Sunan Al Bayhaqi
8. کتاب الاستسقائ
سنن البيهقي
6383
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عِیسَی بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ بِالْکُوفَۃِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ شَرِیکِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکَتِ الْمَوَاشِی وَانْقَطَعَتْ سُبُلُ النَّاسِ وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ وَتَقَطَعَتِ السُّبُلُ۔ فَادْعُ اللَّہَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَۃِ إِلَی الْجُمُعَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَہَدَّمَتِ الْبُیُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَہَلَکَتِ الْمَوَاشِی فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : اللَّہُمَّ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ وَالآکَامِ وَبُطُونِ الأَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ۔ قَالَ : فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِینَۃِ انْجِیَابَ الثَّوْبِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَرِیکٍ۔[صحیح۔ بخاری]
(٦٣٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مویشی ہلاک ہوگئے ۔ لوگوں کی راہیں کٹ گئیں۔ امام شافعی کی روایت کے مطابق (راستے کٹ گئے) اللہ سے بارش کی دعا کیجیے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی ۔ راوی کہتا ہے کہ ہم پر جمعہ سے لے کر جمعہ تک بارش برسائی گئی تو ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! گھر منہدم ہوگئے راستے بند ہوگئے اور مویشی ہلاک ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر دعا فرمائی : اے اللہ ! ان بادلوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں ، ٹیلوں، وادیوں کے درمیان اور درختوں کے پیدا ہونے کی جگہ برسا دے۔ راوی کہتا ہے : مدینہ سے بادل یوں چھٹ گئے جیسے کپڑا چھٹ جاتا ہے۔
6384
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، وَقَلَبَ رِدَائَ ہُ ، وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٣٨٤) حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید گاہ کی طرف نکلے آپ نے بارش طلب کی اور قبلہ رخ ہوئے اور اپنی چادر کو پلٹایا اور دو رکعت نماز پڑھی۔
6385
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّہُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِیمٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیدٍ الَّذِی أُرِیَ النِّدَائَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ إِلَی الْمُصَلَّی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ : کَانَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ : ہُوَ صَاحِبُ الأَذَانِ۔ وَلَکِنَّہُ وَہِمَ لأَنَّ ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیُّ مَازِنُ الأَنْصَارِ قَالَ فِی التَّارِیخِ قُتِلَ یَوْمَ الْحَرَّۃِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ الأَنْصَارِیُّ مِنْ بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ الْمَدَنِیُّ صَاحِبُ الأَذَانِ۔ [صحیح۔ بخاری]
(٦٣٨٥) حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا عبداللہ بن زید (جس کو خواب میں اذان سکھلائی گئی تھی) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید گاہ کی طرف نکلے اور پہلی حدیث کی مثل بیان کیا۔
امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ وہ عبداللہ نہیں جنہیں اذان سکھلائی گئی تھی بلکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہے۔
امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ وہ عبداللہ نہیں جنہیں اذان سکھلائی گئی تھی بلکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہے۔
6386
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الْوَلِیدَ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ ۔ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : إِنَّمَا تَمَارَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فِی صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : لاَ بَلْ أَرْسَلَ ابْنُ أَخِیکُمْ یَعْنِی الْوَلِیدَ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ یَوْمَئِذٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتَکُمْ ہَذِہِ ، وَلَکِنْ لَمْ یَزَلْ فِی الدُّعَائِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّکْبِیرِ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا کَانَ یُصَلِّی فِی الْعِیدَیْنِ۔ [حسن۔ ابن خزیمۃ]
(٦٣٨٦) ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے ولید نے ابن عباس (رض) کی طرف بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز استقاء کے متعلق دریافت کروں سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا : ان سے آپ نے مسجد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ’ صلوۃ الاستسقائ ‘ کے متعلق ہمیں شک میں ڈال دیا ہے تو انھوں نے کہا : نہیں بلکہ تمہارے بھائی کے بیٹے ولید نے بھیجا ہے تب وہ مدینے کا امیر تھا تو تب ابن عباس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاجزی انکساری کرتے ہوئے اور گڑ گڑاتے ہوئے نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے مگر تمہارے آج کے خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے رہے اور گڑ گڑاتے رہے اور اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عیدین میں پڑھایا کرتے تھے۔
6387
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَرْسَلَنِی أَمِیرٌ مِنَ الأُمَرَائِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا مَنَعَہُ أَنْ یَسْأَلَنِی خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَبَذِّلاً مُتَضَرِّعًا مُتَرَسِّلاً فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا یُصَلِّی فِی الْعِیدِ وَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتِکُمْ۔ [حسن۔ حاکم، ابن خزیمہ]
(٦٣٨٧) ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ امیروں میں سے ایک امیرنے مجھے ابن عباس (رض) کی طرف بھیجا کہ میں ان سے صلوۃ الاستسقاء کے متعلق پوچھوں تو ابن عباس نے کہا : اسے کس نے روکا ہے میرے سے پوچھنے میں ۔ پھر انھوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاجزی کرتے ہوئے خشوع و خضوع کرتے اور گڑ گڑاتے ہوئے نرمی سے چلتے ہوئے نکلے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید کی پڑھاتے تھے اور آپ نے تمہارے خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا۔
6388
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْفَزَارِیِّ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((ابْغُونِی الضُّعَفَائَ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِکُمْ))۔
[صحیح۔ ابو داؤد، ترمذی]
(٦٣٨٨) جبیر بن نفیر حذرمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو دردائ (رض) سے سنا، وہ کہتے تھے : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ میرے لیے تلاش کر وضعیفوں کمزوروں کو کہ بیشک تم رزق دیے جاتے ہو اور مدد کیے جاتے ہو اپنے کمزوروں کی وجہ سے۔
6389
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ الْہَمَذَانِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ طَلْحَۃَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ ظَنَّ أَنَّ لَہُ فَضْلاً عَلَی مَنْ دُونَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا نَصَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الأُمَّۃَ بِضَعِیفِہَا بِدَعْوَتِہِمْ وَصَلاَتِہِمْ وَإِخْلاَصِہِمْ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أَبِیہِ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ۔ [صحیح بخاری]
(٦٣٨٩) مصعب بن سعد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے خیال کیا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیگر صحابہ سے افضل ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اس امت کی مدد کی ہے۔ ان کے کمزور لوگوں کی دعا، نماز اور اخلاص کی وجہ سے۔ اس حدیث کی تخریج امام بخاری (رح) نے کی ہے محمد بن طلحہ کی حدیث سے جو انھوں نے اپنے باپ سے بیان کی۔
6390
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۹۰) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً فِی شَہْرِ رَمَضَانَ سَنَۃَ تِسْعٍ وَتِسْعِینَ وَثَلاَثِ مِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الشَّاشِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنِی سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ خُثَیْمٍ یَعْنِی ابْنَ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَہْلاً عَنِ اللَّہِ مَہْلاً فَإِنَّہُ لَوْلاَ شَبَابٌ خُشَّعٌ وَبَہَائِمُ رُتَّعٌ وَشُیُوخٌ رُکَّعٌ وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ لَصُبَّ عَلَیْکُمُ الْعَذَابُ صَبًّا))۔
إِبْرَاہِیمُ بْنُ خُثَیْمٍ غَیْرُ قَوِیٍّ وَلَہُ شَاہِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو یعلٰی]
(٦٣٩٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے ، وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہر جاؤ جلدی نہ کرو۔ اللہ سے یہ یقینی بات ہے کہ اگر خشوع و خضوع کرنے والے نوجوان نہ ہوتے اور چوپائے بلبلانے والے نہ ہوتے اور بزرگ (بوڑھے) جھکنے والے نہ ہوتے اور بچے چیخنے چلانے والے نہ ہوتے تو تم پر عذاب نازل کردیا جاتا۔ اس میں ابراہیم بن خثیم قوی نہیں ۔
6391
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ یَعْنِی ابْنَ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظَ حَدَّثَنِی مَالِکُ بْنُ عُبَیْدَۃَ یَعْنِی ابْنَ مُسَافِعٍ الدِّیلِیَّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لَوْلاَ عِبَادٌ للَّہِ رُکَّعٌ وَصِبْیَۃٌ رُضَّعٌ وَبَہَائِمُ رُتَّعٌ لَصُبَّ عَلَیْکُمُ الْعَذَابُ صَبًّا ثُمَّ لَتُرَضُّنَّ رَضًّا))۔ [ضعیف۔ طبرانی فی الکبیر]
(٦٣٩١) ابن مسافع دہلی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دادا سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ کے بندے رکوع کرنے والے نہ ہوں اور بچے گڑگڑانے والے نہ ہوں اور جانور بلبلانے والے نہ ہوں تو ضرور تم پر عذاب آجاتا۔
6392
Sunan Al Bayhaqi(۶۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَکْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا السَّہْمِیُّ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ثَلاَثُ دَعَوَاتٍ لاَ تُرَدُّ دَعْوَۃُ الْوَالِدِ ، وَدَعْوَۃُ الصَّائِمِ وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ))۔ [صحیح۔ الحافظ نقل فی السان ۱/۴۰]
(٦٣٩٢) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین ایسی دعائیں ہیں جو لوٹائی نہیں جاتیں : باپ کی دعا، روزے دار کی دعا اور مسافر کی دعا۔