Sunan Al Bayhaqi
21. صلح کا بیان
سنن البيهقي
11349
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ [حسن۔ احمد ۲ /۳۶۶۔ ۸۷۷]
(١١٣٤٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلح کرانا مسلمانوں کے درمیان درست ہے۔
11350
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہُ عَلَیْہِ فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتَّی سَمِعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ حَتَّی کَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِہِ فَقَالَ : یَا کَعْبُ ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ ہَذَا ۔ وَأَشَارَ إِلَیْہِ أَیِ الشَّطْرَ قَالَ : نَعَمْ فَقَضَاہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔۴۵۷]
(١١٣٤٥) حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ بن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی آوزیں بلند ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حجرے سے سن لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پردہ ہٹا کر باہر آئے اور فرمایا : اے کعب ! اپنے قرض میں سے اتنا کم کردو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف معاف کرنے کا اشارہ کیا۔ کعب نے کہا : جی اے اللہ کے رسول ! پھر اس نے بقیہ ادا کردیا۔
11351
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتَّی سَمِعَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہْوَ فِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی کَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِہِ وَنَادَی کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ : یَا کَعْبُ ۔ قَالَ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَشَارَ إِلَیْہِ بِیَدِہِ : أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَیْنِکَ۔ قَالَ کَعْبٌ : قَدْ فَعَلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قُمْ فَاقْضِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ ہُوَ ابْنُ صَالِحٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔[صحیح]
(١١٣٤٦) حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد کعب بن مالک نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ابن ابی حدرد سے مسجد کے اندر تقاضا کیا، دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرے سے سن لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ ہٹایا اور فرمایا : اے کعب ! انھوں نے کہا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کر دو ۔ حضرت کعب نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے معاف کردیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ابی حدرد سے کہا : اٹھ اس کا قرض اداکر۔
11352
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ وَحَدَّثَنِی ابْنُ مَالِکٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ أَبَاہُ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَاشْتَدَّ الْغُرَمَائُ فِی حُقُوقِہِمْ قَالَ جَابِرٌ : فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَکَلَّمْتُہُ فَسَأَلَہُمْ أَنْ یَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِی وَیُحَلِّلُوا أَبِی فَأَبَوْا فَلَمْ یُعْطِہِمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَائِطِی وَلَمْ یَکْسِرْہُ لَہُمْ وَلَکِنْ قَالَ : سَأَغْدُو عَلَیْکَ ۔ فَغَدَا عَلَیْنَا حِینَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِی النَّخْلِ وَدَعَا فِی ثَمَرِہَا بِالْبَرَکَۃِ قَالَ : فَجَدَدْتُہَا فَقَضَیْتُہُمْ حُقُوقَہُمْ وَبَقِیَتْ لَنَا مِنْ ثَمَرِہَا بَقِیَّۃٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ بِذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِعُمَرَ وَہُوَ جَالِسٌ : اسْمَعْ یَا عُمَرُ مَا یَقُولُ ۔ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَلاَّ یَکُونَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّکَ لرَسُولُہُ فَوَاللَّہِ إِنَّکَ لَرَسُولُ اللَّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۶۰۱]
(١١٣٤٧) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد احد کی لڑائی میں شہید ہوگئے اور ان پر قرض تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے قرض میں بڑی شدت اختیار کی۔ جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ سے اس بارے میں بات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (قرض خواہوں ) سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجوریں لے لیں اور بقیہ میرے والد کو معاف کردیں۔ انھوں نے اس سے انکار کر دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ باغ دیا اور نہ پھل تڑوائے، پھر فرمایا : کل صبح میں تیرے باغ میں آؤں گا۔ صبح کے وقت آپ آئے اور باغ میں چلتے پھرتے رہے اور برکت کی دعا کرتے رہے۔ پھر میں نے پھل توڑا اور قرض خواہوں کا قرض ادا کیا اور میرے پاس پھل بچ بھی گیا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا۔ وہاں حضرت عمر (رض) بھی موجود تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا : عمر سن رہے ہو جو جابر کہہ رہا ہے، حضرت عمر (رض) نے جواب دیا : ہم تو پہلے بھی جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ کی قسم ! آپ اللہ کے رسول ہیں۔
11353
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ زَادَ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَقَالَ لأَبِی لُبَابَۃَ فِی یَتِیمٍ لَہُ خَاصَمَہُ فِی نَخْلَۃٍ فَقُضِی بِہَا لأَبِی لُبَابَۃَ فَبَکَی الْغُلاَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ : أَعْطِہِ نَخْلَتَکَ ۔ فَقَالَ : لاَ فَقَالَ : أَعْطِہِ إِیَّاہَا وَلَکَ عَذْقٌ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ : لاَ فَسَمِعَ بِذَلِکَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ فَقَالَ لأَبِی لُبَابَۃَ : أَتَبِیعُ عِذْقَکَ ذَلِکَ بِحَدِیقَتِی ہَذِہِ فَقَالَ : نَعَمْ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ النَّخْلَۃُ الَّتِی سَأَلْتَ لِلْیَتِیمِ إِنْ أَعْطَیْتُہُ أَلِی بِہَا عِذْقٌ فِی الْجَنَّۃِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ ثُمَّ قُتِلَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ شَہِیدًا یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : رُبَّ عِذْقٍ مُذَلَّلٍ لاِبْنِ الدَّحْدَاحَۃِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ دُونَ قِصَّۃِ أَبِی لُبَابَۃَ وَکَأَنَّ قِصَّۃَ أَبِی لُبَابَۃَ ذَکَرَہَا الزُّہْرِیُّ مُرْسَلاً۔
فَقَدْ رَوَاہَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [ضعیف]
(١١٣٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے ابو لبابہ کے بارے میں بیان کیا کہ ابو لبابہ کا ایک یتیم کے ساتھ ایک باغ کے بارے میں جھگڑا چل رہا تھا۔ اس باغ کا فیصلہ ابو لبابہ کے حق میں ہوگیا تو وہ غلام (یتیم ) رونے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ سے کہا : تم اپنا کھجوروں کا باغ اس یتیم کو دے دو ۔ ابو لبابہ نے انکار کردیا۔ آپنی فرمایا : تو اسے دے دے، تیرے لیے جنت میں باغوں کے خوشے ہوں گے۔ ابو لبابہ نے پھر انکار کردیا۔ ابن دحداحہ (رض) نے یہ سارا قصہ سنا، پھر ابو لبابہ سے کہا : کیا تو اپنا باغ میرے اس باغ کے بدلے میں مجھے فروخت کرے گا ؟ ابو لبابہ نے کہا : ہاں۔ ابن دحداحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : آپ جو باغ یتیم کو دینا چاہتے تھے۔ اگر میں دے دوں تو کیا میرے لیے بھی جنت میں خوشے ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر ابن دحداحہ احد کے دن شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتنے خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔
11354
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلاَبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَ لِرَجُلٍ عَلَی رَجُلٍ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَۃِ دِرْہَمٍ فَأَبَوْا أَنْ یُعْطُوہُ حَتَّی حَطَّ الْخَمْسَمِائَۃِ فَکَتَبَ عَلَیْہِ الْکِتَابَ وَأَبْرَأَہُ ثُمَّ أَخَذَہُ بِالْخَمْسِمَائَۃِ فَاخْتَصَمُوا إِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ لِلشُّہُودِ : ہَلْ وَضْعَ الْخَمْسَمِائَۃِ فِی کَفِّہِ فَقَالُوا : لاَ فَأَمَرَہُ فَرُدَّ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَنَحْنُ أَیْضًا لاَ نُجِیزُ الْحَطَّ إِذَا کَانَ بِشَرْطٍ۔ [ضعیف]
(١١٣٤٩) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص کے دوسرے پر ایک ہزار پانچ سو درہم تھے۔ انھوں نے وہ دینے سے انکار کردیا حتیٰ کے وہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئے۔ پھر اس نے ایک خط لکھا اور اس آدمی کو بری کردیا۔ پھر دوبارہ اس سے پانچ سو درہم کا مطالبہ کیا تو وہ دونوں اپنا معاملہ قاضی شریح کے پاس لے کر گئے۔ قاضی نے گواہوں سے کہا : کیا پانچ سو درہم اس آدمی کے پاس ہیں ؟ انھوں نے جواب ہاں میں دیا تو قاضی صاحب نے انھیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں : اور ہم کمی کو جائز نہیں مانتے جب کوئی شرط ہو۔
11355
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ [حسن]
(١١٣٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کے درمیان صلح جائز ہے۔
11356
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ أَوْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ شَکَّ أَبُو دَاوُدَ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ زَادَ : إِلاَّ صُلْحًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا۔ [حسن]
(١١٣٥١) دوسری روایت میں اضافہ ہے مگر ایسی صلح جو حلال کو حرام کر دے وہ ناجائز ہے۔
11357
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ زَبَالَۃَ حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلاَلاً ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ عَنْ کَثِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَالاِعْتِمَادِ عَلَی رِوَایَتِہِ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَۃَ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ وَرِوَایَۃُ کَثِیرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِیِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَی مَا قَبْلَہَا قَوِیَتَا۔ [حسن لغیرہ]
(١١٣٥٢) کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کے درمیان صلح جائز ہے مگر جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔
11358
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۳۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا فَقَالَ : ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی مُوسَی فَذَکَرَہُ وَفِیہِ : وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ النَّاسِ إِلاَّ صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلاَلاً۔ [صحیح]
(١١٣٥٣) ادریس الاودی فرماتے ہیں سعید بن بردہ نے ایک کتاب نکالی اور کہا : یہ وہ کتاب ہے جو عمر (رض) نے ابو موسیٰ کی طرف بھیجی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ لوگوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں۔