hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

76. امہات الاولاد کی آزادی کا بیان

سنن البيهقي

21775
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ عُفَیْرٍ حَدَّثَنِی عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَیِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِکِ یَعْنِی مَرْوَانَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَذْکُرُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ بِأُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ أَنْ یُقَوَّمْنَ فِی أَمْوَالِ أَبْنَائِہِنَّ بِقِیمَۃِ عَدْلٍ ثُمَّ یُعْتَقْنَ فَمَکَثَ بِذَلِکَ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِہِ ثُمَّ تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ کَانَ لَہُ ابْنُ أُمِّ وَلَدٍ قَدْ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعْجَبُ بِذَلِکَ الْغُلاَمِ فَمَرَّ ذَلِکَ الْغُلاَمُ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ وَفَاۃِ أَبِیہِ بِلَیَالٍ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا فَعَلْتَ یَا ابْنَ أَخِی فِی أُمِّکَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ حِینَ خَیَّرَنِی أُخْوَتِی فِی أَنْ یَسْتَرِقُّوا أُمِّی أَوْیُخْرِجُونِی مِنْ مِیرَاثِی مِنْ أَبِی فَکَانَ مِیرَاثِی مِنْ أَبِی أَہْوَنُ عَلَیَّ مِنْ أَنْ تُسْتَرَقَّ أُمِّی قَالَ عُمَرُ أَوَلَسْتُ إِنَّمَا أَمَرْتُ فِی ذَلِکَ بِقِیمَۃِ عَدْلٍ مَا أَتَرَائَ ی رَأْیًا أَوْ آمُرُ بِشَیْئٍ إِلاَّ قُلْتُمْ فِیہِ ثُمَّ قَامَ فَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَاجْتَمَعَ إِلَیْہِ النَّاسُ حَتَّی إِذَا رَضِیَ جَمَاعَتَہُمْ قَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ کُنْتُ أَمَرْتُ فِی أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ بِأَمْرٍ قَدْ عَلِمْتُمُوہُ ثُمَّ قَدْ حَدَثَ لِی رَأْیٌ غَیْرَ ذَلِکَ فَأَیُّمَا امْرِئٍ کَانَتْ عِنْدَہُ أُمُّ وَلَدٍ فَمَلَکَہَا بِیَمِینِہِ مَا عَاشَ فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ لاَ سَبِیلَ عَلَیْہَا۔ [صحیح]
(٢١٧٦٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کی عدل والی قیمت لگائی جائے پھر آزاد کردی جائیں، یہ ان کی خلافت کے ابتدا میں تھا، پھر ایک قریشی مرد فوت ہوگیا، اس کی ام ولد تھی، حضرت عمر (رض) اس غلام سے تعجب کرتے تھے، یہ بچہ اپنے باپ کی وفات کے چند راتوں بعدحضرت عمر (رض) کے پاس سے مسجد میں گزرا ۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اے بچے ! تو نے اپنی والدہ کے بارے میں کیا کیا ؟ وہ کہنے لگا : اے امیرالمومنین ! جب میرے بھائیوں نے مجھے اختیار دیا کہ وہ میری والدہ کو لونڈی رکھیں یا مجھے میرے والد کی وراثت سے نکال دیں، مجھے میرے والد کی میراث سے نکال دیں یہ زیادہ آسان ہے کہ میری والدہ کو غلام رکھیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا میں نے عدل کی قیمت مقرر کرنے کا حکم نہیں دیا تو آپ میری رائے یا میرے حکم کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں، پھر حضرت عمر (رض) منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ جمع ہوئے تو انھوں نے اس جماعت کو راضی کرلیا، فرمانے لگے : امہات الاولاد کے بارے تم میرے حکم کو جانتے ہو، پھر مجھے دوسرا خیال آیا، جس کے پاس ام ولد ہو وہ اپنی زندگی تک اس کا مالک ہے جب فوت ہوجائے تو آزاد ہے۔
21776
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَیْمَانَ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ الْمَالِکِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ حَدَّثَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِکِ یَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِہِ فَجَلَسْتُ فِی مَجْلِسٍ لاَ أَعْرِفُہُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَہُ قَالَ کَیْفَ تَرَوْنَ فِی شَیْئٍ ذَکَرَہُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ آنِفًا أَتَاہُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ فِی أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِأَیُرْقَقْنَ أَوْ یُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ إِنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ذَکَرَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ کَانَ یُعْجِبُہُ عَقْلُہُ وَلِسَانُہُ ثُمَّ مَاتَ أَبُوہُ وَتَرَکَ مَالاً وَأُمُّہُ أُمُّ وَلَدٍ فَأَقَامُوا أُمَّہُ فَزَایَدُوہُ فِی أُمِّہِ حَتَّی أَخْرَجُوہُ مِنْ مِیرَاثِہِ فَمَرَّ عَلَی عُمَرَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَاہُ فَسَأَلَہُ مَا صَارَ لَہُ مِنْ مِیرَاثِ أَبِیہِ قَالَ خَرَجْتُ بِأُمِّی مِنْ مِیرَاثِ أَبِی فَقَالَ أَمَا وَاللَّہِ لأَقُولَنَّ فِی ذَلِکَ مَقَالاَ أَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَیُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَکَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْہُ فَہِیَ حَرَّۃٌ قَالَ فَأَخَذَ بِیَدِی فَإِذَا ہُوَ قَبِیصَۃُ بْنُ ذُؤَیْبٍ حَتَّی أَدْخَلَنِی عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِکِ ذَکَرَ لِقَبِیصَۃَ أَنَّہُ کَانَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَلَمْ یُثْبِتْہُ فَأُدْخِلَ عَلَیْہِ فَقَالَ ہَذَا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرْتَنِی فَبَدَأَ فَسَأَلَنِی مَا نَسَبِی فَلَمَّا بَلَّغْتُ أَبِی قَالَ إِنْ کَانَ أَبُوکَ لَنَعَّارًا فِی الْفِتْنَۃِ مَا حَدِیثُ سَعِیدٍ الَّذِی أَخْبَرَنِی عَنْکَ قَبِیصَۃُ؟ فَأَخْبَرْتُہُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِیصَۃَ فَأَمَرَ بِذَلِکَ فَأَمْضِیَ فَقَالَ مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَکَ مِثْلَکَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٧٧٠) ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبدالملک کسی کام میں مصروف تھے۔ میں ان کی مجلس میں بیٹھ گیا کسی کو جانتا نہ تھا۔ ایک آدمی نے متوجہ ہو کہ جگہ میں وسعت کردی۔ کہنے لگا : تمہارا کیا خیال ہے جو ابھی امیر المومنین نے ذکر کیا جو مدینہ سے حکم آیا کہ امہات الاولاد کو آزاد کیا جائے یا غلام رکھا جائے ؟ جس نے کہا کہ سعید بن مسیب نے ایک قریشی مرد کا تذکرہ کیا۔ اس کی عقل اور زبان بڑی اچھی تھی۔ اس کا باپ فوت ہوگیا۔ اس نے مال اور امِ ولد چھوڑی تو آخر کار انھوں نے اس کو وراثت سے نکال دیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس سے گزرا تو انھیں نے بلایا اور پوچھا : اس کے باپ کی واثت کا کیا بنا ؟ کہنے لگا : میں نے اپنی والدہ کو اپنے باپ کی وراثت سے نکال دیا ہے۔ فرمانے لگے کہ میں بھی لوگوں کو ایسی بات کہنے والا ہوں کہ لوگ اس سے بچیں۔ پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ جو آزاد آدمی ہو اس کے پاس ام ولد لونڈی ہو تو اس کی موت کے بعد وہ آزاد ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، وہ قبیصہ بن ذویب اور عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ اچانک عبدالملک نے قبیصہ کے سامنے سعید بن مسیب کا تذکرہ کردیا کہ وہ ثابت نہیں ہیں۔ جس حدیث کی خبر میں نے دی تو اس نے میرا نسب پوچھنا شروع کردیا۔ جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے کہ وہ فتنہ میں آگ لگانے والے تھے۔ وہ کونسی حدیث ہے جو آپ نے قبیصہ کو بیان کی ہے تو میں نے ان کو بھی خبر دی۔ کہنے لگے : اس طرح کا کوئی آدمی فوت ہی نہیں ہوا۔
21777
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَتْقِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ وَلاَ یُجْعَلْنَ فِی الثُّلُثِ وَأَمَرَ أَنْ لاَ یُبَعْنَ فِی الدَّیْنِ قَالَ جَعْفَرٌ لَمْ یَرْوِ ہَذَا الْحَدِیثَ غَیْرُہُ۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ فِی الْجَامِعِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ عِتْقِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ یَقُولُونَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ أَمَرَ بِعِتْقِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَیْسَ کَذَلِکَ وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوَّلُ مَنْ أَعْتَقَہُنَّ وَلاَ یُجْعَلْنَ فِی ثُلُثٍ وَلاَ یُبَعْنَ فِی دَیْنٍ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کو آزاد کردیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔
(ب) سعید بن مسیب امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر (رض) کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔
21778
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِفْرِیقِیِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَعْتَقَ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ وَقَالَ أَعْتَقَہُنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ تَفَرَّدَ الإِفْرِیقِیُّ بِرَفْعِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٢) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے امہات الاولاد کو آزاد کیا۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی آزاد کیا تھا۔
21779
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَامِعٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ سَمِعَ صَائِحَۃً فَقَالَ یَا یَرْفَأُ انْظُرْ مَا ہَذَا الصَوْتُ؟ فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ جَارِیَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ تُبَاعُ أُمُّہَا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ أَوْ قَالَ عَلَیَّ بِالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ قَالَ فَلَمْ یَمْکُثْ إِلاَّ سَاعَۃً حَتَّی امْتَلأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَۃُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّہَ عُمَرُ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَہَلْ تَعْلَمُونَہُ کَانَ مِمَّا جَائَ بِہِ مُحَمَّدٌ -ﷺ- الْقَطِیعَۃُ؟ قَالُوا لاَ قَالَ فَإِنَّہَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِیکُمْ فَاشِیَۃٌ ثُمَّ قَرَأَ {ہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِی الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ} [محمد ۲۲] ثُمَّ قَالَ وَأَیُّ قَطِیعَۃٍ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ مِنْکُمْ وَقَدْ أَوْسَعَ اللَّہُ لَکُمْ؟ قَالُوا فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَکَ أَوْ مَا شِئْتَ قَالَ فَکَتَبَ فِی الآفَاقِ أَنْ لاَ تُبَاعُ أُمُّ حُرٍّ فَإِنَّہُ قَطِیعَۃٌ وَأَنَّہُ لاَ یَحِلُّ۔ [حسن]
(٢١٧٧٣) عبداللہ بن بریرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس نے ایک چیخ سنی، کہنے لگے : اے یرفئا ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے ؟ وہ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے کہ ایک لونڈی کی والدہ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بلاؤیا فرمایا : مہاجرین و انصار کو بلاؤ، تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا، تو حضرت عمر (رض) نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر فرمایا : کیا تم جانتے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطع رحمی کے متعلق لائے ہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ حالانکہ وہ تمہارے معاشرہ میں عام ہوچکی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : { فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ } [محمد ٢٢] ” عنقریب اگر تم پھرگئے کہ تم زمین میں فساد کرو اور اپنی رشتہ داریوں کو کاٹو۔ “
پھر فرمایا : اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم ام ولد کو فروخت کرنا شروع کر دو ۔ حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا : جو چاہو فیصلہ کرو تو انھوں نے خط لکھوا دیے کہ ام ولد کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔
21780
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِیرٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ إِنَّ اللَّہَ قَدْ أَفَائَ عَلَیْکُمْ مِنْ بِلاَدِ الأَعَاجِمِ مِنْ نِسَائِہِمْ وَأَوْلاَدِہِمْ مَا لَمْ یَفِئْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالاً سَیُلِمُّونَ بِالنِّسَائِ فَأَیُّمَا رَجُلٌ وَلَدَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِ الْعَجَمِ فَلاَ تَبِیعُوا أُمَّہَاتِ أَوْلاَدِکُمْ فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ أَوْشَکَ الرَّجُلُ أَنْ یَطَأَ حَرِیمَہُ وَہُوَ لاَ یَشْعُرُ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٤) عبداللہ بن سعید اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے عورتیں اور ان کی اولادیں تمہارے قبضہ میں دی ہیں، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے دور میں نہ ہوا۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ عورتوں سے مجامعت کرتے ہیں، جس مرد کے ہاں عجمی عورت جنم دے تو تم امہات الاولاد کو فروخت نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا، آدمی کو شک تھا کہ اس سے مجامعت کرنا حرام ہے کہ اس کو شعور بھی نہ ہو۔
21781
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : کَانَتْ جَدَّتِی أُمُّ وَلَدٍ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَأَرَادَ ابْنٌ لِعُثْمَانَ أَنْ یَبِیعَہَا بَعْدَ مَوْتِ أَبِیہِ وَإِنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَرَادَ أَنْ یَبِیعَنِی وَقَدْ کُنْتُ وَلَدْتُ لأَبِیہِ فَلَوْ کَلَّمْتِیہِ فَوَضَعَنِی مَوْضِعًا صَالِحًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَوَلَدْتِ لأَبِیہِ؟ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَائْتِی أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعْتِقُکِ فَأَتَتْ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا وَلَدَتْ مِنْ عُثْمَانَ وَأَنَّ ابْنَہُ یُرِیدُ بَیْعَہَا فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَقَالَ أَرَدْتَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ لَیْسَ ذَاکَ لَکَ أَظُنُّہُ قَالَ فَہِیَ حُرَّۃٌ قَالَتْ جَدَّتِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا أَعْتَقَنِی؟ قَالَ وَلَدُکِ مِنْ عُثْمَانَ قَالَتْ فَإِنَّہُ قَدْ جَرَحَنِی ہَذَا الْجِرَاحَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِیہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَعْطِہَا أَرْشَ مَا صَنَعْتَ بِہَا۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٥) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میری دادی عثمان بن مظعون کی ام ولد تھی تو عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے فروخت کرنا چاہا۔ وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے باپ کی اولاد مجھ سے ہے، اگر آپ ان سے بات کریں تو وہ مجھے درست جگہ رکھیں تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا تو نے اس کے باپ کی اولاد کو جنم دیا ہے ؟ کہتی ہیں : ہاں۔ کہنے لگی : آپ امیرالمومنین حضرت عمر (رض) کے پاس جاؤ وہ تمہیں آزاد کردیں گے۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئیں اور خبر دی کہ عثمان کی اولاد مجھ سے ہے اور اس کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے تو حضرت عمر (رض) نے عثمان بن مظعون کے بیٹے کو پیغام دیا : کیا آپ کا یہی ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے لیے یہ جائز نہیں۔ یہ آزاد ہے، میری دادی نے پوچھا : مجھے کس نے آزاد کیا ؟ فرمایا : تیری اولاد نے جو عثمان سے ہے، کہنے لگی : اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد میرے اوپر جرح کی ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کا تاوان دو جو آپ نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
21782
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ عُمَرَ وَعُمَرَ یَعْنِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَعْتَقَا أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ وَمَنْ بَیْنَہُمَا مِنَ الْخُلَفَائِ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ أَخْبَارٌ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٦) قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) اور عمر بن عبدالعزیز کے درمیان جتنے خلیفہ تھے وہ امہات الاولاد کو آزاد کردیتے تھے۔
21783
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۷) مِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الرَّازِیُّ خَتَنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی سَلاَمَۃُ بِنْتُ مَعْقِلٍ قَالَتْ : کُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو فَمَاتَ وَلِی مِنْہُ غُلاَمٌ فَقَالَتِ امْرَأَتُہُ الآنَ تُبَاعِینَ فِی دَیْنِہِ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ صَاحِبُ تَرِکَۃِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو؟ فَقَالُوا أَخُوہُ أَبُو الْیَسَرِ کَعْبُ بْنُ عَمْرٍو فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لاَ تَبِیعُوہَا وَأَعْتِقُوہَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِیقٍ قَدْ جَائَ نِی فَائْتُونِی أُعَوِّضْکُمْ مِنْہَا فَفَعَلُوا وَاخْتَلَفُوا فِیمَا بَیْنَہُمْ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ قَوْمٌ إِنَّ أُمَّ الْوَلَدِ مَمْلُوکَۃٌ لَوْلاَ ذَلِکَ لَمْ یُعَوِّضْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْہَا وَقَالَ بَعْضُہُمْ بَلْ ہِیَ حُرَّۃٌ قَدْ أَعْتَقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَفِی ذَا کَانَ الاِخْتِلاَفُ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنِ النُّفَیْلِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ دُونَ مَا فِی آخِرِہِ مِنَ الاِخْتِلاَفِ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٧) سلامۃ بنت معقل فرماتی ہیں کہ میں حباب بن عمرو کی لونڈی تھی، وہ فوت ہوگئے، اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ اس کی بیوی نے کہا : اس کے قرض میں تجھے فروخت کیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حباب بن عمرو کے ترکہ کا وارث کون ہے ؟ انھوں نے کہا : اس کا بھائی ابو الیسر کعب بن عمرو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور فرمایا : اس کو آزاد کر دو ، فروخت نہ کرنا۔ جب تم غلام کے بارے میں سنو تو میرے پاس لاؤ۔ میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اختلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ ام ولد لونڈی ہے ، اس کا معاوضہ کون دے گا، بعض نے کہا : یہ آزاد ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آزاد کردیا۔
21784
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ قُتَیْبَۃَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سَلاَمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَوْصَی إِلَیْہِ وَکَانَ فِیمَا تَرَکَ أُمَّ وَلَدٍ لَہُ وَامْرَأَۃً حُرَّۃً فَکَانَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَبَیْنَ أُمِّ الْوَلَدِ بَعْضُ الشَّیْئِ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا الْحُرَّۃُ لَتُبَاعَنَّ رَقَبَتُکِ یَا لَکَاعِ فَرَجَعَ خَوَّاتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُبَاعُ ۔ وَأَمَرَ بِہَا فَأُعْتِقَتْ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٨) بسر بن سعید خوات ابن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے وصیت کی اس کی ایک ام ولد اور ایک آزاد عورت تھی۔ آزاد عورت اور ام ولد کے درمیان کچھ معاملہ تھا تو آزاد عورت نے کہا : اے کمینی ! تجھے فروخت کیا جائے گا تو خوات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فروخت نہ کیا جائے گا، اس کی آزادی کا حکم دے دیا۔