Sunan Al Bayhaqi
67. نذروں کا بیان
سنن البيهقي
20093
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّی یَدَعَہَا إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٠٨٧) سفیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس میں چار چیزیں پائی گئیں، وہ پکا منافق ہے۔ جس میں چار میں سے ایک ہوئی اس میں نفاق کی ایک علامت ہے یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے : 1 جب بات کرے جھوٹ بولے۔ 2 وعدہ خلافی کرے۔ 3 جھگڑتے ہوئے گالی گلوچ دے۔ 4 معاہدے کو توڑے۔
20094
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو جَمْرَۃَ قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ زَہْدَمٌ فَأَخْبَرَنِی أَنَّہُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ یَکُونُ قَوْمٌ بَعْدَہُمْ یَخُونُونَ وَلاَ یُؤْتَمَنُونَ وَیَشْہَدُونَ وَلاَ یُسْتَشْہَدُونَ وَیَنْذُرُونَ وَلاَ یُوفُونَ وَیَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٠٨٨) ابو جمرہ فرماتے ہیں کہ زہدم میرے پاس آئے۔ انھوں نے عمران بن حصین سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین زمانہ میرا ہے، پھر جو میرے بعد آنے والے ان کا دور۔ پھر ان کے بعد کا دور، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی، جو خیانت کرے گی امانت دار نہ ہوں گے اور گواہی دیں گے لیکن گواہی کا مطالبہ نہ ہوگا اور وہ نذریں مانیں گے، لیکن پوری نہ کریں گے۔ ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔
20095
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَہُ فَلاَ یَعْصِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۹۶۔ ۶۷۰۰]
(٢٠٠٨٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اطاعت کی نذر مانی وہ پوری کرے اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ اس کو پورا نہ کرے۔
20096
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ وَاقِدٍ الْکِلاَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ ثَقِیفٌ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَیْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِیفٌ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً وَأَصَابُوا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ کَمَا مَضَی وَفِیہِ قَالَ وَأُسِرَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَأُصِیبَتِ الْعَضْبَائُ فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الْوَثَاقِ وَکَانَ الْقَوْمُ یُرِیحُونَ نَعَمَہُمْ بَیْنَ أَیْدِی بُیُوتِہِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِیرِ رَغَا فَتَتْرُکُہُ حَتَّی تَنْتَہِیَ إِلَی الْعَضْبَائِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَۃٌ مُنَوَّقَۃٌ فَقَعَدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ زَجَرَتْہَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِہَا فَطَلَبُوہَا فَأَعْجَزَتْہُمْ قَالَ وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ رَئَ اہَا النَّاسُ فَقَالُوا الْعَضْبَائُ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۴۱]
(٢٠٠٩٠) ابومہلب حضرت عمران بن حصین سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو صحابی قیدی بنا لیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ایک آدمی کو قید کرلیا اور انھوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضہ میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کرلی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ اس عورت نے اس پر سواری کی اور رجزیہ اشعار کہے اور چلی گئی۔ انھوں نے نذر مانی اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کردیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی کی اونٹنی ہے۔ اس عورت نے کہا : میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اس بات کا انھوں نے تذکرہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک ہے۔ اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی ، یہ برا ہے۔ پھر فرمایا : اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں) ۔
20097
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۱) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیٍّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ امْرَأَۃَ أَبِی ذَرٍّ جَائَ تْ عَلَی الْقَصْوَائِ رَاحِلَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَنَاخَتْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ نَذَرَتْ لَئِنْ نَجَّانِی اللَّہُ عَلَیْہَا لآکُلَنَّ مِنْ کَبِدِہَا وَسَنَامِہَا قَالَ : بِئْسَمَا جَزَیْتِہَا لَیْسَ ہَذَا نَذْرًا إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللَّہِ ۔ [ضعیف]
(٢٠٠٩١) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو ذر (رض) کی بیوی قصواء اونٹنی پر آئی۔ اس کو مسجد کے قریب بٹھادیا گیا۔ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو میں اس کا جگر اور کوہان کا گوشت کھاؤں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے برا بدلہ دیا ہے۔ فرمایا : یہ نذر نہیں۔ نذر صرف وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا تلاش کی جائے۔
20098
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّ -ﷺ- یَخْطُبُ إِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٌ فِی الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا ہَذَا أَبُو إِسْرَائِیلَ نَذَرَ أَنْ یَقُومَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَتَکَلَّمَ وَیَصُومَ وَلاَ یُفْطِرَ۔ فَقَالَ : مُرْہُ فَلْیَتَکَلَّمْ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَقْعُدْ وَلِیُتِمَّ صَوْمَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۷۰۴]
(٢٠٠٩٢) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں پوچھاتو انھوں نے جواب دیا : یہ ابواسرائیل ہے۔ اس نے کھڑے رہنے اور نہ بیٹھنے کی نذر مانی ہے اور نہ سائے میں جائے گا اور نہ ہی کلام کرے گا۔ روزے رکھے گا، افطار نہیں کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو حکم دو کہ کلام کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔
20099
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنْبَأَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مَرَّ بِأَبِی إِسْرَائِیلَ وَہُوَ قَائِمٌ فِی الشَّمْسِ فَقَالَ : مَا لَہُ؟ ۔ فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یُکَلِّمَ أَحَدًا وَیَصُومَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَسْتَظِلَّ وَأَنْ یَقْعُدَ وَأَنْ یُکَلِّمَ النَّاسَ وَیُتِمَّ صَوْمَہُ وَلَمْ یَأْمُرْہُ بِکَفَّارَۃٍ۔
ہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ وَفِیہِ وَفِیمَا قَبْلَہُ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَأْمُرْ بِکَفَّارَۃٍ۔
وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِمِثْلِہِ وَفِی آخِرِہِ وَلَمْ یَأْمُرْہُ بِالْکَفَّارَۃِ۔ [ضعیف]
(٢٠٠٩٣) طاؤس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابواسرائیل جو دھوپ میں کھڑے تھے کو حکم دیا اور فرمایا : اس کو کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ نہیں بیٹھے گا اور نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ کسی سے کلام کرے گا اور روزہ رکھے گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور لوگوں سے کلام کرے اور روزہ پورا کرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کفارے کا حکم نہیں دیا۔
20100
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۴) وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَفِیہِ الأَمْرُ بِالْکَفَّارَۃِ وَمُحَمَّدُ بْنُ کُرَیْبٍ ضَعِیفٌ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ السَّبِیئُ الشَّہِیدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَائٍ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ أَبُو إِسْرَائِیلَ بْنُ قُشَیْرٍ : إِنَّہُ کَانَ نَذَرَ أَنْ یَصُومَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَتَکَلَّمَ فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اقْعُدْ وَاسْتَظِلَّ وَتَکَلَّمْ وَکَفِّرْ ۔
کَذَا وَجَدْتُہُ وَکَفِّرْ وَعِنْدِی أَنَّ ذَلِکَ تَصْحِیفٌ إِنَّمَا ہُوَ : وَصُمْ ۔ کَمَا ہُوَ فِی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[ضعیف]
(٢٠٠٩٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابواسرائیل نے نذر مانی کہ وہ روزہ رکھے گا، نہیں بیٹھے گا ، سایہ حاصل نہیں کرے گا اور کلام بھی نہ کرے گا۔ اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ، سایہ حاصل کر، کلام کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ اس طرح میں نے پایا ہے کہ قسم کا کفارہ دے اور میرے نزدیک یہ تصحیف ہے کہ تو روزہ رکھ جیسے تمام روایات میں ہے۔
20101
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَرَّقَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ عَنْ أَبِیہِ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی لَیْلَی امْرَأَۃُ بَشِیرِ ابْنِ الْخَصَاصِیَّۃِ وَکَانَ اسْمُہُ قَبْلَ ذَلِکَ زَحْمٌ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَشِیرًا قَالَتْ حَدَّثَنِی بَشِیرٌ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَأَنْ لاَ یُکَلِّمَ ذَلِکَ الْیَوْمَ أَحَدًا قَالَ فَقَالَ لَہُ : لاَ تَصُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلاَّ فِی أَیَّامٍ کُنْتَ تَصُومَہَا أَوْ فِی شَہْرٍ وَأَنْ لاَ تُکَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِی لأَنْ تُکَلِّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَنْہَی عَنْ مُنْکَرٍ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَسْکُتَ ۔ [صحیح۔ مسند احمد ۲۱۴۴۷]
(٢٠٠٩٥) بشیر بن خصاصیۃ کی بیوی لیلی فرماتی ہیں کہ ان کا پہلے نام زحم تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام بشیر رکھا۔ بیان کرتی ہیں کہ بشیر نے مجھے بیان کیا کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جمعہ کے روزہ کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ اس دن وہ کسی سے کلام بھی نہ کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان ایام کے روزے رکھ، جن کے تو رکھتا ہے یا مہینے میں۔ میری عمر کی قسم کسی سے کلام نہ کرو، لیکن اچھائی کا حکم دینا برائی سے منع کرنا یہ خاموشی سے بہتر ہے۔
20102
Sunan Al Bayhaqi(۲۰۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْقَاسِمِ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ مِنْ أَصْلِہِ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا بَیَانُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ قَالَ فَرَآہَا لاَ تَکَلَّمُ قَالَ مَا لِہَذِہِ لاَ تَکَلَّمُ قَالَ فَقَالُوا حَجَّتْ مُصْمِتَۃً فَقَالَ تَکَلَّمِی فَإِنَّ ہَذَا لاَ یَحِلُّ ہَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَتَکَلَّمَتْ فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ قَالَتْ مِنْ أَیِّ الْمُہَاجِرِینَ قَالَ مِنْ قُرَیْشٍ قَالَتْ مِنْ أَیِّ قُرَیْشٍ قَالَ إِنَّکِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَی ہَذَا الأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِی جَائَ اللَّہُ بِہِ بَعْدَ الْجَاہِلِیَّۃِ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ بَقَاؤُکُمْ عَلَیْہِ مَا اسْتَقَامَتْ أَئِمَّتُکُمْ قَالَتْ وَمَا الأَئِمَّۃُ قَالَ أَمَا کَانَ لِقَوْمِکِ رُئُ وسٌ وَأَشْرَافٌ یَأْمُرُونَہُمْ وَیُطِیعُونَہُمْ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَہُمْ أَمْثَالُ أُولَئِکَ یَکُونُونَ عَلَی النَّاسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۳۴]
(٢٠٠٩٦) حضرت قیس بن ابی حازم سے منقول کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس آئے۔ اس کا نام زینب تھا۔ انھوں نے دیکھا وہ کلام نہیں کرتی۔ پوچھا : تو کلام کیوں نہیں کرتی ؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اس نے حج خاموشی سے کیا ہے، ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : کلام کر ! یہ جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کا کام ہے۔ کہنے لگی : آپ کون ہیں ؟ ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے : میں مہاجرین میں سے ہوں۔ کہنے لگی : کون سے مہاجرین ؟ آپ (رض) نے فرمایا : قریشی۔ کہنے لگی : کون سے قریش ؟ فرمایا : میں ابوبکر ہوں۔ کہنے لگی : جاہلیت کے کون سے نیک اعمال ہیں جن پر اللہ نے ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد باقی رکھا ہے۔ فرمایا : جن پر تمہارے ائمہ کو باقی رکھا ہے۔ کہنے لگی : ائمہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : کیا تمہاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں جو انھیں نیکی کا حکم دیں اور اطاعت کے لیے ابھاریں ؟ کہنے لگی : کیوں نہیں۔ فرمایا : اسیطرح لوگوں کے بھی ہوتے ہیں۔