Sunan Al Bayhaqi
66. قسموں کا بیان
سنن البيهقي
19813
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ
(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی رَہْطٍ مِنَ الأَشْعَرِیِّینَ نَسْتَحْمِلُہُ قَالَ وَاللَّہِ مَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِی مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ أُتِیَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ یُبَارِکُ اللَّہُ لَنَا أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَسْتَحْمِلُہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَلَکُمْ إِنِّی وَاللَّہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ لاَ أَحْلِفُ عَلَی یَمِینٍ ثُمَّ أَرَی خَیْرًا مِنْہَا إِلاَّ کَفَّرْتُ یَمِینِی وَأَتَیْتُ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ۔ لَفْظُ حَدِیثِ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ وَحَدِیثُ الطَّیَالِسِیُّ بِمَعْنَاہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَقُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨٠٧) ابوموسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ میں اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی کے پاس آیا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سواریاں مہیا کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں سوار نہ کروں گا اور میرے پاس سواریاں نہیں جن پر تمہیں سوار کروں۔ کہتے ہیں : جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹ لائے گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے حکم فرمایا کہ تین اونٹ سفید کہا نوں والے دئیے جائیں۔ جب ہم چلے ہم نے کہا یا بعض لوگوں نے کہا : اللہ ہمیں برکت نہ دے، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سواریاں طلب کرنے کے لیے آتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم اٹھائی کہ وہ ہم کو سوار نہ کریں گے لیکن بعد میں سواریاں مہیا فرما دیں۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور خبر دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہیں سوار نہ کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا اور اگر میں قسم اٹھالوں پھر اس سے بہتر کام دیکھوں تو وہ کرلیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
19814
Sunan Al Bayhaqiمسنگ
(١٩٨٠٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوگیا۔ لمبی حدیث ہے آخر میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسا کم اور رویا زیادہ کرو۔
19815
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَتْ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدَۃَ
وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ، بدون لفظ القسم]
(١٩٨٠٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے زیادہ محبوب ہے کہ وہ میرے پاس تین رات تک نہ رہے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ ہو صرف قرض کے لیے کچھ بچا کر رکھو۔
19816
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۳۰]
(١٩٨١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ رویا کرو اور کم ہنسا کرو۔
19817
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ عِنْدِی أُحُدًا ذَہَبًا لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ یَأْتِیَ عَلَیَّ ثَلاَثُ لَیَالٍ وَعِنْدِی مِنْہُ دِینَارٌ أَجِدُ مَنْ یَتَقَبَّلُہُ إِلاَّ شَیْء ٌ أُرْصِدُہُ لِدَیْنٍ عَلَیَّ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [ضعیف]
(١٩٨١١) حضرت ابوسعیدخدری (رض) فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم اٹھاتے تو فرماتے : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔
19818
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَیْخٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ قَالَ لاَ وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِنَیْسَابُورَ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ : ہُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ۔ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ ہُمْ؟ قَالَ : ہُمُ الأَکْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ وَعَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَقَلِیلٌ مَا ہُمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨١٢) حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو فرمایا : وہ خسارہ پا گئے رب کعبہ کی قسم ! فرماتے ہیں : میں آیا اور بیٹھ گیا لیکن ابھی جم کر بیٹھا بھی نہ تھا کہ اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے کہا : میرے ماں باپ فدا وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امیر لوگ لیکن جنہوں نے اپنے مال سے ایسے ایسے کیا یعنی سامنے، پیچھے دائیں اور بائیں خرچ کیا۔ لیکن یہ لوگ تھوڑے ہیں۔
19819
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۳) وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ : ہُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ۔ قُلْتُ مَا شَأْنِی أَیَرَی فِیَّ شَیْئًا فَجَلَسْتُ وَہُوَ یَقُولُ فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْکُتَ وَتَغَشَّانِی مَا شَائَ اللَّہُ فَقُلْتُ مَنْ ہُمْ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الأَکْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ ہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٩٨١٣) حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں : جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے فرما رہے تھے : رب کعبہ کی قسم ! وہ خسارہ پانے والے ہیں، میں نے کہا : میری کیا حالت ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اندر کوئی چیز دیکھی ؟ میں بیٹھ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے، میں خاموش نہ رہ سکا۔ مجھے کسی چیز نے ڈھانپ لیا جو اللہ نے چاہا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ فدا ہوں وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ مال والے لیکن اس طرح اس طرح یعنی مال خرچ کرنے والے محفوظ رہیں گے۔
19820
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ أَنْبَأَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنِّی لأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبَی ۔ قَالَتْ قُلْتُ مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً قُلْتِ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبَی قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاہِیمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨١٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : میں جان جاتا ہوں جب تو میرے اوپر ناراض ہوتی ہے یا خوش۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ میرے اوپر راضی ہوتی ہیں تب آپ کہتی ہیں، ل اور ب محمد ‘ لیکن جب ناراض ہوتی ہیں اس وقت لا ورب ابراہیم، کہتی ہیں۔
19821
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَمِینٌ یَحْلِفُ بِہَا لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۱۷]
(١٩٨١٥) سالم ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھاتے ” لا ومقلب القلوب “ دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔
19822
Sunan Al Bayhaqi(۱۹۸۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ لِلَّہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ اسْمًا مِائَۃً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ إِنَّہُ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨١٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے ننانوے نام ہیں، جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔