Sunan Al Bayhaqi
56. باغیوں سے قتال کا بیان
سنن البيهقي
16537
Sunan Al Bayhaqi(ۃ۱۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُہُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِہِمْ وَکَافِرُہُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِہِمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔
(١٦٥٣١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگ قریش کے تابع ہیں، ان کے مسلمان تابع ہیں ان کے مسلمانوں کے اور کفار کفار کے۔ [صحیح ]
16538
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیح مِنْ حَدِیثِ رَوْحٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح]
(١٦٥٣٢) حضرت جابر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔
16539
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَزَالُ ہَذَا الأَمْرُ فِی قُرَیْشٍ مَا کَانَ فِی النَّاسِ اثْنَیْنِ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الدَّارِمِیِّ : مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح]
(١٦٥٣٣) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی کہ جب تک دو آدمی بھی باقی ہیں۔
16540
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِی أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَشِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ یُحَدِّثُ : أَنَّہُ بَلَغَ مُعَاوِیَۃَ وَہْوَ عِنْدَہُ فِی وَفْدٍ مِنْ قُرَیْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَیَکُونُ مَلِکٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ مُعَاوِیَۃُ فَقَامَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالاً مِنْکُمْ یَتَحَدَّثُونَ أَحَادِیثَ لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَلاَ تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أُولَئِکَ جُہَّالُکُمْ فَإِیَّاکُمْ وَالأَمَانِیَّ الَّتِی تُضِلُّ أَہْلَہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ ہَذَا الأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ لاَ یُعَادِیہِمْ فِیہِ أَحَدٌ إِلاَّ کَبَّہُ اللَّہُ عَلَی وَجْہِہِ مَا أَقَامُوا الدِّینَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح]
(١٦٥٣٤) محمد بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ معاویہ (رض) کو یہ بات پہنچی اور وہ قریش کے وفد کے پاس تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ عنقریب بادشاہ قحطان سے ہوگا تو حضرت معاویہ شدید غصہ ہوئے اور کھڑے ہوئے، اللہ کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا : اما بعد ! مجھے پتہ چلا ہے کہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں ہیں اور نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی ہیں۔ اپنے آپ کو ایسی خواہشات سے بچاؤ جو تمہیں گمراہ کردیں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک وہ دین پر رہیں گے اور جو ان سے دشمنی کرے گا اللہ اسے رسوا کردیں گے۔
16541
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّہُ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِینَ تَوَفَّی اللَّہُ نَبِیَّہُ -ﷺ- أَنَّ الأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِہِمْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ وَمَنْ مَعَہُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُہَاجِرُونَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ لأَبِی بَکْرٍ یَا أَبَا بَکْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا ہَؤُلاَئِ مِنَ الأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نُرِیدُہُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْہُمْ لَقِیَنَا مِنْہُمْ رَجُلاَنِ صَالِحَانِ فَذَکَرَا مَا تَمَالأَ عَلَیْہِ الْقَوْمُ فَقَالاَ أَیْنَ تُرِیدُونَ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ فَقُلْنَا نُرِیدُ إِخْوَانَنَا ہَؤُلاَئِ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالاَ لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَقْرَبُوہُمْ اقْضُوا أَمْرَکُمْ فَقُلْتُ وَاللَّہِ لَنَأْتِیَنَّہُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَیْنَاہُمْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ فَقُلْتُ مَنْ ہَذَا قَالُوا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَقُلْتُ مَا لَہُ قَالُوا یُوعَکُ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِیلاً تَشَہَّدَ خَطِیبُہُمْ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ أَمَا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّہِ وَکَتِیبَۃُ الإِسْلاَمِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ رَہْطٌ مِنَّا وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّۃٌ مِنْ قَوْمِکُمْ فَإِذَا ہُمْ یُرِیدُونَ أَنْ یَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ یَحْضُنُونَا مِنَ الأَمْرِ قَالَ فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَۃً أَعْجَبَتْنِی أُرِیدُ أَنْ أُقَدِّمَہَا بَیْنَ یَدَیْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکُنْتُ أُدَارِئُ مِنْہُ بَعْضَ الْحَدِّ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ عَلَی رِسْلِکَ فَکَرِہْتُ أَنْ أُغْضِبَہُ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَ ہُوَ أَحْلَمُ مِنِّی وَأَوْقَرُ وَاللَّہِ مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَۃٍ أَعْجَبَتْنِی فِی تَزْوِیرِی إِلاَّ قَالَ فِی بَدِیہَتِہِ مِثْلَہَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْہَا حَتَّی سَکَتَ قَالَ مَا ذَکَرْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَأَنْتُمْ لَہُ أَہْلٌ وَلَنْ نَعْرِفَ ہَذَا الأَمْرَ إِلاَّ لِہَذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ ہُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِیتُ لَکُمْ أَحَدَ ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ فَبَایِعُوا أَیَّہُمَا شِئْتُمْ وَأَخَذَ بِیَدِی وَبِیَدِ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَہُوَ جَالِسٌ بَیْنَنَا فَلَمْ أَکْرَہْ مِمَّا قَالَ غَیْرَہَا کَانَ وَاللَّہِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی لاَ یُقَرِّبُنِی ذَلِکَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَی قَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اللَّہُمَّ إِلاَّ أَنْ تُسَوِّلَ لِی نَفْسِی عِنْدَ الْمَوْتِ شَیْئًا لاَ أَجِدُہُ الآنَ۔ فَقَالَ قَائِلُ الأَنْصَارِ : أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ وَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ حَتَّی فَرِقْتُ مِنْ أَنْ یَقَعَ اخْتِلاَفٌ فَقُلْتُ : ابْسُطْ یَدَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ فَبَسَطَ یَدَہُ فَبَایَعْتُہُ وَبَایَعَہُ الْمُہَاجِرُونَ ثُمَّ بَایَعَتْہُ الأَنْصَارُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٦٥٣٥) ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار مخالف ہوگئے ہیں اور وہ سارے ثقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں اور ہماری طرف سے علی اور زبیر اور جو اس کے ساتھ تھے، انھوں نے مخالفت کی۔ مہاجرین جمع ہوگئے اور ابوبکر (رض) کے پاس آگئے۔ میں نے کہا : اے ابوبکر ! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلو۔ ہم ان کی طرف چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے اور پوچھا : اے مہاجرین ! کہاں جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا : انصاری بھائیوں کے پاس۔ کہا : ان کے پاس نہ جاؤ، انپے معاملے کا فیصلہ کرلو۔ میں نے کہا : واللہ ضرور جائیں گے۔ ہم گئے سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے تو ایک شخص کو چادر پہنائی جا رہی تھی۔ میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ کہا : سعد بن عبادہ۔ میں نے کہا : اسے کیا ہوا ہے ؟ کہا : سردار بنایا جا رہا ہے۔ ہم کچھ دیر ہی ٹھہرے تھے کہ ان کا ایک خطیب آیا، اللہ کی ثناء بیان کی پھر کہا : اما بعد ہم انصار اللہ اور اسلام کے محافظ ہیں اور تم مہاجروں کی جماعت ہم میں سے ہو تمہاری قوم کا نظام ہم نے چلایا۔ وہ ہمیں رسوا کرنا اور ہم سے امارت لینا چاہتا تھا ۔ جب وہ چپ ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں بات کروں لیکن ابوبکر نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو ابوبکر نے کہا : رک جاؤ۔ حضرت ابوبکر نے بات کی، وہ مجھ سے زیادہ قادر کلام آدمی تھے۔ انھوں نے اپنے بےمثال انداز میں ہر وہ بات کہی جو میں کہنا چاہتا تھا۔ پھر کہا : تم نے جو بھی بھلائیاں بیان کی ہیں وہ تم میں ہیں، لیکن امارت کے حق دار قریشی ہیں؛ کیونکہ یہ اوسط العرب ہیں، نسب اور گھر کے لحاظ سے اور میں یہ دو آدمی پیش کرتا ہوں جس کے ہاتھ پر مرضی بیعت کرلو تو ایک میرا اور دوسرا ابو عبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر اس وقت مجھے قتل کردیا جاتا، یہ مجھ پر آسان تھا اس سے کہ میں ایسی قوم کا امیر بنایا جاؤں کہ جس میں ابوبکر ہو۔ ایک انصاری کہنے لگا : مجھے تمہاری رائے پسند ہے اور میں تمہیں بکھرنے سے بچاتا ہوں۔ اے قریشیو ! ایک امیر تمہارا ہو ایک امیر ہمارا ہو۔ لوگوں میں شور ہوگیا، آوازیں بلند ہوگئیں تو میں نے حضرت ابوبکر سے کہا : ایک ہاتھ کھولیں، انھوں نے ہاتھ کھولا، میں نے ان کی بیعت کرلی۔ پھر مہاجرین نے کی، پھر انصار نے بیعت کرلی۔
16542
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ قَالَ قُرِئَ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ الْہَیْثَمِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَاتَ وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالسُّنْحِ فَقَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہِ مَا کَانَ یَقَعُ فِی نَفْسِی إِلاَّ ذَاکَ وَلَیَبْعَثَنَّہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَیَقْطَعَنَّ أَیْدِیَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَہُمْ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَبَّلَہُ وَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی طِبْتَ حَیًّا وَمَیِّتًا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ یُذِیقُکَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَیْنِ أَبَدًا۔ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : أَیُّہَا الْحَالِفُ عَلَی رِسْلِکَ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ جَلَسَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّہَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ وَقَالَ ( إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ) وَقَالَ ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ) الآیَۃَ کُلَّہَا فَنَشَجَ النَّاسُ یَبْکُونَ وَاجْتَمَعَتِ الأَنْصَارُ إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ فَقَالُوا مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ فَذَہَبَ إِلَیْہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَذَہَبَ عُمَرُ یَتَکَلَّمُ فَأَسْکَتَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : وَاللَّہِ مَا أَرَدْتُ بِذَاکَ إِلاَّ أَنِّی قَدْ ہَیَّأْتُ کَلاَمًا قَدْ أَعْجَبَنِی خَشِیتُ أَنْ لاَ یُبْلِغَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَتَکَلَّمَ وَأَبْلَغَ فَقَالَ فِی کَلاَمِہِ : نَحْنُ الأُمَرَاء ُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاء ُ۔ قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ : لاَ وَاللَّہِ لاَ نَفْعَلُ أَبَدًا مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ وَلَکِنَّا الأُمَرَاء ُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاء ُ ہُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُہُمْ أَحْسَابًا فَبَایِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ۔
فَقَالَ عُمَرُ : بَلْ نُبَایِعُکَ أَنْتَ خَیْرُنَا وَسَیِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَخَذَ عُمَرُ بِیَدِہِ فَبَایَعَہُ وَبَایَعَہُ النَّاسُ فَقَالَ قَائِلٌ : قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ۔ فَقَالَ عُمَرُ : قَتَلَہُ اللَّہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٦٥٣٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر بہت پریشان تھے۔ عمر (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : واللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے۔ جو بھی یہ کہے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوچکے ہیں میں اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا۔ حضرت ابوبکر آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ دیا اور فرمایا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کا زندہ رہنا اور فوت ہونا با برکت ہے اور اللہ کی قسم ! آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ پھر آئے اور فرمایا : اے عمر ! بیٹھ جا۔ جب حضرت ابوبکر نے بات شروع کی تو عمر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر فرمایا : جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی اور فرمایا : { اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ } (الزمر : ٣٠) اور فرمایا : { وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ } (آل عمران : ١٤٤) لوگوں نے رونا شروع کردیا۔ پھر انصاری سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ (رض) کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے : ایک امیر ہمارا اور ایک تمہارا ہوگا تو ابو بکر، عمر اور ابو عبیدہ (رض) ان کے پاس گئے تو عمر (رض) نے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن ابوبکر نے چپ کرا دیا۔ ابوبکر نے بات کی اور بہت بلیغ بات کی، فرمایا : امیر ہمارا ہے وزیر تمہارا۔ حباب بن منذر کہنے لگے : واللہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ابوبکر نے فرمایا : نہیں امراء ہم میں سے اور وزراء تم میں سے؛ کیونکہ قریش اوسط العرب ہیں اس لیے عمر یا ابو عبیدہ میں جس کی چاہو بیعت کرلو۔ حضرت عمر نے فرمایا : آپ ہم میں سب سے بہتر ہمارے سید اور محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور عمر (رض) نے آپ کے ہاتھ کو پکڑا اور آپ کی بیعت کرلی اور باقی تمام لوگوں نے بھی بیعت کرلی۔ ایک شخص کہنے لگا : سعد بن عبادہ کو تم نے قتل کردیا تو عمر نے کہا : اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔
16543
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی خُطْبَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَإِنَّ ہَذَا الأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ مَا أَطَاعُوا اللَّہَ وَاسْتَقَامُوا عَلَی أَمْرِہِ قَدْ بَلَغَکُمْ ذَلِکَ أَوْ سَمِعْتُمُوہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ فَنَحْنُ الأُمَرَاء ُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاء ُ إِخْوَانُنَا فِی الدِّینِ وَأَنْصَارُنَا عَلَیْہِ وَفِی خُطْبَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَہُ نَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ مَنْ سَمِعَہُ مِنْکُمْ وَہُوَ یَقُولُ : الْوُلاَۃُ مِنْ قُرَیْشٍ مَا أَطَاعُوا اللَّہَ وَاسْتَقَامُوا عَلَی أَمْرِہِ ۔ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنَ الأَنْصَارِ بَلَی الآنَ ذَکَرْنَا قَالَ فَإِنَّا لاَ نَطْلُبُ ہَذَا الأَمْرَ إِلاَّ بِہَذَا فَلاَ تَسْتَہْوِیَنَّکُمُ الأَہْوَاء ُ فَلَیْسَ بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ فَأَنَّی تُصْرَفُونَ۔ [ضعیف]
(١٦٥٣٧) محمد بن اسحاق بن یسار حضرت ابوبکر کا خطبہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا : یہ امر قریش کے لیے ہے اور ان کے امر پر انھیں قائم رکھو اور تمہیں یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہنچی ہے یا تم نے سنی ہے، اس میں تنازع نہ کرو، اللہ تمہاری ہوا لے جائے گا اور تم پھسل جاؤ گے۔ صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ہم امراء ہیں تم وزرائ، ہمارے دینی بھائی ہو اور ہمارے مدد گار ہو۔ پھر حضرت عمر (رض) نے خطبہ میں فرمایا : اے انصاریو ! کیا تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ نہیں سنا کہ امیر قریش سے ہی ہوں گے، جب تک وہ دین پر رہیں تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اب ہمیں یاد آگیا۔ ہم اسے طلب نہیں کرتے، امراء تمہارے ہی ہوں گے۔
16544
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ خُطَبَاء ُ الأَنْصَارِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَقُولُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْکُمْ قَرَنَ مَعَہُ رَجُلاً مِنَّا فَنُرَی أَنْ یَلِیَ ہَذَا الأَمْرَ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا مِنْکُمْ وَالآخَرُ مِنَّا قَالَ فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاء ُ الأَنْصَارِ عَلَی ذَلِکَ فَقَامَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَإِنَّ الإِمَامَ یَکُونُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَنَحْنُ أَنْصَارُہُ کَمَا کُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ جَزَاکُمُ اللَّہُ خَیْرًا یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَکُمْ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا لَوْ فَعَلْتُمْ غَیْرَ ذَلِکَ لَمَا صَالَحْنَاکُمْ ثُمَّ أَخَذَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِیَدِ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ ہَذَا صَاحِبُکُمْ فَبَایِعُوہُ ثُمَّ انْطَلَقُوا فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ فَلَمْ یَرَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِہِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَتَنَہُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِینَ۔ فَقَالَ : لاَ تَثْرِیبَ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ فَبَایَعَہُ ثُمَّ لَمْ یَرَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَ عَنْہُ حَتَّی جَاء ُوا بِہِ فَقَالَ : ابْنَ عَمَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَحَوَارِیَّہُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِہِ : لاَ تَثْرِیبَ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ فَبَایَعَاہُ۔ [صحیح]
(١٦٥٣٨) ابو سعید الخدری (رض) سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا : اے مہاجرین کی جماعت ! جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا اب امیر ایک ہم میں سے ایک تم میں سے ہوگا۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو زید بن ثابت کھڑے ہوگئے اور فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم سب جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کیا کرتے تھے اس کی بھی مدد کریں گے۔ ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اے انصاریو ! تمہارے خطیبوں کو ثابت قدم رکھے اگر تم دوسرا معاملہ ہمارے ساتھ کرو تو ہم صلح کرلیں اور زید بن ثابت کا ہاتھ پکڑا اور کہا : اس کی بیعت کرلو، پھر ابوبکر منبر پر آ کر بیٹھ گئے، دیکھا قوم میں علی (رض) نہیں ہیں۔ پوچھا : وہ کہاں ہیں ؟ انھیں بلایا گیا تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ہیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی باگ دوڑ تمہیں تھماؤں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں اور علی نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر زبیر بن عوام کو دیکھا ، وہ نظر نہ آئے۔ پوچھا تو ان کو بلایا گیا اور انھوں نے بھی حضرت علی والی بات کہی اور دونوں نے ابوبکر کی بیعت کرلی۔
16545
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْحَافِظُ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو ہِشَامٍ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ یَقُولُ جَائَ نِی مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَسَأَلَنِی عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَکَتَبْتُہُ لَہُ فِی رُقْعَۃٍ وَقَرَأْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ ہَذَا حَدِیثٌ یَسْوَی بَدَنَۃً فَقُلْتُ یَسْوَی بَدَنَۃً بَلْ ہُوَ یَسْوَی بَدْرَۃً۔
(١٦٥٣٩) سابقہ روایت تقدم قبلہ
16546
Sunan Al Bayhaqi(۱۶۵۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْفَیْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی صَادِقٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ نَاجِذٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ ۔ [حسن لغیرہ]
(١٦٥٤٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ائمہ قریش سے ہی ہوں گے۔