hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

32. اجارہ کا بیان

سنن البيهقي

11640
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہ الْقِصَّۃِ قَالَ فَقَالَ لَہَا أَبُوہَا : مَا عِلْمُکِ بِقُوَّتِہِ وَأَمَانَتِہِ فَقَالَتْ : أَمَّا قُوَّتُہُ فَإِنَّہُ رَفَعَ الْحَجَرَ وَحْدَہُ وَلاَ یُطِیقُ رَفْعَہُ إِلاَّ عَشْرَۃٌ وَأَمَّا أَمَانَتُہُ فَقَوْلُہُ امْشِی خَلْفِی وَصِفِی لِیَ الطَّرِیقَ لاَ تَصِفُ الرِّیحُ لِی جَسَدَکِ۔ [ضعیف]
(١١٦٣٥) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس قصہ میں منقول ہے کہ ان (عورتوں ) کے باپ (شعیب (رح) ) نے پوچھا : تمہیں کیسے علم ہے اس کی قوت اور امانت داری کا ؟ تو اس نے کہا : اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے اکیلے ہی وہ ڈول کھینچ لیا جسے دس آدمی اٹھاتے تھے اور اس کی امانت اس کا یہ کہنا کہ تو میرے پیچھے چل اور راستہ بتا دینا، یہ اس لیے کہ ہوا تیرا جسم میرے لیے عیاں نہ کردے۔
11641
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۳۶) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ فَذَکَرَہُ وَزَادَ قَالَ : فَزَادَہُ ذَلِکَ فِیہِ رَغْبَۃً فَقَالَ { إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُنْکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْنِ عَلَی أَنْ تَأْجُرَنِی ثَمَانِیَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَمَا أُرِیدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَائَ اللَّہُ مِنَ الصَّالِحِینَ } أَیْ فِی حُسْنِ الصُّحْبَۃِ وَالْوَفَائِ بِمَا قُلْتُ قَالَ مُوسَی {ذَلِکَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ أَیُّمَا الأَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلاَ عُدْوَانَ عَلَیَّ} قَالَ : نَعَمْ قَالَ {اللَّہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ} فَزَوَّجَہُ وَأَقَامَ مَعَہُ یَکْفِیہِ وَیَعْمَلُ لَہُ فِی رِعَایَۃِ غَنَمِہِ۔ [ضعیف]
(١١٦٣٦) ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ شعیب نے کہا : میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں تیرا نکاح ان دو بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کے ساتھ کر دوں گا، اس شرط پر کہ تو میرے ہاں آٹھ سال نو کری کرے۔ پس اگر تو دس سال پورے کرے گا تو تیری طرف سے ہے اور میں ارادہ نہیں رکھتا کہ تجھ پر سختی کروں۔ اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے صالح لوگوں میں پائے گا۔[القصص : ٢٧] یعنی رہنے کے اعتبار سے اچھا اور جو میں نے کہا ہے اس کو پورا کرنے میں۔ موسیٰ نے کہا : یہ میرے اور تیرے درمیان ہے کہ میں دونوں مدتوں میں سے کسی کو پورا کروں۔ پس میرے اوپر زیادتی نہ ہو۔ [القصص : ٢٨] اس نے کہا : ہاں اللہ تعالیٰ جو ہم نے کہا اس پر وکیل ہے۔ (یوسف ) پس اس (شعیب ) نے اس کے ساتھ بیٹی کی شادی کی اور وہ اس کے ساتھ رہے اور ان کی بکریوں کا کام کرتے رہے۔
11642
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : لَقِیَنِی رَجُلٌ مِنْ یَہُودِ أَہْلِ الْحِیرَۃِ فَسَأَلَنِی : أَیَّ الأَجَلَیْنِ قَضَی مُوسَی؟ فَقُلْتُ : لاَ أَدْرِی سَأَقْدَمُ غَدًا عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَدِمْتُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : قَضَی أَکْثَرَہُمَا وَأَطْیَبَہُمَا۔ فَلَقِیتُ الْیَہُودِیَّ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : صَاحِبُکُمْ عَالِمٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ مَرْوَانُ وَزَادَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَالَ فَعَلَ وَلَم یَقُلْ فَلَقِیتُ الْیَہُودِیَّ إِلَی آخِرِہِ۔ [صحیح]
(١١٦٣٧) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے اہل ہیرہ کے یہودیوں میں سے ایک آدمی ملا، اس نے مجھ سے سوال کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کس کو پورا کیا ؟ میں نے کہا : میں نہیں جانتا۔ میں کل ابن عباس کے پاس جاؤں گا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا، میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ مدت پوری کی جو زیادہ اور پاکیزہ تھی۔ میں نے یہودی کو خبر دی تو اس نے کہا : تمہارا وہ صاحب عالم ہے۔
11643
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَیَّ الأَجَلَیْنِ قَضَی مُوسَی قَالَ : أَبْعَدَہُمَا وَأَطْیَبَہُمَا ۔ [ضعیف]
(١١٦٣٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کونسی پوری کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں میں سے بعد والی اور پاکیزہ۔
11644
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَحْیَی بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ قَالَ سُفْیَانُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَکَانَ مِنْ أَسْنَانِی وَکَانَ رَجُلاً صَالِحًا عَنِ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : سَأَلْتُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَیَّ الأَجَلَیْنِ قَضَی مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ؟ ۔ قَالَ : أَتَمَّہُمَا وَأَکْمَلَہُمَا۔ [ضعیف۔ الحمیدی ۵۴۵]
(١١٦٣٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے جبرائیل سے سوال کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کونسی پوری کی ؟ تو جبرائیل نے کہا : ان میں سے جو پوری (١٠) تھی اور مکمل تھی۔
11645
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۴۰) أَخْبَرَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَیْنَمَا ثَلاَثَۃُ رَہْطٍ یَتَمَشَّوْنَ أَخَذَہُمُ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَی غَارٍ فِی جَبَلٍ فَبَیْنَا ہُمْ فِیہِ حَطَّتْ صَخْرَۃٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَیْہِمْ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَفْضَلَ أَعْمَالٍ عَمِلْتُمُوہَا لِلَّہِ تَعَالَی فَسَلُوہُ بِہَا لَعَلَّہُ یُفَرِّجُ بِہَا عَنْکُمْ فَقَالَ أَحَدُہُمُ اللَّہُمَّ إِنَّہُ کَانَ لِی وَالِدَانِ کَبِیرَانِ وَکَانَتْ لِی امْرَأَۃٌ وَوَلَدٌ صِغَارٌ وَکُنْتُ أَرْعَی عَلَیْہِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَیْہِمْ بَدَأْتُ بِأَبَوَیَّ فَسَقَیْتُہُمَا فَنَأَی بِی یَوْمًا الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّی نَامَ أَبَوَایَ فَطَیَّبْتُ الإِنَائَ ثُمَّ حَلَبْتُ فِیہِ ثُمَّ قُمْتُ بِحِلاَبِی عِنْدَ رَأْسِ أَبَوَیَّ وَالصِّبْیَۃُ یَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ رِجْلَیَّ أَکْرَہُ أَنْ أَبْدَأَ بِہِمْ قَبْلَ أَبَوَیَّ وَأَکْرَہُ أَنْ أَوْقِظَہُمَا مِنْ نَوْمِہِمَا فَلَمْ أَزَلْ کَذَلِکَ قَائِمًا حَتَّی أَضَائَ الْفَجْرُ اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْہِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَۃً نَرَی مِنْہَا السَّمَائَ فَفَرَجَ لَہُمْ فُرْجَۃً رَأَوْا مِنْہَا السَّمَائَ وَقَالَ الآخَرُ اللَّہُمَّ إِنَّہَا کَانَتْ لِی ابْنَۃُ عَمٍّ فَأَحْبَبْتُہَا حَتَّی کَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ فَسَأَلْتُہَا نَفْسَہَا فَقَالَتْ لاَ حَتَّی تَأْتِینِی بِمِائَۃِ دِینَارٍ فَسَعَیْتُ حَتَّی جَمَعْتُ مِائَۃَ دِینَارٍ فَأَتَیْتُہَا بِہَا فَلَمَّا کُنْتُ بَیْنَ رِجْلَیْہَا قَالَتِ : اتَّقِ اللَّہَ لاَ تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلاَّ بِحَقِّہِ فَقُمْتُ عَنْہَا اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْہِکَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْہَا فُرْجَۃً فَفَرَجَ لَہُمْ مِنْہَا فُرْجَۃً وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّہُمَّ إِنِّی کُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِیرًا بِفَرَقِ ذُرَۃٍ فَلَمَّا قَضَی عَمَلَہُ عَرَضْتُہُ عَلَیْہِ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہُ فَرَغِبَ عَنْہُ فَلَمْ أَزَلْ أَعْتَمِلُ بِہِ حَتَّی جَمَعْتُ مِنْہُ بَقَرًا وَرِعَائَ ہَا فَجَائَ نِی فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ وَأَعْطِنِی حَقِّی وَلاَ تَظْلِمْنِی فَقُلْتُ لَہُ : اذْہَبْ إِلَی تِلْکَ الْبَقَرِ وَرِعَائِہَا فَخُذْہَا فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ وَلاَ تَہْزَأْ بِی فَقُلْتُ : إِنِّی لاَ أَہْزَأُ بِکَ اذْہَبْ إِلَی تِلْکَ الْبَقَرِ وَرِعَائِہَا فَخُذْہَا فَذَہَبَ فَاسْتَاقَہَا اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْہِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا بَقِیَ مِنْہَا فَفَرَجَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُمْ فَخَرَجُوا یَتَمَاشَوْنَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ۔ [بخاری ۲۲۷۲، مسلم ۲۷۴۳]
(١١٦٤٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمی چل رہے تھے، ان کو بارش نے روک دیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ اسی دوران ایک پتھر پہاڑ سے گرا اور غار کے منہ پر آگیا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : اپنے اپنے بہتریں اعمال یاد کرو اور ان کے ساتھ اللہ کو پکارو تاکہ وہ اس کی وجہ سے تمہارے اوپر سے پتھر ہٹادے۔ ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میری بیوی اور بچے بھی تھے۔ میں ان کی پرورش کے لیے بکریاں چراتا تھا۔ جب میں شام کو واپس آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن درخت کی تلاش میں دور نکل گیا، جب واپس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ میں نے برتن پکڑا اور دودھ دوہا۔ پھر میں دودھ لے کر اپنے والدین کے سر کے پاس کھڑا ہوگیا اور میرے بچے میرے پاؤں کے پاس بلک رہے تھے۔ میں نے ناپسند کیا کہ ان کو نیند سے بیدار کروں۔ میں کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑی۔ اے اللہ ! بیشک تو جانتا ہے میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان دیکھ لیں۔ وہ پتھر ہٹا اور انھوں نے آسمان دیکھ لیا اور دوسرے نے کہا : اے اللہ ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اسے پسند کرتا تھا وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے زنا کرنے کا کہا، اس نے کہا : پہلے تو مجھے سو دینار دے۔ میں نے کوشش کی، سو دینار جمع کیے، پھر اس کے پاس آیا۔ جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان تھا تو اس نے کہا : اللہ سے ڈر اور مہر کو نہ توڑ مگر جائز طریقے سے (نکاح سے) ۔ میں کھڑا ہوگیا۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ وہ تھوڑا سا اور ہٹ گیا اور تیسرے نے کہا : اے اللہ ! میں نے ایک مزدور لگایا تھا جب اس نے اپنا کام کیا تو میں نے مزدوری دی۔ اس نے لینے سے انکار کردیا۔ اس نے بےرغبتی کی۔ میں ہمیشہ اس سے کام کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس سے بہت زیادہ گائیں اور بکریاں جمع کرلیں۔ وہ آدمی آیا اور اس نے کہا : اللہ سے ڈر اور مجھے میرا حق دے اور میرے اوپر ظلم نہ کر۔ میں نے کہا : جا اور یہ گائیں اور بکریاں لے جا۔ اس نے کہا : اللہ سے ڈر اور مذاق نہ کر۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کررہا جا اور گائیں اور بکریاں لے جا۔ وہ لے گیا۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا تھا تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر بھی ہٹا دیا پھر وہ نکلے اور چلنے لگے۔
11646
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ بْنِ خَالِدٍ السَّمْتِیُّ سَنَۃَ ثَمَانٍ وَعِشْرِینَ حَدَّثَنَا السَّعِیدِیُّ : عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا إِلاَّ رَاعِیَ غَنَمٍ ۔ قَالُوا : وَلاَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَنَا کُنْتُ أَرْعَاہَا لأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْقَرَارِیطِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی۔ [بخاری ۲۲۶۲]
(١١٦٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے بھی چرائی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں میں بھی قراریط میں اہل مکہ کی بکریاں چراتا تھا۔
11647
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ سَہْلٍ التُّسْتُرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ بَدْرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَالرَّبِیعُ بْنُ بَدْرٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اسْتَأْجَرَتْ خَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَفْرَتَیْنِ إِلَی جُرَشَ کُلُّ سَفْرَۃٍ بِقَلُوصٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : آجَرْتُ نَفْسِی مِنْ خَدِیجَۃَ سَفْرَتَیْنِ بِقَلُوصٍ۔ [صحیح]
(١١٦٤٢) حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو سفروں کی مزدوری دی۔ جرش کی طرف سفر ہوا۔ ایک سفر کے بدلے ایک اونٹنی دی۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خدیجہ سے دو سفروں میں اونٹنی اجرت لی۔
11648
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلاً مِنْ بَنِی الدِّیلِ ثُمَّ مِنْ بَنِی عَبَّادٍ ہَادِیًا خِرِّیتًا وَالْخِرِّیتُ الْمَاہِرُ بِالْہِدَایَۃِ قَدْ غَمَسَ یَدَہُ فِی حِلْفِ آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَہُوَ عَلَی دِینِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَآمِنَاہُ وَدَفَعَا إِلَیْہِ رَاحِلَتَیْہِمَا وَوَاعَدَاہُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَیَالٍ فَأَتَاہُمَا بِرَاحِلَتَیْہِمَا صَبِیحَۃَ اللَّیَالِی الثَّلاَثِ فَارْتَحَلاَ وَانْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ وَالدَّلِیلُ فَأَخَذَ بِہِمْ طَرِیقَ أَذَاخِرَ وَہِیَ فِی طَرِیقِ السَّاحِلِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی عَنْ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [بخاری ۲۲۶۳]
(١١٦٤٣) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) نے بنی دیل کے آدمی کو مزدوری پر رکھا۔ پھر بنی عباد سے ماہر رہبرلیا۔ الخریت کا معنی ماہر رہب رہے۔ اس نے اپنا ہاتھ خاندان عاص بن وائل کے ساتھ وعدہ کر کے ڈبو یا تھا کہ وہ کفار قریش کے دین پر رہے گا۔ لیکن ان دونوں کو اس پر اطمینان تھا۔ انھوں نے اسے اپنی سواریاں دی تھیں اور وعدہ کیا تھا کہ تین راتوں بعد غار ثور آئے گا۔ چنانچہ وہ دونوں کے پاس تیسری رات کی صبح کو آیا، وہ دونوں سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ اور دیلی آدمی بھی ساتھ۔ یہ رہبر ساحل کے کنارے سے آپ اور ابوبکر کو لے کر چلا تھا۔
11649
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ قَبْلَکُمْ مَثَلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَقَالَ مَنْ یَعْمَلُ مَا بَیْنَ غُدْوَۃٍ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَی ثُمَّ قَالَ مَنْ یَعْمَلُ لِی مَا بَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ إِلَی الْعَصْرِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْیَہُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ یَعْمَلُ لِی مَا بَیْنَ الْعَصْرِ إِلَی الْمَغْرِبِ عَلَی قِیرَاطَیْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ فَغَضِبَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی وَقَالُوا : مَا لَنَا أَکْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَائً ؟ قَالَ : ہَلْ نَقَصْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَیْئًا قَالُوا : لاَ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔وَرَوَاہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ کَمَا۔ [بخاری ۲۲۶۸]
(١١٦٤٤) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہودیوں اور نصرانیوں کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا : کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے ؟ پس نصاریٰ نے کام کیا، پھر اس نے کہا : کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے گا۔ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا : کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا ؟ تو تم نے کام کیا۔ یہودو نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے : کیا ہے ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے۔ وہ آدمی کہنے لگا : کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے وہ کہیں گے : نہیں پھر وہ کہے گا : وہ میرا فضل تھا جسے چاہا دے دیا۔