Sunan Al Bayhaqi
48. ایلاء کا بیان
سنن البيهقي
15213
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : أَدْرَکْتُ بِضْعَۃَ عَشَرَ مِنَ الصَّحَابَۃِ أَیْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کُلُّہُمْ یَقُولُ : یُوقَفُ الْمَوْلَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَقَلُّ بِضْعَۃَ عَشَرَ أَنْ یَکُونُوا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ وَہُمْ یَقُولُونَ مِنَ الأَنْصَارِ۔ [صحیح]
(١٥٢٠٧) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس سے زائد صحابہ (رض) کو پایا جو یہ کہتے تھے کہ ایلا کرنے والے کو قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بِضْعَۃَ عَشَرَ کا کم سے کم مصداق تیرہ ہیں اور وہ کہتے ہیں : یہ انصار میں سے تھے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بِضْعَۃَ عَشَرَ کا کم سے کم مصداق تیرہ ہیں اور وہ کہتے ہیں : یہ انصار میں سے تھے۔
15214
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ مَوْلًی لِزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- : الإِیلاَئُ لاَ یَکُونُ طَلاَقًا حَتَّی یُوقَفَ۔ [حسن]
(١٥٢٠٨) ثابت بن عبید جو زید بن ثابت (رض) کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ ١٢ صحابہ کرام (رض) فرماتے ہیں کہ ایلا طلاق نہیں ہے یہاں تک کہ ایلا کرنے والے کو قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے۔
15215
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الرَّجُلِ یُؤْلِی قَالُوا : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَیُوقَفَ فَإِنْ فَائَ وَإِلاَّ طَلَّقَ۔ [حسن]
(١٥٢٠٩) سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ١٢ صحابہ کرام (رض) سے ایلا کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھا : تو انھوں نے فرمایا : اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن جب چار ماہ گزر جائیں تو ایلا کرنے والے کو کھڑا کیا جائے گا، اگر رجوع کرے تو درست وگرنہ طلاق دے۔
15216
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُوقِفُ الْمُؤْلِی۔ [صحیح]
(١٥٢١٠) طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے تھے۔
15217
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ : أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَرَی الإِیلاَئَ شَیْئًا وَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ حَتَّی یُوقَفَ۔ [ضعیف]
(١٥٢١١) قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) قسم اٹھانے کو کچھ بھی خیال نہیں کرتے تھے۔ اگر چار ماہ گزر جاتے تو قسم اٹھانے والے کو کھڑا کیا جاتا۔
15218
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ قَالَ : شَہِدْتُ عَلِیًّا أَوْقَفَ الْمُؤْلِی۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٢١٢) عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس موجود تھا، وہ ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے۔
15219
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوْقَفَ الْمُؤْلِی۔
[حسن لغیرہ]
(١٥٢١٣) مروان بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے، یعنی اس لیے کہ یا تو بیوی سے رجوع کرو یا طلاق دو ۔
15220
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُوقِفُ الْمُؤْلِی۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٢١٤) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے۔
15221
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ فِی الإِیلاَئِ : إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَلَمْ یُوقَفْ فَلَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ وَلَوْ مَرَّتِ السَّنَۃُ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ طَلاَقٌ حَتَّی یُوقَفَ۔ [ضعیف]
(١٥٢١٥) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ایلا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں اور ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے تو یہ طلاق نہ ہوگی، اگر سال بھی گزر جائے تو طلاق نہ ہوگی، جب تک ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے۔
15222
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یُوقَفُ بَعْدَ الأَرْبَعَۃِ فَإِمَّا أَنْ یَفِیئَ وَإِمَّا أَنْ یُطَلِّقَ۔ [صحیح]
(١٥٢١٦) عبدالرحمن بن ابی لیلی حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایلا کرنے والے کو چار ماہ کے بعد کھڑا کیا جائے گا یا تو بیوی سے رجوع کرے یا طلاق دے۔