Sunan Al Bayhaqi
3. جمعہ کا بیان
سنن البيهقي
2790
Sunan Al Bayhaqi(۲۷۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُسْرَی ، وَکَفَّہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، وَأَشَارَ بِإِصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ لاَ یُجَاوِزُ بَصَرُہُ إِشَارَتَہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۶۱۴۵]
(٢٧٩٠) عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے اور آپ کی نگاہ آپ کے اشارے سے آگے نہ بڑھتی تھی۔
2795
Sunan Al Bayhaqi(۲۷۹۵) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ فِی الْجَامِعِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِیمِیِّ وَہُوَ أَرْبَدَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ہُوَ الإِخْلاَصُ۔ وَعَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ذَلِکَ التَّضَرُّعُ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: مَقْمَعَۃٌ لِلشَّیْطَانِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُنَّ۔ [ضعیف]
(٢٧٩٥) (ا) ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایسا کرنا اخلاص ہے۔
(ب) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایسا کرنا عاجزی ہے۔
(ج) عثمان مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔
(ب) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایسا کرنا عاجزی ہے۔
(ج) عثمان مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔
2810
Sunan Al Bayhaqi(۲۸۱۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی رَجُلاً وَہُوَ جَالِسٌ مُعْتَمِدًا عَلَی یَدِہِ الْیُسْرَی فِی الصَّلاَۃِ وَقَالَ: إِنَّہَا صَلاَۃُ الْیَہُودِ ۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی ہَذَا أَیْضًا مَا۔ [صحیح۔ وقد تقدم]
(٢٨١٠) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں بیٹھنے کی حالت میں اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع فرمایا اور فرمایا : یہ یہودیوں کی نماز ہے۔
5562
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ} [البروج: ۳] قَالَ: الشَّاہِدُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَالْمَشْہُودُ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔
[قوی۔ أخرجہ ابن جریر فی تفیسرہ ۱۲/۵۲۰]
(٥٥٦٢) بنو ہاشم کے غلام عمار ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ } [البروج : ٣] میں الشَّاہِدُ سے مراد جمعہ کا دن “ اور وَالْمَشْہُودُ سے مراد عرفہ کا دن۔
5563
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۳) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمَلائً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ زَیْدٍ وَیُونُسَ بْنَ عُبَیْدٍ یُحَدِّثَانِ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
أَمَّا عَلِیٌّ فَرَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَمَّا یُونُسُ فَلَمْ یَعْدُ أَبَاہُرَیْرَۃَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ} [البروج:۳] قَالَ: الشَّاہِدُ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ الْجُمُعَۃِ، وَالْمَشْہُودُ ہُوَ الْمَوْعُودُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ۔
[حسن لغیرہٖ۔ احمد۲/۲۹۸]
(٥٥٦٣) عمار جو بنو ہاشم کے غلام ہیں ، ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں۔ علی نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے اور یونس نے ابوہریرہ (رض) سے تجاوز نہیں کیا۔ ان کلمات میں { وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ } [البروج : ٣] کہتے ہیں کہ الشَّاہِدُ سے مراد جمعہ اور عرفہ کا دن ہے اور وَالْمَشْہُودُ سے مراد قیامت کا دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
5564
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبَزَّازُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ أَخْبَرَنِی أَیُّوبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الْیَوْمُ الْمَوْعُودُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ ، وَالشَّاہِدُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَالْمَشْہُودُ یَوْمُ عَرَفَۃَ))۔ [لغیرہٖ۔ انظر ما قبلہ]
(٥٥٦٤) عبداللہ بن رافع ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الْیَوْمُ الْمَوْعُودُ سے مراد قیامت کا دن اور الشَّاہِدُ سے مراد جمعہ کا دن اور الْمَشْہُودُ سے مرادعرفہ کا دن ہے۔
5565
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الُّسوسِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی شُعَیْبٌ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ: عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ذَکْوَانَ الْمَدَنِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ الأَعْرَجِ مَوْلَی رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ مِمَّا ذَکَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ بِہِ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّہُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ ، ثُمَّ ہَذَا یَوْمُہُمُ الَّذِی فُرِضَ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوا فِیہِ فَہَدَانَا اللَّہُ لَہُ وَالنَّاسُ لَنَا فِیہِ تَبَعٌ الْیَہُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۳۶]
(٥٥٦٥) عبداللہ بن ہر مزاعرج جو ربیعہ بن حارث کے غلام ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم آخر میں آنے والے ہیں، لیکن قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہیں۔ علاوہ اس کے کہ وہ ہم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور ہم ان کے بعد۔ پھر یہ دن (جمعہ) جو ان پر فرض کیا گیا، انھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی اور لوگ ہمارے تابع ہیں۔ یہودی ہمارے ایک دن بعد اور عیسائی دو دن بعد۔
5566
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((نَحْنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَایْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّۃٍ أُوتِیَتِ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ ثُمَّ ہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَیْنَا ہَدَانَا اللَّہُ لَہُ ، وَالنَّاسُ لَنَا فِیہِ تَبَعٌ الْیَہُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ بِہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(٥٥٦٦) اعرج ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم دنیا کے اعتبار سے آخری ہیں، لیکن آخرت میں لوگوں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ علاوہ اس کے کہ تمام امتیں ہم سے پہلے کتابیں دی گئیں اور ہم ان کے بعد کتاب دیے گئے۔ پھر یہ دن (جمعہ) اللہ نے ہمارے اوپر فرض کردیا اور اللہ نے ہماری رہنمائی بھی فرمائیجب کہ لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں : یہودی ایک دن بعد اور عیسائی دو دن بعد۔
5567
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((نَحْنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَحَدُہُمَا بَایْدَ وَقَال الآخَرُ بَیْدَ أَنَّہُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ ، ثُمَّ ہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوا فِیہِ۔فَہَدَانَا اللَّہُ لَہُ وَالنَّاس لَنَا فِیہِ تَبَعٌ الْیَہُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ حِوَالَۃً عَلَی مَا قَبْلَہُ وَفِی الَّذِی قَبْلَہُ قَالَ عَلَیْنَا وَفِی ہَذَا قَالَ عَلَیْہِمْ کَمَا رُوِّینَا وَلَمْ یُمَیِّزْ ذَلِکَ وَلَعَّلَ عَلَیْہِمْ أَصَحُّ لِمُوَافَقَۃِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَلَی ذَلِکَ۔
[صحیح۔ معنی تخریجہ]
(٥٥٦٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم دنیا کے اعتبار سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا : باید اور دوسرے نے بید کہا۔ وہ ہم سے پہلے کتاب دیے گئے اور ہم ان کے بعد کتاب دیے گئے۔ پھر یہ دن جو اللہ نے ان پر فرض کیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا۔ پھر اللہ نے ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں۔ یہودی ایک دن بعد اور عیسائی دو دن بعد۔
5568
Sunan Al Bayhaqi(۵۵۶۸) وَلِمَا حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی وَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ ((فَہَذَا یَوْمُہُمُ الَّذِی افْتُرِضَ عَلَیْہِمْ))۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ]
(٥٥٦٨) اعرج ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس جیسی حدیث ذکر کی ، یعنی شعیب بن ابی حمزہ سے لیکن کچھ الفاظ زائد ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ان کا دن ہے جو اللہ نے ان پر فرض کیا تھا۔