hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

6. کتاب العیدین

سنن البيهقي

6123
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحْمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْفَضْلِ: عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحْمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامِ بْنِ مَلاَّسٍ النُّمَیْرِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ وَلأَہْلِ الْمَدِینَۃِ یَوْمَانِ یَلْعَبُونَ فِیہِمَا بِالْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ: قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ وَلَکُمْ یَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِیہِمَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، وَقَدْ أَبْدَلَکُمُ اللَّہُ بِہِمَا خَیْرًا مِنْہُمَا یَوْمَ النَّحْرِ وَیَوْمَ الْفِطْرِ ۔لَفْظُ حَدِیثِ الْفَزَارِیِّ ۔ [صحیح۔ ابو داؤد ۳۴/۱]
(٦١٢٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے اور اہل مدینہ کے لیے دو دن مقرر تھے، جن میں وہ کھیلا کرتے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے پاس آیا اور تمہارے لیے دو دن زمانہ جاہلیت سے مقرر تھے، جن میں تم کھیلا کرتے تھے۔ ان کے بدلے اللہ نے تمہارے لیے بہتر دن بدل دیے ہیں : ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔
6124
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحْمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِیُّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ زَاذَانَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الْغُسْلِ قَالَ: اغْتَسِلْ کُلَّ یَوْمٍ إِنْ شِئْتَ۔فَقَالَ: لاَ الْغُسْلُ الَّذِی ہُوَ الْغُسْلُ قَالَ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَیَوْمَ عَرَفَۃَ ، وَیَوْمَ النَّحْرِ ، وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔ [جید۔ أخرجہ الشافعی ۱۷۶۵]
(٦١٢٤) زاذان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے غسل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو ہر روز غسل کر۔ عرض کیا : نہیں، اس غسل کے بارے میں سوال نہیں، فرمایا : جمعہ کے دن ‘ عرفہ ‘ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کر۔
6125
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحْمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَغْدُوَ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عَجْلاَنَ وَغَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ فَقَالَ فِی الْعِیدَیْنِ الأَضْحَی وَالْفِطْرِ۔ [صحیح۔ مالک ۴۲۶]
(٦١٢٥) (الف) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر کی طرف جانے سے پہلیغسل فرماتے تھے۔
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ عید الاضحی اور عید الفطر میں غسل فرماتے۔
6126
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۶) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ ثُمَّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ۔ وَرَوَی حَجَّاجُ بْنُ تَمِیمٍ وَلَیْسَ بِقَوِیٍّ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الأَضْحَی۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا جُبَارَۃُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِیمٍ حَدَّثَنِی مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ فَذَکَرَہُ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: رِوَایَتُہُ لَیْسَتْ بِمُسْتَقِیمَۃٍ۔ [ضعیف جداً۔ ابن ماجہ ۱۳۱۵]
(٦١٢٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرماتے۔
6127
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۷) قَالَ الشَّافِعِیُّ: سَمِعْتُ مَنْ أَرْضَی مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ یَقُولُ: فَتُکْمِلُوا عِدَّۃَ صَوْمِ شَہْرِ رَمَضَانَ وَتُکَبِّرُوا اللَّہَ عِنْدَ إِکْمَالِہِ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَإِکْمَالُہُ مَغِیبُ الشَّمْسِ مِنْ آخِرِ یَوْمٍ مِنْ أَیَّامِ شَہْرِ رَمَضَانَ۔أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ عَنِ الشَّافِعِیِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَبَلَغَنِی عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی} [الأعلی: ۱۵] قَالَ: ذَکَرَ اللَّہَ وَہُوَ یَنْطَلِقُ إِلَی الْعِیدِ۔ [صحیح۔ کتاب الام ۱/۳۸۴]
(٦١٢٧) ابن عباس (رض) { وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی } [الأعلی : ١٥] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے جب عید کی جانب جاتا ہے۔
6128
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مُصَفَّی حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْعَطَّارُ ثِقَۃٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یُکَبِّرُ لَیْلَۃَ الْفِطْرِ حَتَّی یَغْدُوَ إِلَی الْمُصَلَّی۔ذِکْرُ اللَّیْلَۃِ فِیہِ غَرِیبٌ۔ [ضعیف]
(٦١٢٨) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر کی رات اور جاتے وقت تکبیریں کہتے تھے۔ رات کا ذکر اس میں غریب ہے۔
6129
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ سَعِیدٍ الْقَطَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَغْدُو إِلَی الْعِیدِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَکَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ حَتَّی یَأْتِیَ الْمُصَلَّی وَیُکَبِّرُ حَتَّی یَأْتِیَ الإِمَامُ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَقَالَ: یَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَی وَہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہَیْنِ ضَعِیفَیْنِ مَرْفُوعًا۔ أَمَّا أَمْثَلُہُمَا۔ [قوی۔ حاکم ۱/۴۳۸]
(٦١٢٩) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ صبح عید الفطر کے لیے مسجد میں جاتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے ، عید گاہ تک پہنچنے تککہتے رہتے اور امام کے آنے تک بھی تکبیریں کہتے رہتے۔
6130
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۳۰) فَأَخْبَرَنَاَہُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَخْرُجُ فِی الْعِیدَیْنِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّہِ ، وَالْعَبَّاسِ ، وَعَلِیٍّ ، وَجَعْفَرٍ ، وَالْحَسَنِ ، وَالْحُسَیْنِ ، وَأُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، وَزِیدِ بْنِ حَارِثَۃَ ، وَأَیْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَیْمَنَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ رَافِعًا صَوْتَہُ بِالتَّہْلِیلِ وَالتَّکْبِیرِ فَیَأْخُذُ طَرِیقَ الْجَدَّادِینَ حَتَّی یَأْتِیَ الْمُصَلَّی۔وَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ عَلَی الْحَذَّائِینَ حَتَّی یَأْتِیَ مَنْزِلَہُ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۱۴۳۱]
(٦١٣٠) نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں فضل بن عباس، عبداللہ عباس، علی، جعفر، حسن، حسین، اسامۃ بن زید، زید بن حارثہ اور ایمنبن ام ایمن (رض) کے ساتھ نکلتے تھے اور وہ تکبیر و تہلیل سے اپنی آواز کو بلند فرماتے تھے۔ مسجد جاتے آتے نیا راستہ اختیار فرماتے اور جب فارغ ہوتے تو حذائیین پر جاتی پھر اپنے گھر پلٹتے۔
6131
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۳۱) وَأَمَّا أَضْعَفُہُمَا فَأَخْبَرَنَاَہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَیْسٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَائٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُکَبِّرُ یَوْمَ الْفِطْرِ مِنْ حِینِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ حَتَّی یَأْتِیَ الْمُصَلَّی۔ مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَائٍ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ ضَعِیفٌ وَالْوَلِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَوْقَرِیُّ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَۃِ أَمْثَالِہِمَا وَالْحَدِیثُ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہِ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ مِثْلَ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی التَّکْبِیرِ عِنْدَ الْغُدُوِّ إِلَی الْمُصَلَّی۔ [ضعیف جداً۔ الحاکم ۱/۴۳۷]
(٦١٣١) (الف) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلتے وقت اور عید گاہ تک جاتے وقت تکبیریں کہتے تھے۔
(ب) علی بن ابی طالب اور صحابہ کی ایک جماعت ابن عمر (رض) کی مثل بیان فرماتے ہیں کہ وہ صبح سے عیدگاہ پہنچنے تک تکبیر کہتے۔
6132
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: کَانُوا فِی التَّکْبِیرِ فِی الْفِطْرِ أَشَدَّ مِنْہُمْ فِی الأَضْحَی۔وَرَوَی الشَّافِعِیُّ بِإِسْنَادِہِ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِینَ أَنَّہُمْ کَانُوا یُکَبِّرُونَ لَیْلَۃَ الْفِطْرِ فِی الْمَسْجِدِ یَجْہَرُونَ بِہِ۔وَعَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْہُمْ جَہْرُہُمْ بِہِ عِنْدَ الْغُدُوِّ إِلَی الْمُصَلَّی۔ [صحیح۔ الحاکم ۱/۴۳۸]
(٦١٣٢) (الف) ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر میں عید الا اضحی کی بہ نسبت زیادہ تکبیریں کہتے ۔
(ب) تابعین کی ایک جماعت سے امام شافعینقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں عید الفطر کی رات بلند آواز سے تکبیریں کہتے اور صبح سے عید گاہ جانے تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے۔