hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

14. روزوں کا بیان

سنن البيهقي

7894
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((بُنِیَ الإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی أَنْ یُوَحَّدَ اللَّہُ ، وَإِقَامِ الصَّلاَۃِ ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ ، وَصِیَامِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجِّ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ وَزَادَ فِیہِ فَقَالَ رَجُلٌ : الْحَجِّ ، وَصِیَامِ رَمَضَانَ قَالَ لاَ صِیَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ ۔ ہَکَذَا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
(٧٨٩١) عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھ دی گئی۔ اللہ کو ایک ماننا اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔
(امام مسلم نے اپنی صحیح میں محمد بن عبداللہ بن عمیر سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ایک آدمی نے کہا : حج اور رمضان کے روزے بھی تو انھوں نے کہا : نہیں بلکہ رمضان کے روزے اور حج ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے سنا ہے۔ )
7895
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۲) أَخْبَرَنَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِیسَی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ فَذَکَرَہُ بِزِیَادَتِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٨٩٢) مسلم بن حجاج فرماتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ بن عمیر (رض) نے کچھ اضافے کے ساتھ اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔
7896
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَیَاضِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْخُرَقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوقِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُوزَیْدٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ: نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِیِّ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِی جَرَّۃَ نَبِیذٍ حُلْوٍ فَأَشْرَبُہُ ، فَإِذَا أَکْثَرْتُ مِنْہُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ فَأَطَلْتُ الْمَجْلِسَ خِفْتُ أَنْ أَفْتَضِحَ فَقَالَ لِی: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَیْسِ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَیْرِ الْخَزَایَا۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارَ مُضَرَ ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَیْکَ إِلاَّ فِی شَہْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِہِ وَنَدْعُو إِلَیْہِ مَنْ وَرَائَ نَا قَالَ : ((آمُرُکُمْ بِالإِیمَانِ۔ تَدْرُونَ مَا الإِیمَانُ؟ شَہَادَۃُ أَلاَّ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، وَأَنْ تُقِیمُوا الصَّلاَۃَ ، وَتُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّوا الْبَیْتَ الْحَرَامَ))۔ قَالَ وَأَحْسَبُہُ قَالَ : ((وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِی الْجَرِّ ، وَالدُّبَّائِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِیرِ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٨٩٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وفد عبد القیس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وفد کو خوش آمدید جو رسوا نہیں ہوا، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ ہے اس لیے ہم حرمت والے مہینے کے علاوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں آسکتے۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایسے امر کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو ہم اس کی دعوت دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایمان کا حکم دیتا ہوں تم جانتے ہو ایمان کیا ہے ؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور غنائم میں سے خمس دینا اور میں تمہیں مٹکے میں شراب پینے سے منع کرتا ہوں اور کدو میں اور تار کول لگے کے برتن میں اور لکڑی کے برتن میں۔
7897
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ یَعْنِی الْحَافِظَ - أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُفَیْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ یَعْنِی ابْنَ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- قَالُوا : أُحِیلَ الصَّوْمُ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَحْوَالٍ قَدِمَ النَّاسُ الْمَدِینَۃَ وَلاَ عَہْدَ لَہُمْ بِالصِّیَامِ۔ فَکَانُوا یَصُومُون ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ حَتَّی نَزَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ فَاسْتَکْثَرُوا ذَلِکَ ، وَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَکَانَ مَنْ أَطْعَمَ مِسْکِینًا کُلَّ یَوْمٍ تَرَکَ الصِّیَامَ مِمَّنْ یُطِیقُہُ رُخِّصَ لَہُمْ فِی ذَلِکَ وَنَسَخَہُ {وَأَنْ تَصُومُوا خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} قَالَ : فَأُمِرُوا بِالصِّیَامِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَ بَعْضَ مَعْنَاہُ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٨٩٤) عبدالرحمن بن ابو لیلی (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث بیان کی کہ ماہ صیام تین وجوہ پر فرض کیا گیا۔ لوگ مدینہ آئے تھے اور ان کے لیے کوئی فرض روزہ نہیں تھا۔ سو وہ تین دن کے روزے ہر ماہ رکھا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ فرض ہوگیا تو انھوں نے اسے زیادہ جانا اور ان پر گراں گزرا ۔ جو روزانہ کا مسکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا وہ کھلاتا اور روزہ نہ رکھتا ۔ اس میں ان کو رخصت دی گئی تھی اور اس آیت کے دوران : { وَأَنْ تَصُومُوا خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ }۔ راوی کہتے : سو وہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیے گئے۔
7898
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السُّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أُحِیلَ الصِّیَامُ ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَأَمَّا حَوْلُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَامَ بَعْدَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَجَعَلَ یَصُومُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، وَصَامَ عَاشُورَائَ فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا شَہْرَ رَبِیعٍ إِلَی شَہْرِ رَبِیعٍ إِلَی رَمَضَانَ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَرَضَ عَلَیْہِ شَہْرَ رَمَضَانَ وَأَنْزَلَ عَلَیْہِ {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ} الآیَۃَ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ یُدْرِکْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٧٨٩٥) حضرت معاذبن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ تین حالتوں میں رمضان فرض ہوا، پھر پوری حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا : روزے کی کیفیت یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینے آنے کے بعد روزہ رکھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر ماہ تین روزے رکھنے شروع کردیے اور عاشور کا روزہ بھی رکھا اور مہینے میں سترہ دن کے روزے رکھے۔ ربیع الاول کے مہینے سے ربیع الثانی اور رمضان کے مہینے تک ۔ پھر اللہ نے ان پر رمضان کا مہینہ فرض کردیا اور یہ حکم نازل فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ } کہ تم پر روزے فرض کیے جیسے پہلے لوگوں میں فرض کیے گئے تھے ۔
7899
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ : قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ بَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ : کُنَّا فِی رَمَضَانَ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ وَافْتَدَی بِطَعَامِ مِسْکِینٍ حَتَّی أُنْزِلَتِ الآیَۃُ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٧٨٩٦) سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں رمضان کے روزے ہم میں سے جو چاہتا رکھتا اور جو چاہتا افطار کردیتا اور مسکین کے کھانے کا فدیہ دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }
7900
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِی حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} کَانَ : مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ یُفْطِرَ وَیَفْتَدِیَ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ الَّتِی بَعْدَہَا نَسَخَتْہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٧٨٩٧) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی { وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ } تو ہم میں سے جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا افطار کرلیتا اور فدیہ دے دیتا پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی یعنی { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }
7901
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَسَخَتْ ہَذِہِ الآیَۃَ یَعْنِی {فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ} ہَذِہِ الآیَۃُ الَّتِی بَعْدَہَا {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٨٩٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے یعنی فدیۃ طعام مساکین ! { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } کی وجہ سے۔
7902
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۹۹) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَیَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی عُبَیْدُاللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ قَرَأَ {فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ} قَالَ ہِیَ مَنْسُوخَۃٌ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٧٨٩٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ آیت پڑھی : { فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ } پھر انھوں نے کہا کہ یہ منسوخ ہوچکی ہے۔
7903
Sunan Al Bayhaqi
(۷۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِالرَّحِیمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ دَنُوقَا (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْہَرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُوسَی الشَّطَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِذَا کَانَ صَائِمًا فَحَضَرَ الإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ یُفْطِرَ لَمْ یَأْکُلْ لَیْلَتَہُ ، وَلاَ یَوْمَہُ حَتَّی یُمْسِیَ ، وَإِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ کَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَی امْرَأَتَہُ قَالَ : ہَلْ عِنْدَکِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ : لاَ وَلَکِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ - وَکَانَ یَوْمَہُ یَعْمَلُ فِیہِ بِأَرْضِہِ - فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَجَائَ تِ امْرَأَتُہُ فَلَمَّا رَأَتْہُ قَالَتْ : خَیْبَۃً لَکَ۔ فَأَصْبَحَ فَلَمْ یَنْتَصِفِ النَّہَارُ حَتَّی غُشِیَ عَلَیْہِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ} فَفَرِحُوا بِہَا فَرَحًا شَدِیدًا {وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} لَفْظُ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ حَمْشَاذَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
(٧٩٠٠) حضرت براء (رض) فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے کوئی شخص روزے کی حالت میں ہوتا اس کے پاس کھانا لایا جاتا تو وہ کھانا کھانے سے پہلے ہی سو چکا ہوتا۔ پھر وہ اس رات اور دن میں اگلی شام تک نہ کھا سکتا۔ ایسے ہی قیس بن عمر (رض) تھے وہ روزے سے تھے، افطار کے وقت اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے : کیا تیرے پاس کھانا ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ میں ابھی لا دیتی ہوں اور وہ دن بھر زمین میں کام کرتے رہے، سو نیند غالب آگئی ۔ جب ان کی بیوی نے آکر دیکھا تو کہا : تیرے لیے نقصان تو نے اسی حالت میں صبح کی۔ جب نصف النہار کا وقت ہوا تو وہ بیہوش ہوگئے تو اس (بیوی) نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی، تب یہ آیت { أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ } نازل ہوئی تو لوگ اس سے بہت زیادہ خوش ہوئے اور یہ بھی { وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ }۔