Sunan Al Bayhaqi
15. کتاب الحج
سنن البيهقي
8611
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} مَنْ إِنْ حَجَّ لَمْ یَرَہُ بِرًّا ، وَمَنْ تَرَکَہُ لَمْ یَرَہُ إِثْمًا۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ مِثْلَ مَا قَالَ عِکْرِمَۃُ۔ [صحیح۔ تفسیر طبری: ۳/ ۳۵۷]
(٨٦٠٨) مجاہد کہتے ہیں کہ { وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ } سے مراد وہ شخص ہے کہ جو اگر حج کرے تو اسے نیکی نہ سمجھے اور جو اس کو ترک کرے اور گناہ نہ سمجھے۔
8612
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلاَمِ دِینًا} قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ قَالَ أَہْلُ الْمِلَلِ کُلُّہُمْ : نَحْنُ مُسْلِمُونَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ {وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ} قَالَ یَعْنِی عَلَی النَّاسِ فَحَجَّ الْمُسْلِمُونَ وَتَرَکَہُ الْمُشْرِکُونَ۔ [ضعیف]
(٨٦٠٩) مجاہد فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی { وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلاَمِ دِینًا } تو تمام اہل ادیان نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت { وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ } ” لوگوں پر اللہ کی رضا کی خاطر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ “ نازل فرمائی تو مسلمانوں نے حج کیا اور مشرکین نے نہ کیا۔
8613
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بُرَیْدَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ ، وَلاَ نَعْرِفُہُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَسْنَدَ رُکْبَتَہُ إِلَی رُکْبَتہُ ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِی عَنِ الإِسْلاَمِ مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وتُقِیمَ الصَّلاَۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃِ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِیلَ))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : صَدَقْتَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ-ﷺ- : ((یَا عُمَرُ أَتَدْرِی مَنِ السَّائِلُ؟))۔ قُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ : ((ذَاکَ جِبْرِیلَ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِینَکُمْ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ کَہْمَسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۸، نسائی۴۹۹۰]
(٨٦١٠) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انتہائی سیاہ بالوں اور بہت ہی سفید کپڑوں والا شخص نمودار ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار تھے اور نہ ہی ہم اس کو جانتے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھا ، پھر کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے کہ اسلام کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے تو اس آدمی نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں (اس ساری حدیث کو ذکر کیا) ۔ پھر کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا تو جانتا ہے، یہ سائل کون تھا ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔
8614
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی کِتَابِ مَعْرِفَۃِ الْحَدِیثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کُنَّا نُہِینَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ شَیْئٍ وَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَأْتِیَہُ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ۔ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُکَ فَزَعَمَ أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّہَ أَرْسَلَکَ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ نَصَبَ ہَذِہِ الْجِبَالَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ جَعَلَ فِیہَا ہَذِہِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَالأَرْضَ ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ ، وَجَعَلَ فِیہَا ہَذِہِ الْمَنَافِعَ آللَّہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَلَیْلَتِنَا قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرٍ فِی سَنَتِنَا قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً۔ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِیدُ عَلَیْہِنَّ وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُنَّ۔ فَلَمَّا مَضَی قَالَ : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ہَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَرَوَاہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲]
(٨٦١١) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی بھی چیز کا سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی شخص آئے اور وہ سوال کرے اور ہم سنیں، تو ایک شخص انھیں میں سے آیا اور اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد آیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سمجھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، اس بدوی نے کہا : آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ اس نے پوچھا : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے، اس نے کہا کہ یہ پہاڑ کس نے نصب کیے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ اس نے کہا : تو ان میں یہ فائدے کس نے رکھے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ تو اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں فوائد رکھے، کیا اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے ذمہ ہمارے مالوں کا صدقہ بھی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے۔ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج بیت اللہ فرض ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! تو وہ کہنے لگا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ان میں نہ تو کمی کروں گا، نہ اضافہ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں جائے گا۔
8615
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیِ بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیِ عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتَّی یَبْلُغَ الْحِنْثَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّی یُفِیقَ))۔
وَرُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِیِ ظَبْیَانَ وَأَبِی الضُّحَی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح لغیرہ]
(٨٦١٢) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : 1 سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہ ہو۔ 2 بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہو۔ 3 دیوانہ، جب تک اس کو افاقہ نہ ہو۔
8616
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً أُخْرَی ، وَأَیُّمَا أَعْرَابِیٍّ حَجَّ ، ثُمَّ ہَاجَرَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرَی ، وَأَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ ، ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرَی))۔
[صحیح۔ ابن خزیمہ ۳۰۵۰۔ حاکم ۱/ ۶۵۵]
(٨٦١٣) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بچہ بھی حج کرے اور پھر وہ سن بلوغت کو پہنچ جائے تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، جو کوئی دیہاتی حج کرے پھر ہجرت کرلے تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے، جو بھی غلام حج کرلے، پھر وہ آزاد ہوجائے تو اس پر پھر حج کرنا ضروری ہے۔
8617
Sunan Al Bayhaqi۸۶۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا حَجَّ الأَعْرَابِیُّ ، ثُمَّ ہَاجَرَ فَإِنَّ عَلَیْہِ حَجَّۃَ الإِسْلاَمِ ، وَکَذَلِکَ الْعَبْدُ وَالصَّبِیُّ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مَوْقُوفًا ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۴۸۷۵]
((٨٦١٤) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب دیہاتی حج کرلے پھر ہجرت کرے تو اس پر اسلام کا حج فرض ہے اور اسی طرح غلام اور بچے کا معاملہ ہے۔
8618
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَیْکُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا))۔ فَقَالَ رَجُلٌ : أَکُلَّ عَامٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَسَکَتَ حَتَّی قَالَہَا ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ))۔ ثُمَّ قَالَ : ((ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ ، وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَدَعُوہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۳۷]
(٨٦١٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ” ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو ایک شخص کہنے لگا : ” ہر سال ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) فرض ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھ سکتے۔ “ پھر فرمایا : ” جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھا کرو۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اپنے زیادہ سوالوں اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اس کو سرانجام دو اور جب میں کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔
8619
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۶) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : أَہْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْحَجِّ خَالِصًا۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ : مُتْعَتُنَا ہَذِہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لِعَامِنَا ہَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۹۳۳، مسلم ۱۲۱۳]
(٨٦١٦) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام نے حج افراد کا تلبیہ کہا۔ انھوں نے یہ ساری ہدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ سراقہ بن مالک (رض) کہنے لگے کہ ہمارا یہ حج تمتع اے اللہ کے رسول ! اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
8620
Sunan Al Bayhaqi(۸۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ سَمِعْتُ ابْنَ شِہَابٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ))۔ فَقَامَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ : أَفِی کُلِّ عَامٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((لَوْ قُلْتُہَا لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِہَا ، وَلَمْ تَسْتَطِیعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِہَا۔ الْحَجُّ مَرَّۃٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ))۔
تَابَعَہُ سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سِنَانٍ وَقَالَ عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سِنَانٍ وَہُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِیُّ۔ وَفِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : مُتْعَتُنَا ہَذِہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لِعَامِنَا ہَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ))۔ [صحیح۔ سنن ابی داود ۱۷۲۱۔ نسائی ۲۶۲۰]
(٨٦١٧) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے تو اقرع بن حابس (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہر سال (حج فرض ہے) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر میں کہہ دوں تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہوجائے گا اور اگر واجب ہوجائے تو تم کر نہ سکو گے اور نہ ہی اس کی استطاعت تم میں ہوگی، حج ایک مرتبہ (فرض) ہے جو زائد کرلے تو وہ نفلی ہے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ کے لیے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ کے لیے۔