hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

61. سیر کا بیان

سنن البيهقي

17707
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : إِنِّی لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ قَوْمٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَی یَابَنِی تَمِیمٍ ۔ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَی یَا أَہْلَ الْیَمَنِ إِذْ لَمْ یَقْبَلْہَا بَنُو تَمِیمٍ ۔ قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْنَا لِنَتَفَقَّہَ فِی الدِّینِ وَنَسْأَلَکَ عَنْ أَوَّلِ ہَذَا الأَمْرِ مَا کَانَ قَالَ : کَانَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ قَبْلَہُ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَکَتَبَ فِی الذِّکْرِ کُلَّ شَیْء ۔ قَالَ : وَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَاحِلَتُکَ أَدْرِکْ نَاقَتَکَ فَقَدْ ذَہَبَتْ ۔ فَانْطَلَقْتُ فِی طَلَبِہَا فَإِذَا السَّرَابُ یَنْقَطِعُ دُونَہَا وَایْمُ اللَّہِ لَوَدِدْتُ أَنَّہَا ذَہَبَتْ وَأَنِّی لَمْ أَقُمْ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣١٩٠، ٣١٩٢، ٤٣٦٠، ٤٣٨٦]
(١٧٧٠١) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا کہ آپ کے پاس بنی تمیم کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا : اے بنو تمیم ! خوش ہو جاؤ، انھوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو سنا دی۔ کچھ عطاء بھی کریں۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اہل یمن ! تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی بشارتِ (اسلام) کو قبول کیا اور ہم آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہاں پر پہلے کیا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلے اللہ عزوجل ہی کی ذات تھی اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ اے عمران بن حصین ! اپنی سواری کا خیال کرو۔ وہ بھاگ گئی ہے۔ حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں اونٹنی کی تلاش میں نکلا اور وہ ریتلا علاقہ پار کرچکی تھی۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اونٹنی کے پیچھے نہ جاتا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں سنتا رہتا۔
17708
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ قَالُوا : جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ ہَذَا الأَمْرِ قَالَ : کَانَ اللَّہُ وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ غَیْرُہُ وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ وَکَتَبَ فِی الذِّکْرِ کُلَّ شَیْئٍ وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ ۔ وَالْمُرَادُ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ثُمَّ خَلَقَ الْمَائَ وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَی الْمَائِ وَخَلَقَ الْقَلَمَ وَأَمَرَہُ فَکَتَبَ فِی الذِّکْرِ کُلَّ شَیْئٍ ۔ [صحیح۔ کما تقدم ]
(١٧٧٠٢) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا۔ پھر انھوں نے حدیث بیان کی اور اس میں یہ الفاظ اس طرح تھے کہ انھوں نے کہا : ہم آپ سے عالم کی پیدائش کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ ہی تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد اللہ بہتر جانتا ہے یہ ہے پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔
17709
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِم : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَیْئٍ الْقَلَمُ فَقَالَ اکْتُبْ ۔ قَالَ : یَا رَبِّ وَمَا أَکْتُبُ ؟ قَالَ : اکْتُبِ الْقَدَرَ ۔ قَالَ : فَجَرَی بِمَا ہُوَ کَائِنٌ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ إِلَی قِیَامِ السَّاعَۃِ قَالَ ثُمَّ خَلَقَ النُّونَ فَدَحَا الأَرْضَ عَلَیْہَا فَارْتَفَعَ بُخَارُ الْمَائِ فَفَتَقَ مِنْہُ السَّمَوَاتِ وَاضْطَرَبَ النُّونُ فَمَادَتِ الأَرْضُ فَأُثْبِتَتْ بِالْجِبَالِ وَإِنَّ الْجِبَالَ لَتَفْخَرُ عَلَی الأَرْضِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ [صحیح ]
(١٧٧٠٣) حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ چیزوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا : لکھ۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے کہا : تقدیر کو لکھو۔ پس اس نے جو کچھ اس دن سے لے کر قیامت تک ہونا تھا لکھ دیا۔ ابن عباس (رض) نے کہا : پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیدا کیا اور اس پر زمین کو پھیلا دیا۔ اس طرح پانی سے بخارات بلند ہوئے تو اس سے آسمان الگ ہوگئے اور مچھلی نے حرکت کی تو زمین کے اندر پھیلاؤ اور جنبش آئی تو اس کو پہاڑوں سے ثابت اور مضبوط کردیا گیا اور اسی وجہ سے پہاڑ زمین پر قیامت تک فخر کرتے ہیں۔
17710
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ الرَّازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِیلٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِیبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ شَیْئٍ خَلَقَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ الْقَلَمُ وَأَمَرَہُ فَکَتَبَ کُلَّ شَیْئٍ یَکُونُ ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا فِی حَدِیثِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوعًا۔ [صحیح ]
(١٧٧٠٤) حضرت ابن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے پہلے اللہ عزوجل نے قلم کو پیدا کیا اور اسے ہر وہ چیز جو ہونے والی تھی لکھنے کا حکم دیا۔ اور یہی چیز عبادہ بن صامت کی مرفوع حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
17711
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی یَحْیَی بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ وَأَنَا أَسْمَعُ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَدِی : فَقَالَ خَلَقَ اللَّہُ التُّرْبَۃَ یَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِیہَا الْجِبَالَ یَوْمَ الأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ یَوْمَ الاِثْنَینِ وَخَلَقَ الْمَکْرُوہَ یَوْمَ الثَّلاَثَائِ وَخَلَقَ النُّورَ یَوْمَ الأَرْبَعَائِ وَبَثَّ فِیہَا الدَّوَابَّ یَوْمَ الْخَمِیسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ آخِرَ الْخَلْقِ فِی آخِرِ سَاعَۃٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَۃِ فِیمَا بَیْنَ الْعَصْرِ إِلَی اللَّیْلِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ یُونُسَ وَہَارُونَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۔[صحیح۔ مسلم ]
(١٧٧٠٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور مکروہ چیزوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانداروں کو زمین پر جمعرات کے دن پھیلایا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا جو آخری مخلوق ہیں اور جمعہ کی گھڑیوں میں آخری گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہے۔
17712
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الدَّامَغَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ الطُّوسِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَظُنُّہُ عَنْ أَخِیہِ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لاَ یَسْأَلُ اللَّہَ فِیہَا عَبْدٌ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ ۔ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَمٍ : إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی بَدَأَ الْخَلْقَ فَخَلَقَ الأَرْضَ یَوْمَ الأَحَدِ وَیَوْمَ الاِثْنَیْنِ وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الثُّلاَثَائِ وَیَوْمَ الأَرْبِعَائِ وَخَلَقَ الأَقْوَاتَ وَمَا فِی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ یَوْمَ الْخَمِیسِ وَیَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَرَغَ مِنْ ذَلِکَ عِنْد صَلاَۃِ الْعَصْرِ فَتِلْکَ السَّاعَۃُ مَا بَیْنَ الْعَصْرِ إِلَی غُرُوبِ الشَّمْسِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٧٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں کوئی بندہ اپنے رب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کردیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عبداللہ بن سلام (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا کی۔ اتوار کو اور پھر زمین کو پیدا کیا اور منگل اور بدھ کو آسمانوں کو پیدا کیا اور جمعرات اور جمعہ کو خوراک اور جو کچھ زمین میں ہے ان کو پیدا کیا اور ان چیزوں کی پیدائش سے عصر کی نماز کے قریب فارغ ہوئے پس یہ ہے گھڑی جو عصر اور غروب شمس کے درمیان ہے۔
17713
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الصَّنْعَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِی عَوْفٌ عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ مِنْ أَدِیمِ الأَرْضِ کُلِّہَا فَخَرَجَتْ ذُرِّیَّتُہُ عَلَی حَسَبِ ذَلِکَ مِنْہُمُ الأَبْیَضُ وَالأَسْوَدُ وَالأَسْمَرُ وَالأَحْمَرُ وَمِنْہُمْ بَیْنَ ذَلِکَ وَمِنْہُمُ السَّہْلُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ۔ [صحیح ]
(١٧٧٠٧) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو روئے زمین کی تمام مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر اس کی اولاد اسی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں سے بعض سفید ہیں اور بعض سیاہ، اور کچھ سانولے (گندمی) رنگ کے ہیں تو کچھ سرخ ہیں اور اسی طرح ان میں سے کچھ نرم مزاج ہیں اور کچھ خبیث النفس ہیں اور کچھ اچھے ہیں۔
17714
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : خُلِقَ آدَمُ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الأَرْضِ فَجَائَ بَنُو آدَمَ عَلَی قَدْرِ الأَرْضِ مِنْہُمُ الأَحْمَرُ وَالأَسْوَدُ وَالسَّہْلُ وَالْحَزَنُ وَبَیْنَ ذَلِکَ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ۔ [صحیح ]
(١٧٧٠٨) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جو اس نے تمام زمین سے لی تھی تو آدم کی اولاد بھی اسی زمین کی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں کچھ سرخ ہیں اور کچھ سیاہ اور کچھ نرم ہیں اور کچھ سخت اور اسی طرح کچھ اچھے ہیں اور کچھ برے۔
17715
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَأَبُو الأَزْہَرِ وَحَمْدَانُ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : خُلِقَتِ الْمَلاَئِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ مسلم ] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونَ } [الذاریات ٥٦] قَالَ الشَّافِعِیُّ : خَلَقَ اللَّہُ الْخَلْقَ لِعِبَادَتِہِ یَعْنِی مَنْ شَائَ مِنْ عِبَادِہِ أَوْ لِیَأْمُرَ مَنْ شَائَ مِنْہُمْ بِعِبَادَتِہِ وَیَہْدِی مِنْ یَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔
(١٧٧٠٩) حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے نور سے پیدا ہوئے اور جن آگ کے شعلے سے اور آدم کی پیدائش کا وصف بیان کردیا گیا ہے (وہ تم جانتے ہی ہو) ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن } [الذاریات ٥٦] کہ ” میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا یا اپنی عبادت کا حکم دیا اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلا کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
17716
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ فَیْرُوزَ الدَّیْلَمِیُّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ أَلْقَی عَلَیْہِمْ مِنْ نُورِہِ فَمَنْ أَصَابَہُ مِنْ ذَلِکَ النُّورِ یَوْمَئِذٍ شَیْئٌ اہْتَدَی وَمَنْ أَخْطَأَہُ ضَلَّ فَلِذَلِکَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَی عِلْمِ اللَّہِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَنَّ خِیرَتَہُ مِنْ خَلْقِہِ أَنْبِیَاؤُہُ فَقَالَ { کَانَ النَّاسُ أَمَۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ } [البقرۃ ٢١٣] فَجَعَلَ نَبِیَّنَا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَصْفِیَائِہِ دُونَ عِبَادِہِ بِالأَمَانَۃِ عَلَی وَحْیِہِ وَالْقِیَامِ بِحُجَّتِہِ فِیہِمْ ۔ [صحیح۔ الدیلمی ]
(١٧٧١٠) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہوگئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے : { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ” پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا “ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔