hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

13. صدقات کا بیان

سنن البيهقي

7744
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِیرٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ جَرِیرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جُلُوسًا فِی صَدْرِ النَّہَارِ فَجَائَ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ عَلَیْہِمُ الْعَبَائُ أَوْ قَالَ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ ، فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَتَغَیَّرُ لِمَا یَرَی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ فَخَطَبَ ، ثُمَّ قَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، ثُمَّ قَالَ {یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} الآیَۃَ۔ تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ ثَوْبِہِ مِنْ صَاعِ بُرِّہِ مِنْ صَاعِ تَمْرِہِ ۔ حَتَّی قَالَ : وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ۔ قَالَ : فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ قَدْ کَادَتْ کَفُّہُ أَنْ تَعْجِزَ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ عَنْہَا فَدَفَعَہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِی الصَّدَقَاتِ ، فَرَأَیْتُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ وَجَعَلَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَتَہَلَّلُ کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ وَقَالَ : ((مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً کَانَ لَہُ أَجْرُہَا ، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئٌ ، وَمَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ الطَّیَالِسِیِّ وَحَدِیثُ النَّضْرِ بِمَعْنَاہُ وَلَمْ یَذْکُرِ النَّضْرُ عَلَیْہِمُ الْعَبَائُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ : مُجْتَابِی النِّمَارِ أَوِ الْعَبَائِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٧٧٤١) جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس شروع دن میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک قوم آئی جو ننگے جسم اور ننگے پاؤں تھے اور وہ چادریں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ۔ اکثر ان کے مضر میں سے تھے یا سب ہی مضر تھے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھا کہ وہ ان کے فاقے کو دیکھنے کی وجہ سی تبدیل ہو رہا تھا آپ داخل ہوئے پھر نکلے۔ پھر بلال (رض) کو اقامت کہنے کا حکم دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا { یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ } إِلَی آخِرِ یہ آیت آخر تک تلاوت کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی { یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ } کچھ آیت پڑھی “ کسی نے دینار صدقہ کیا کسی نے درہم صدقہ کیا، کسی نے کپڑے ، کسی نے گندم کا صاع اور کسی نے کھجور کا صاع، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ کوئی آدمی کھجور دے۔ راوی کہتے ہیں : انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی کے ساتھ آیاقریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آجاتا بلکہ عاجز آچکا تھا، وہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی ، پھر لوگوں نے صدقات میں اس کی اتباع کی میں نے دیکھا کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر لگ چکے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک سونے کی طرح چمک اٹھا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اسلام میں اچھی روایت قائم کی اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور ان کا بھی جو اس کے بعدویسا عمل کریں گے اس کے بغیر کے ان کے عمل میں کچھ کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں بری روایت قائم کی اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا بھی بغیر ان کے گناہ میں کمی کیے۔
نضر کی حدیث بھی اسی معنیٰ میں ہے مگر نضر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان پر عباء تھی۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں محمد بن مثنیٰ کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ محتابی نمار تھے یا پھر محتابی عباء اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔
7745
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَاہُ قَوْمٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ ، وَلَیْسَ عَلَیْہِمْ أُزُرٌ وَلاَ شَیْء ٌ غَیْرَہَا عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ ، فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی بِہِمْ مِنَ الْجَہْدِ وَالْعُرْیِ وَالْجُوعِ تَغَیَّرَ وَجْہُہُ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَیْتَہُ ، ثُمَّ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَہُ مِنْبَرًا صَغِیرًا فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ فِی کِتَابِہِ {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ} إِلَی قَوْلِہِ {رَقِیبًا}{اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} إِلَی قَوْلِہِ {الْفَائِزُونَ} تَصَدَّقُوا قَبْلَ أَنْ لاَ تَصَدَّقُوا ، تَصَدَّقُوا قَبْلَ أَنْ یُحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الصَّدَقَۃِ۔ تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ بُرِّہِ مِنْ شَعِیرِہِ ، وَلاَ یَحْقِرَنَّ أَحَدُکُمْ شَیْئًا مِنَ الصَّدَقَۃِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ))۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ فِی کَفِّہِ فَنَاوَلَہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی مِنْبَرِہِ فَقَبَضَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعْرَفُ السُّرُورُ فِی وَجْہِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِہَا کَانَ لَہُ أَجْرُہَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِہَا لاَ یَنْقُصُ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئٌ ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِہَا کَانَ لَہُ وِزْرُہَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِہَا لاَ یَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ))۔ فَقَامَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا فَمِنْ ذِی دِینَارٍ ، وَمِنْ ذِی دِرْہَمٍ ، وَمِنْ ذِی ، وَمِنْ ذِی قَالَ فَاجْتَمَعَ فَقَسَمَہُ بَیْنَہُمْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٧٤٢) حضرت منذر بن جریر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قوم آئی جو چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر چادریں نہیں تھیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ مضر قبلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تنگدستی کو اور بھوک و افلاس کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ پھر مسجد کی طرف چلے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے اور منبر بھی چھوٹا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حمد و صلوۃ کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے { یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ } { رَقِیبًا } تک تلاوت کیا اور { اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ } کو { الْفَائِزُونَ } تک پڑھا اور فرمایا : اس دن سے پہلے پہلے صدقہ کرو ، جب تم صدقہ نہ کر پاؤ گے۔ صدقہ و خیرات کرو اس سے پہلے کہ وہ تمہارے اور صدقے کے درمیان حائل ہوجائے پھر کسی آدمی نے دینار کا صدقہ کیا تو کسی نے درہم کا کسی نے گندم کا کیا تو کسی نے جو کا صدقہ کیا اور کوئی کسی کے صدقے کو حقیر نہیں جانتا تھا اگرچہ کسی نے آدھی کھجور کا صدقہ کیا ۔ ایک انصاری ایک تھیلی لے کر کھڑا ہوا جو اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑا دی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پکڑا ہوا تھا اور خوشی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کسی نے اچھی روایت قائم کی اور اس پر عمل بھی کیا گیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان کے اجر کے برابر بھی جتنوں نے وہ عمل کیا ان کے اجر میں کمی کیے بغیر اور جس کسی نے بری روایت ڈالی اور اس کے مطابق عمل کیا گیا تو اس کے لیے اس کا گناہ ہوگا اور ان کا بھی جنہوں نے وہ گناہ کیا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ پھر لوگ کھڑے ہوگئے اور بکھر گئے سو جو کوئی درہم و دینار یا جس چیز کا مالک تھا انھوں نے جمع کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں تقسیم کردیا۔
7746
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۳) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ قَرَأْتُ عَلَیْہِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : اتَّقُوا اللَّہَ وَاعْمَلُوا خَیْرًا فَإِنِّی سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَعْقِلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٧٤٣) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے۔
7747
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- : ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ حَاجِبٌ وَلاَ تَرْجُمَانٌ فَیَنْظُرُ أَیْمَنَ مِنْہُ فَلاَ یَرَی شَیْئًا إِلاَّ شَیْئًا قَدَّمَہُ ، وَیَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْہُ فَلاَ یَرَی إِلاَّ شَیْئًا قَدَّمَہُ ، وَیَنْظُرُ أَمَامَہُ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٧٤٤) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کلام کریں گے اور درمیان میں کوئی پردہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ سو وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے کوئی چیز دکھائی نہیں دے گی مگر وہی جو اس کے آگے ہوگی ۔ پھر پیچھے دیکھے گا تو اس کے سوا کچھ نہیں پائے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا، لہٰذا تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے ۔
7748
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لأَبِی الْوَلِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِی : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْہَا وَأَشَاحَ بِوَجْہِہِ وَذَکَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْہَا وَأَشَاحَ بِوَجْہِہِ قَالَ شُعْبَۃُ : أَمَّا مَرَّتَیْنِ فَلاَ شَکَّ ، ثُمَّ قَالَ : ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٧٤٥) عدی بن حاتم طائی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگ کا تذکرہ کیا اور اس سے پناہ مانگی اور اپنے چہرے کو پھیرا۔ پھر آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے پناہ مانگی اور چہرے کو پھیرا۔ پھر آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے پناہ مانگی اور چہرے کو پھیرلیا شعبہ کہتے ہیں : شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ کیا۔ پھر فرمایا : آگ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کے چھلکے سے۔ اگر تم یہ بھی نہیں پاتے تو اچھی بات کے ذریعے۔
7749
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلاَ یَصْعَدُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ طَیِّبٌ فَإِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُہَا بِیَمِینِہِ فَیُرَبِّیہَا لِصَاحِبِہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ أُحُدٍ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ دِینَارٍ فَذَکَرَہُ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٧٤٦) حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کھجور کے برابر پاکیزہ کمائی سے صدقہ کیا اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ چیز ہی چڑھتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور اس کے صاحب کے لیے اسے پروان چڑھاتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پروان چڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
7750
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : ((یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [أخرجہ البخاری]
(٧٧٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : اے مسلمان عورتو ! کوئی پڑوسن دوسری کو حقیر نہ سمجھے ، اگرچہ بکری کی کھری ہی کیوں نہ ہو۔
7751
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ : کُنَّا نَتَحَامَلُ فَیَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَۃِ الْعَظِیمَۃِ فَیُقَالُ : ہَذَا مُرَائِی وَیَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ فَیُقَالُ : إِنَّ اللَّہَ لَغَنِیٌّ عَنْ ہَذَا فَنَزَلَتْ {الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ} إِلَی {عَذَابٌ أَلِیمٌ} لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ ، وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْبَدْرِیِّ قَالَ : کُنَّا نَتَحَامَلُ فَیَجِیئُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَۃِ الْعَظِیمَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٧٤٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم بوجھ اٹھایا کر کے تھے ۔ پھر ہم میں سے کوئی بڑا صدقہ کیا کرتا تو اسے کہا جاتا یہ دکھاوے کی غرض سے کرتا ہے۔ اگر کوئی آدھا صاع صدقہ کرتا تو اسے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ تیرے صدقے سے بےنیاز ہے۔ تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : { الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ } سے { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔
7752
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْحَارِثِیِّ عَنْ جَدَّتِہِ حَوَّائَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ))۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]
(٧٧٤٩) محمد بن بجید انصاری (رض) اپنی دادی حواء سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کو عطا کرو اگرچہ جلی ہوئی کھری ہو۔
7753
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۵۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحَدِ بَنِی حَارِثَۃَ حَدَّثَتْہُ جَدَّتُہُ وَہِیَ أُمُّ بُجَیْدٍ وَکَانَتْ مِمَّنْ بَایَعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ إِنَّ الْمِسْکِینَ لَیَقُومُ عَلَی بَابِی فَمَا أَجِدُ لَہُ شَیْئًا أُعْطِیہِ إِیَّاہُ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنْ لَمْ تَجِدِی شَیْئًا تُعْطِیہِ إِیَّاہُ إِلاَّ ظِلْفًا مُحَرَّقًا فَادْفَعِیہِ إِلَیْہِ))۔ وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَیْدٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٧٥٠) عبد الرحمن بن حارثہ اپنی دادی امّ بجید (رض) سے نقل فرماتے ہیں اور یہ ان میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ۔ فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے مگر میں اسے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں پاتی تو اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو کچھ بھی نہیں پاتی تو اسے جلی ہوئی کھری دے کر واپس لوٹا دے۔