مِنْ حَفْظِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنَ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْجَنَّۃُ أَقْرَبُ إِلَی أَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٠٤) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت تم میں سے ایک کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہے اور دوزخ بھی ایسے ہے۔
6505
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَّ خُطُوطًا وَخَطَّ خَطًّا نَاحِیَۃً ثُمَّ قَالَ : ((ہَلْ تَدْرُونَ مَاذَا ہَذَا مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمُتَمَنِّی وَذَلِکَ الْخَطُّ الأَمَلُ بَیْنَمَا یَأْمَلُ إِذْ جَائَ ہُ الْمَوْتُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٠٥) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ خط کھینچے اور اس کے ارد گرد بھی ایک دائرہ لگایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ یہ ابن آدم اور اس کی آرزوؤں کی مثال ہے اور یہ لکیر اس کی امید کی ہے جو وہ امیدیں کرتا ہے مگر اس کو موت آ لیتی ہے۔
6506
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۶) وَحَدَّثَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحَسَنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَہْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَی مِنْہُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالأَمَلُ))۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ فَذَکَرَہُ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٠٦) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اس کی دو چیزیں باقی رہتی ہیں :1 طمع، 2 امید۔ “
6507
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَلْبُ الشَّیْخِ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَیْنِ عَلَی جَمْعِ الْمَالِ وَطُولِ الْحَیَاۃِ))۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٠٧) ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے دو چیزوں کی محبت میں : امال اکٹھا کرنے میں اور لمبی زندگی کیلئے۔
6508
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّیرَازِیُّ الْفَقِیہُ وَأَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَی إِلَیْہِمَا مِثْلَہُ ، وَلاَ یَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَنْ تَابَ))۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلاَ أَدْرِی مِنَ الْقُرْآنِ ہِیَ أَمْ لاَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُمْ کَانُوا یَرَوْنَہُ مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّی نَزَلَتِ {أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} إِلَی آخِرِہَا۔ [صحیح۔ بخاری]
(٦٥٠٨) حضرت عبداللہ بن عباس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ دو اور کی تلاش کرتا ہے اور ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ ہمیں ابی بن کعب نے روایت بیان کی، وہ اسے قرآن میں سے خیال کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہوئیں : ” الھکم التکاثر۔۔۔“ تمہیں مال کی کثرت نے ہلاک کردیا (مشغول کردیا) حتیٰ کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے یعنی فوت ہوگئے۔
6509
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَیُّکُمْ مَالُ وَارِثِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِہِ ۔ قَالُوا : مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ مَالُہُ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِ وَارِثِہِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اعْلَمُوا أَنْ لَیْسَ مِنْکُمْ أَحَدٌ إِلاَّ وَمَالُ وَارِثِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِہِ مَالُکَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِکَ مَا أَخَّرْتَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٠٩) حضرت عبداللہ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کون ہے تم میں سے جسے اپنے مال سے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو تو انھوں نے کہا : ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنے مال سے زیادہ وارث کے مال کو محبوب نہ جانے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اسے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے تو پھر تیرا مال وہ ہے جو تو نے آگے بھیجا اور جو تو نے پیچھے چھوڑا وہ تیرے ورثاء کا ہے۔
6510
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((یَقُولُ الْعَبْدُ مَالِی مَالِی ، إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلاَثٌ مَا أَکَلَ فَأَفْنَی، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَی ، أَوْ أَعْطَی فَأَمْضَی وَمَا سِوَی ذَلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٥١٠) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ کہتا ہے : میرا مال میرا مال ! مگر اس کا مال تین طرح کا ہے : جو اس نے کھالیا اور ہضم کرلیا یا جو پہن لیا اور پھاڑ لیا یا جو دے دیا اور آگے بھیج دیا اور جو ان کے علاوہ ہے وہ اسے چھوڑنے والا اور اللہ کی طرف جانے والا ہے۔
6511
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ: ((إِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ ، وَإِنَّ اللَّہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیہَا فَنَاظِرٌ کَیْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَفِتْنَۃَ النِّسَائِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مَسْلَمَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٥١١) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا پیچھا کرنے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم کیا اعمال کرتے ہو، سو تم دنیا سے اور عورتوں کے فتنہ سے بچو۔
6512
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیُّ أَبُو الْمُنْذِرِ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ حَدَّثَنِی مُجَاہِدٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَنْکِبِی فَقَالَ : ((کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ))۔ قَالَ وَقَالَ لِی ابْنُ عُمَرَ : إِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الْمَسَائَ وَإِذَا أَمْسَیْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِکَ لِمَسَاوِیکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥١٢) عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا ( کندھا پکڑا) اور فرمایا : تو دنیا میں ایسے رہ گویا کہ تو اجنبی ہے یا پھر راستہ عبور کرنے والا مسافر ہے۔ راوی کہتے ہیں : مجھے ابن عمر نے کہا : جب تو صبح کرے تو شام کا انتظار نہ کر اور جب تو شام کرلے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کر اور اپنے گناہوں کو مٹانے کیلئے نیک اعمال کر۔
6513
Sunan Al Bayhaqi
(۶۵۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلَمَۃٌ لأَخِیہِ مِنْ عِرْضِہِ أَوْ مَالِہِ فَلْیُؤَدِّہَا إِلَیْہِ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ لاَ یُقْبَلُ فِیہِ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ إِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْہُ وَأُعْطِیَ صَاحِبُہُ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہِ فَحُمِلَتْ عَلَیْہِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ أَنْ لاَ یَکُونَ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥١٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کسی کے پاس اس کے بھائی کی ظلم (ناجائز) سے ماری ہوئی عزت یا مال ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو ادا کر دے اس سے پہلے کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس سے کوئی درہم و دینار قبول نہ کیا جائے ۔ اگر اس کے اعمال صالح ہوں گے تو وہ اس سے لے لیے جائیں گے اور اس کے ساتھی کو دیے جائیں گے ۔ اگر اس کے پاس اعمال صالحہ نہیں ہوں گے تو اس کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔
امام بخاری نے ابن ابی ذئب سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ لفظ بیان کیے ہیں کہ اسے چاہیے کہ آج ہی ادا کر دے اس سے قبل جب اس کے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا۔