Sunan Al Bayhaqi
69. گواہیوں کا بیان
سنن البيهقي
20519
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ شَہْرَیَارَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الرَّزْجَاہِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا الصُّوفِیُّ وَہُوَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ الْوَلِیدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : تَلاَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی} [البقرۃ ۲۸۲] حَتَّی بَلَغَ {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ : ہَذِہِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَہَا۔ [حسن]
(٢٠٥١٣) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں : آیت { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْْنَ اٰمَنُوْْٓا اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } [البقرۃ ٢٨٢] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو وقت مقرر تک لکھ لیا کرو۔ “
{ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] ” بعض تمہارا بعض سے اس میں ہو۔ “ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔
{ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] ” بعض تمہارا بعض سے اس میں ہو۔ “ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔
20520
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ {وَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ : إِنْ أَشْہَدْتَ فَحَزْمٌ وَإِنِ ائْتَمَنْتَہُ فَفِی حِلٍّ وَسَعَۃٍ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ إِنْ شَائَ أَشْہَدَ وَإِنْ شَائَ لَمْ یُشْہِدْ أَلاَ تَسْمَعْ إِلَی قَوْلِہِ {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ حُفِظَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ بَایَعَ أَعْرَابِیًّا فِی فَرَسٍ فَجَحَدَ الأَعْرَابِیُّ بِأَمْرِ بَعْضِ الْمُنَافِقِینَ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ۔ [صحیح]
(٢٠٥١٤) عامر اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] اگر آپ گواہ بنے تو پختہ بات کرنا، اگر امین بنو تو جائز اور وسعت والی بات کرنا۔
(ب) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا : { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی۔ دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا ۔ ان دونوں کے درمیان میں کوئی دلیل نہ تھی۔
(ب) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا : { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی۔ دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا ۔ ان دونوں کے درمیان میں کوئی دلیل نہ تھی۔
20521
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ أَنَّ عَمَّہُ حَدَّثَہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ-
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی أَبُو بَکْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَتِیقٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ أَنَّ عَمَّہُ أَخْبَرَہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیَقْضِیَ ثَمَنَ فَرَسِہِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَشْیَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِیُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ یَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِیَّ وَیُسَاوِمُونَہُ الْفَرَسَ وَلاَ یَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِ ابْتَاعَہُ حَتَّی زَادَ بَعْضُہُمُ الأَعْرَابِیَّ فِی السَّوْمِ فَلَمَّا زَادُوا نَادَی الأَعْرَابِیُّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ کُنْتَ مُبْتَاعًا ہَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْہُ وَإِلاَّ بِعْتُہُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَمِعَ نِدَائَ الأَعْرَابِیِّ حَتَّی أَتَی الأَعْرَابِیَّ فَقَالَ : أَوَلیْسَ قَدِ ابْتَعْتُ مِنْکَ ۔ قَالَ لاَ وَاللَّہِ مَا بِعْتُکَہُ قَالَ : بَلِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ ۔ فَطَفِقَ النَّاسُ یَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَبِالأَعْرَابِیِّ وَہُمَا یَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الأَعْرَابِیُّ یَقُولُ ہَلُمَّ شَہِیدًا أَنِّی بَایَعْتُکَ فَقَالَ خُزَیْمَۃُ أَنَا أَشْہَدُ أَنَّکَ بَایَعْتَہُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی خُزَیْمَۃَ فَقَالَ: بِمَ تَشْہَدُ؟ قَالَ بِتَصْدِیقِکَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَۃَ خُزَیْمَۃَ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ۔ [صحیح]
(٢٠٥١٥) عمارہ بن خزیمہ کے چچا نے خبر دی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ساتھ لیا تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کریں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیز چلے اور دیہاتی نے دیر کی۔ کچھ لوگ دیہاتی کو ملے اور گھوڑے کی قیمت مقرر کرنے لگے۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خریدا ہوا ہے۔ بعض نے قیمت زیادہ لگا دی۔ جب انھوں نے قیمت زیادہ دینا چاہی تو دیہاتی نے رسول اللہ کو آواز دی کہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو، وگرنہ میں فروخت کر دوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب دیہاتی کی آواز سنی تو آئے اور فرمایا : کیا میں نے آپ سے گھوڑا خریدا نہیں ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو فروخت نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا : میں نے تجھ سے خریدا ہے۔ لوکی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پناہ میں آرہے تھے، آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ آپ اور دیہاتی بات چیت کر رہے تھے، دیہاتی نے کہا : گواہ لاؤ کہ میں نے فروخت کیا ہے، تو خزیمہ کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے، تو نے گواہی کیوں دی ؟ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی وجہ سے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خزیمہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر ہے۔
20522
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا الأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ خُزَیْمَۃَ عَنْ أَبِیہِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ابْتَاعَ مِنْ سَوَائِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِیِّ فَرَسًا فَجَحَدَ فَشَہِدَ لَہُ خُزَیْمَۃُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا حَمَلَکَ عَلَی الشَّہَادَۃِ وَلَمْ تَکُنْ مَعَہُ؟ ۔ قَالَ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلَکِنْ صَدَّقْتُکَ بِمَا قُلْتَ وَعَرَفْتُ أَنَّکَ لاَ تَقُولُ إِلاَّ حَقًّا فَقَالَ مَنْ شَہِدَ لَہُ خُزَیْمَۃُ أَوْ شَہِدَ عَلَیْہِ فَہُوَ حَسْبُہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَلَوْ کَانَ حَتْمًا لَمْ یُبَایِعْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَ بَیِّنَۃٍ۔
(٢٠٥١٦) عمارہ بن خزیمہ اپنے والدخزیمہ بن ثابت سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواء بن حارث محاربی سے گھوڑا خریدا۔ اس نے جھگڑا کیا تو خزیمہ بن ثابت نے گواہی دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے گواہی کیوں دی حالانکہ آپ موجود نہ تھے ؟ عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے سچ فرمایا : لیکن میں نے آپ کی تصدیق کی؛ کیونکہ آپ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں وہ کافی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔
20523
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ثَلاَثَۃٌ یَدْعُونَ اللَّہَ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ رَجُلٌ کَانَتْ تَحْتَہُ امْرَأَۃٌ سَیِّئَۃُ الْخُلُقِ فَلَمْ یُطَلِّقْہَا وَرَجُلٌ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ مَالٍ فَلَمْ یُشْہِدْ عَلَیْہِ وَرَجُلٌ آتَی سَفِیہًا مَالَہُ وَقَدْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَہَائَ أَمْوَالَکُمْ} [النساء ۵] ۔ [ضعیف]
(٢٠٥١٧) سیدنا ابوموسیٰ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تین آدمیوں کی دعا اللہ قبول نہیں کرتے۔ 1 جو برے اخلاق والی عورت کو طلاق نہیں دیتا۔ 2 ایک کا کسی کے ذمہ قرض ہے وہ اس کی گواہی نہیں دیتا۔ 3 بیوقوف کو اس کا مال دے دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں ہے : { وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمُ } [النساء ٥]” بیوقوفوں کو ان کے مال نہ دو ۔ “
20524
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجْلٍ مُسَمًّی فَاکْتُبُوہُ} [البقرۃ ۲۸۲] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَرَاہُ ذُرِّیَّتَہُ فَرَأَی رَجُلاً أَزْہَرَ سَاطِعًا نُورُہُ فَقَالَ یَا رَبِّ مَنْ ہَذَا قَالَ ہَذَا ابْنُکَ دَاوُدَ قَالَ یَا رَبِّ فَما عُمْرُہُ قَالَ سِتُّونَ سَنَۃٍ قَالَ یَا رَبِّ زِدْ فِی عُمْرِہِ قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ تَزِیدَہُ مِنْ عُمْرِکَ قَالَ وَمَا عُمْرِی قَالَ أَلْفُ سَنَۃٍ قَالَ آدَمُ فَقَدْ وَہَبْتُ لَہُ أَرْبَعِینَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَتَبَ اللَّہُ عَلَیْہِ کِتَابًا وَأَشْہَدَ عَلَیْہِ مَلاَئِکَتَہُ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ وَجَائَ تْہُ الْمَلاَئِکَۃُ قَالَ إِنَّہُ بَقِیَ مِنْ عُمْرِی أَرْبَعُونَ سَنَۃً قَالُوا إِنَّہُ قَدْ وَہَبْتَہُ لاِبْنِکَ دَاوُدَ قَالَ مَا وَہَبْتُ لأَحَدٍ شَیْئًا قَالَ فَأَخْرَجَ اللَّہُ الْکِتَابَ وَشَہِدَ عَلَیْہِ مَلاَئِکَتُہُ ۔ [ضعیف]
(٢٠٥١٨) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرمایا : { اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْْتُبُوْْہُ } [البقرۃ ٢٨٢] ” جب تم ادھار لین دین کرو وقت مقرر تک تو لکھ لیا کرو۔ “ پہلا جھگڑا آدم نے اللہ سے کیا، جب اللہ نے اس کو اس کی اولاد دکھائی۔ ایک آدمی کو دیکھا جس کی پیشانی چمک رہی تھی، پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ فرمایا : یہ تیرا بیٹا داؤد ہے، پوچھا : اے میرے رب ! اس کی عمر کتنی ہے، فرمایا : ٦٠ سال۔ کہا : اے میرے رب ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ فرمایا : نہیں لیکن اپنی عمر میں سے کچھ اضافہ کر دو ۔ پوچھا : میری عمر کتنی ہے ؟ فرمایا : ہزار سال۔ آدم نے عرض کیا : میں نے چالیس اس کو ہبہ کردی۔ اللہ نے لکھ لیا اور فرشتوں کو گواہ بنا لیا۔ جب آدم کی موت کا وقت آیا اور فرشتے حاضر ہوئے تو کہنے لگے : میری عمر کے چالیس برس باقی ہیں۔ فرمایا : تو نے اپنے بیٹے داؤد کو ہبہ کردیے تھے۔ کہنے لگے : میں نے کچھ بھی ہبہ نہیں کیا، اللہ نے لکھا ہوا نکالا اور فرشوں نے گواہی دی۔
20525
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۱۹) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَذَکَرَ مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ إِلاَّ إِنَّہُ قَالَ فِی أَوَّلِہِ لَمَّا نَزَلَتْ آیَۃُ الدَّیْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ فِی آخِرِہِ : فَأَکْمَلَ لآدَمَ أَلْفَ سَنَۃٍ وَلِدَاوُدَ مِائَۃَ سَنَۃٍ ۔ [ضعیف]
(٢٠٥١٩) حماد بن سلمہ نے اس کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن اس کے ابتدا میں ہے جب اللہ نے آیت دَین نازل کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور اس کے آخر میں ہے کہ حضرت آدم کے لیے مکمل ہزار سال اور ان کے بیٹے داؤد کے لیے ایک سو سال کردیا۔
20526
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَمَّا خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ وَنَفَخَ فِیہِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ فَحَمِدَ اللَّہَ بِإِذْنِ اللَّہِ فَقَالَ لَہُ رَبُّہُ رَحِمَکَ رَبُّکَ یَا آدَمَ فَقَالَ لَہُ یَا آدَمُ اذْہَبْ إِلَی أُولَئِکَ الْمَلاَئِکَۃِ إِلَی مَلإٍ مِنْہُمْ جُلُوسٍ فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَذَہَبَ قَالُوا وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی رَبِّہِ فَقَالَ ہَذِہِ تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ بَنِیکَ وَبَنِیہِمْ وَقَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَہُ وَیَدَاہُ مَقْبُوضَتَانِ اخْتَرْ أَیَّہُمَا شِئْتَ فَقَالَ اخْتَرْتُ یَمِینَ رَبِّی وَکِلْتَا یَدَیْ رَبِّی یَمِینٌ مُبَارَکَۃٌ ثُمَّ بَسَطَہَا فَإِذَا فِیہَا آدَمُ وَذُرِّیَّتُہُ فَقَالَ أَیْ رَبِّ مَا ہَؤُلاَئِ قَالَ ہَؤُلاَئِ ذُرِّیَّتُکَ فَإِذَا کُلُّ إِنْسَانٍ مَکْتُوبٌ عُمْرُہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَإِذَا فِیہِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُہُمْ أَوْ قَالَ مِنْ أَضْوَئِہِمْ لَمْ یُکْتَبْ لَہُ إِلاَّ أَرْبَعُونَ سَنَۃً فَقَالَ أَیْ رَبِّ زِدْ فِی عُمْرِہِ قَالَ ذَاکَ الَّذِی کُتِبَ لَہُ قَالَ فَإِنِّی قَدْ جَعَلْتُ لَہُ مِنْ عُمْرِی سِتِّینَ سَنَۃً قَالَ أَنْتَ وَذَاکَ قَالَ ثُمَّ اسْکُنِ الْجَنَّۃَ مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ اہْبِطْ مِنْہَا وَکَانَ آدَمُ یَعُدُّ لِنَفْسِہِ فَأَتَاہُ مَلَکُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَہُ آدَمُ قَدْ عَجِلْتَ قَدْ کُتِبَتْ لِی أَلْفُ سَنَۃٍ قَالَ بَلَی وَلَکِنَّکَ جَعَلْتَ لاِبْنِکَ دَاوُدَ مِنْہَا سِتِّینَ سَنَۃً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّیَّتُہُ وَنَسِیَ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَّتُہُ فَیَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْکِتَابِ وَالشُّہُودِ ۔ [حسن]
(٢٠٥٢٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس میں روح پھونکی۔ اس نے چھینک ماری تو کہا : الحمد للہ، اللہ کی اجازت سے اللہ کی حمد بیان کی۔ اللہ نے فرمایا : تیرا رب تیرے اوپر رحم کرے۔ اللہ نے فرمایا : اے آدم ! فرشتوں کی اس جماعت جو مجلس میں جا کر سلام کہو۔ وہ گئے تو انھوں نے کہا : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
پھر اپنے رب کے پاس واپس آئے۔ اللہ نے فرمایا : یہ تمہارا اور اس کا سلام ہے اور اللہ نے فرمایا : جب اس کے دونوں ہاتھ بند تھے جو چاہے اختیار کر۔ اس نے کہا : میں نے اپنے رب کے داہنے ہاتھ کو پسند کیا۔ میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور بابرکت ہیں۔ پھر ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور اس کی اولاد تھی۔ فرمایا : اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا : تیری اولاد۔ ہر انسان کی عمر دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھی ہوئی تھی۔
ان میں سے ایک آدمی پیشانی کے اعتبار سے زیادہ چمکدار تھا اور صرف چالیس لکھا ہوا تھا، کہا : اے اللہ ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ اللہ نے فرمایا : اس کی بس اتنی ہی عمر ہے، کہنے لگے : میری عمر کے ٦٠ سال اس کو دے دے۔ اللہ نے فرمایا : یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے، پھر جنت میں ٹھہرے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر اس سے اترے۔ حضرت آدم اپنی عمر شمار کرتے رہے جب موت کا فرشتہ آیا تو آدم نے فرمایا : تو نے جلدی کی۔ میری عمر تو ہزار سال ہے، فرشتے نے کہا : کیوں نہیں لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ آپ نے انکار کردیا۔ ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ آدم بھول گئے۔ ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ اس دن وہ لکھنے اور گواہوں کا حکم دیے گئے۔
پھر اپنے رب کے پاس واپس آئے۔ اللہ نے فرمایا : یہ تمہارا اور اس کا سلام ہے اور اللہ نے فرمایا : جب اس کے دونوں ہاتھ بند تھے جو چاہے اختیار کر۔ اس نے کہا : میں نے اپنے رب کے داہنے ہاتھ کو پسند کیا۔ میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور بابرکت ہیں۔ پھر ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور اس کی اولاد تھی۔ فرمایا : اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا : تیری اولاد۔ ہر انسان کی عمر دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھی ہوئی تھی۔
ان میں سے ایک آدمی پیشانی کے اعتبار سے زیادہ چمکدار تھا اور صرف چالیس لکھا ہوا تھا، کہا : اے اللہ ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ اللہ نے فرمایا : اس کی بس اتنی ہی عمر ہے، کہنے لگے : میری عمر کے ٦٠ سال اس کو دے دے۔ اللہ نے فرمایا : یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے، پھر جنت میں ٹھہرے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر اس سے اترے۔ حضرت آدم اپنی عمر شمار کرتے رہے جب موت کا فرشتہ آیا تو آدم نے فرمایا : تو نے جلدی کی۔ میری عمر تو ہزار سال ہے، فرشتے نے کہا : کیوں نہیں لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ آپ نے انکار کردیا۔ ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ آدم بھول گئے۔ ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ اس دن وہ لکھنے اور گواہوں کا حکم دیے گئے۔
20527
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ سَعْدًا قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِی رَجُلاً أُمْہِلُہُ حَتَّی آتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۹۸]
(٢٠٥٢١) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو پھر میں چار گواہ تلاش کروں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
20528
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۵۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا سُہَیْلٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِی رَجُلاً لَمْ أَمَسَّہُ حَتَّی آتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: نَعَمْ۔ قَالَ کَلاَّ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنْ کُنْتُ لأَعْجَلُہُ بِالسَّیْفِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اسْمَعُوا إِلَی مَا یَقُولُ سَیِّدُکُمْ إِنَّہُ غَیُورٌ وَأَنَا أَغْیَرُ مِنْہُ وَاللَّہُ أَغْیَرُ مِنِّی ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢٠٥٢٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : اگر میں اپنی عورت کے پاس کسی مرد کو پاؤں پھر اس کو کچھ کہے بغیر چار گواہ تلاش کروں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ کہنے لگے : نہیں اللہ کے رسول پہلے میں اس کی گردن ماروں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے، یہ غیرت مند ہے، میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔