hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

53. نفقات کا بیان

سنن البيهقي

15694
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ الثَّقَفِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ : مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ غُلاَمَ ثَعْلَبٍ یَقُولُ سَمِعْتُ ثَعْلَبًا یَقُولُ فِی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ {ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا} أَیْ لاَ یَکْثُرَ عِیَالُکُمْ قَالَ أَحْسَنُ ہُوَ لُغَۃً۔ [ضعیف]
(١٥٦٨٨) ثعلب امام شافعی (رح) کے قول جو { ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا }[النساء ٣] کے بارے میں ہے کہ تمہاری اولاد یا عیال زیادہ نہ ہو کے متعلق فرماتے ہیں : یہ لغت کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہے۔
15695
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ : أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الصَّدَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا} قَالَ ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ یَکْثُرَ مَنْ تَعُولُونَہُ۔ وَالْحَدِیثُ فِی سَبَبِ نُزُولِ ہَذِہِ الآیَۃِ قَدْ مَضَی فِی کِتَابِ النِّکَاحِ۔ [صحیح]
(١٥٦٨٩) زید بن اسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد { ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا } [النساء ٣] کے بارے میں فرمایا : یہ زیادہ بہتر ہے وہ زیادہ نہ ہوں جن کی تمہارے ذمہ دیکھ بھال ہے اور اس آیت کے سبب نزول کی حدیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے۔
15696
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ ہِنْدًا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ فَہَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِہِ؟ قَالَ : خُذِی مَا یَکْفِیکِ وَوَلَدَکِ بِالْمَعْرُوفِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ۔ [صحیح]
(١٥٦٩٠) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہندہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میرے اوپر اس کے مال سے کچھ لینے میں کوئی حرج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تولے لے جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہوجائے ۔
اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
15697
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۱) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدِ بْنِ أَحْمَدَ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَثَّ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : عِنْدِی دِینَارٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ عِنْدِی دِینَارٌ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی نَفْسِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أنْفِقْہُ عَلَی وَلَدِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی أَہْلِکَ ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی عَاصِمٍ : عَلَی زَوْجَتِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی خَادِمِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْتَ أَعْلَمُ ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی عَاصِمٍ : أَنْتَ أَبْصَرُ ۔ زَادَ سُفْیَانُ فِی رِوَایَتِہِ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ قَالَ سَعِیدٌ ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ : یَقُولُ وَلَدُکَ أَنْفِقْ عَلَیَّ إِلَی مَنْ تَکِلُنِی تَقُولُ زَوْجَتُکَ أَنْفِقْ عَلَیَّ أَوْ طَلِّقْنِی یَقُولُ خَادِمُکَ إِلَی مَنْ تَکِلُنِی أَنْفِقْ عَلَیَّ أَوْ بِعْنِی۔ [حسن]
(١٥٦٩١) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ ایک شخص آیا اور عرض کیا : میرے پاس دینار ہے۔ تحویل سند، ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے۔ ہمیں حدیث بیان کی ابو عباس اصم نے ان کو خبر دی ربیع بن سلیمان نے ان کو خبر دی شافعی نے ان کو خبر دی سفیان نے محمد بن عجلان سے وہ سعید بن ابی سعید سے اور وہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس دینار ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے اوپر خرچ کر۔ کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا اپنے بچے پر خرچ کر۔ کہا : میرے پاس اور ہے : فرمایا اپنے اہل پر خرچ کر۔ ابو عاصم کی حدیث میں ہے کہ اپنی بیوی پر خرچ کر۔ کہا : میرے پاس اور ہے۔ فرمایا : اپنے خادم پر خرچ۔ کر کہا : میرے پاس اور ہے۔ فرمایا : تو زیادہ جانتا ہے کہ (کہاں خرچ کرے) اور ابو عاصم کی حدیث میں ہے تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔ سفیان نے ابن عجلان سے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔ سعید نے کہا : پھر ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : جب وہ یہ بیان کرے اس کا بچہ کہے گا تو مجھ پر خرچ کر۔ اس کی طرف تو نے مجھے جس کے سپرد کیا ہے۔ تیری بیوی کہتی ہے : تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم کہتا ہے : جس طرف تو نے مجھے سپرد کیا ہے تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے فروخت کر دے۔
15698
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی وَاْبَدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۳۵۵]
(١٥٦٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہتر صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد کیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تو اس سے شروع کر جس کی تو دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کو بخاری نے اعمش کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے۔
15699
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ قَالَ قُرِئَ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِی مِنْہَا أَمْ مَا نَذَرُ؟ قَالَ : ائْتِ حَرْثَکَ أَنَّی شِئْتَ غَیْرَ أَنْ لاَ تَضْرِبَ الْوَجْہَ وَلاَ تُقَبِّحَ وَلاَ تَہْجُرَ إِلاَّ فِی الْبَیْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاکْسُ إِذَا اکْتَسَیْتَ کَیْفَ وَقَدْ أَفْضَی بَعْضُکُمْ إِلَی بَعْضٍ ۔ [حسن]
(١٥٦٩٣) بھز بن حکیم بن معاویہ قشیری فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہماری بیویاں ہیں، ہم ان پر کیسے آئیں اور کیسے چھوڑیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنی کھیتی کو جیسے چاہے آ اور تو اس کے چہرے پر نہ مار اور اس کی بےعزتی نہ کر اور تو اس کو نہ چھوڑ، مگر اپنے گھر میں اور جو تو خود کھائے اسے بھی وہی کھلا اور جب تو پہنے اسے بھی پہنا اور تمہارا ایک دوسرے کی طرف کیسے آتا ہے۔
15700
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ وَہْبَ بْنَ جَابِرٍ یَقُولُ : شَہِدْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاہُ مَوْلًی لَہُ فَقَالَ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُقِیمَ ہَذَا الشَّہْرَ ہَا ہُنَا یَعْنِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : ہَلْ تَرَکْتَ لأَہْلِکَ مَا یَقُوتُہُمْ؟ فَقَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَمَّا لاَ فَارْجِعْ فَدَعْ لَہُمْ مَا یَقُوتُہُمْ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کَفَی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوتُ ۔ [صحیح]
(١٥٦٩٤) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے وہب بن جابر سے سنا، وہ کہتے ہیں : میں عبداللہ بن عمرو بن عاص کے پاس بیت القدس میں حاضر ہوا اور ان کے پاس ان کا غلام آیا، اس نے کہا : میرا ارادہ ہے کہ میں ماہ رمضان یہاں پر قیام کروں۔ اس کو عبداللہ نے کہا : کیا تو نے اپنے اہل کے لیے خوراک چھوڑی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تو یہاں نہ رہ۔ لوٹ جا اور ان کے لیے خوراک کا انتظام کر۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آدمی کے لیے ہی گناہ کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی وہ خوراک کا انتظام کرتا ہے۔
15701
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَدِیُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ فَقُلْتُ أَعَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : الْمُسْلِمُ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَۃً عَلَی أَہْلِہِ وَہُوَ یَحْتَسِبُہَا کُتِبَتْ لَہُ صَدَقَۃٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٩٥) ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ میں نے کہا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ؟ اس نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ مسلمان جب اپنے اہل پر مال خرچ کرتا ہے اور وہ اس کا احتساب کرتا ہے اس کا صدقہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے دوسری دو سندوں سے شعبہ سے اس کو نکالا ہے۔
15702
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُنِی وَأَنَا بِمَکَّۃَ وَہُوَ یَکْرَہُ أَنْ یَمُوتَ أَحَدُنَا بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا فَقَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ابْنَ عَفْرَائَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ فِی أَیْدِیہِمْ وَإِنَّکَ مَہْمَا أَنْفَقْتَ عَلَی أَہْلِکَ مِنْ نَفَقَۃٍ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ وَعَسَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَنْفَعَ بِکَ قَوْمًا وَیَضُرَّ بِکَ آخَرِینَ ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ ابْنَۃٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٩٦) سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، آپ نے مجھے لوٹا دیا اور میں مکہ میں تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناپسند کرتے تھے کہ ہمارا کوئی شخص اسی زمین میں فوت ہو جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عفراء کے بیٹے پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : نہیں۔ میں نے کہا : ایک تہائی ؟ آپ نے فرمایا : ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے ، تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑ یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان فقیر کر کے چھوڑ اور وہ اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلاتے رہیں۔ جو تو اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور قریب ہے کہ اللہ اس کے ذریعے ایک قوم کو نفع دے اور دوسری قوم کو اس کے ذریعے تکلیف دے اور نہیں ہوگی اس کے لیے اس دن مگر بیٹی۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری (رح) کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔
15703
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَأَبُو الْمُثَنَّی وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : دِینَارٌ أَعْطَیْتَہُ مِسْکِینًا وَدِینَارٌ أَعْطَیْتَہُ فِی رَقَبَۃٍ وَدِینَارٌ أَعْطَیْتَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَدِینَارٌ أَنْفَقْتَہُ عَلَی أَہْلِکَ قَالَ الدِّینَارُ الَّذِی أَنْفَقْتَہُ عَلَی أَہْلِکَ أَعْظَمُ أَجْرًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ ۹۹۴]
(١٥٦٩٧) مجاہد ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ایک دینار مسکین کو دے اور ایک دینارگردن آزاد کروانے کے لیے دے اور ایک دینار تو نے اللہ کے راستے میں دیا اور ایک دینار تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔ فرمایا : وہ دینار جو تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے وہ اجر کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے۔
اس کو مسلم نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں روایت کیا ہے۔