Sunan Al Bayhaqi
41. مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
سنن البيهقي
12711
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً َخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ کَانَ قَبْلَنَا ذَلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ رَأَی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَہَا لَنَا ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۱۲۴]
(١٢٧٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمتیں حلال نہ تھیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ان کو ہمارے لیے پاکیزہ بنادیا۔
12712
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ َخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : غَزَا نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ لاَ یَتْبَعْنِی رَجُلٌ قَدْ کَانَ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَۃٍ وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا وَلَمَّا یَبْنِ وَلاَ آخَرُ قَدْ بَنَی بِنَائً لَہُ وَلَمَّا یَرْفَعْ سُقُفَہَا وَلاَ آخَرُ قَدِ اشْتَرَی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَہُوَ یَنْتَظِرُ وِلاَدَہَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْیَۃِ حِینَ صَلَّی الْعَصْرَ أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَۃٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّہُمَّ احْبِسْہَا عَلَیَّ شَیْئًا فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ حَتَّی فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ قَالَ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْکُلَہُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَہُ فَقَالَ فِیکُمْ غُلُولٌ فَلْیُبَایِعْنِی مِنْ کُلِّ قَبِیلَۃٍ رَجُلٌ فَبَایَعُوہُ فَلَصِقَتْ یَدُ رَجُلٍ بِیَدِہِ فَقَالَ فِیکُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَایِعْنِی قَبِیلَتُکَ فَبَایَعَتْ قَبِیلَتُہُ فَلَصِقَ یَدُ رَجُلَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٍ فَقَالَ : فِیکُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ قَالَ فَأَخْرَجُوا لَہُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ فَوَضَعُوہُ فِی الْمَالِ وَہُوَ بِالصَّعِیدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَکَلَتْ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ رَأَی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَہَا لَنَا ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
(١٢٧٠٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی قوم سے کہا : وہ آدمی میرے ساتھ نہ جائے جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور وہ اپنی بیوی سے رات گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی تک اس نے رات نہ گزاری ہو اور وہ آدمی جس نے نیا گھر بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت چاٹ نہ کی ہو اور نہ وہ آدمی جس نے حاملہ بکری یا اونٹنی خریدی ہو اور اس کے بچہ جننے کا انتظار کررہا ہو۔ پس اس نے جہاد کیا بستی کے قریب ہوگئے یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا یا اس کے قریب تو اس نبی نے سورج سے کہا : تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں، اے اللہ ! اسے روک دے، پس وہ روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اسے فتح دی، پس انھوں نے مال غنیمت جمع کیا، آگ اسے کھانے کے لیے آئی، لیکن کھانے سے انکار کردیا، اس نبی نے کہا : تم میں کوئی چوری کرنے والا ہے، پس ہر قبیلہ کا ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، انھوں نے بیعت کی ایک آدمی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ نبی نے کہا : تمہارے قبیلے میں چور ہے، پس تمہارے قبیلے کا ہر فرد بیعت کرے، اس قبیلے نے بیعت کی دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ اس سے چمٹ گیا۔ اس نے کہا : تم نے چوری کی ہے، پس انھوں نے نکالا گائے کے سر کی مانند سونے کی چیز۔ اسے مال میں شامل کردیا۔ آگ آئی اس نے کھایا، پس ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ [صحیح ]
12713
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّئُ وسِ قَبْلَکُمْ کَانَتْ تُجْمَعُ فَتَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَائِ فَتَأْکُلُہَا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِی الْغَنَائِمِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللَّہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا}۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ مُحَاضِرٍ : وَإِنَّہُ لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ أَغَارُوا فِیہَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَہُمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ وَزَادَ فِی آخِرِہِ: فَأُحِلَّتْ لَہُمْ۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح]
(١٢٧٠٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غنیمتیں تم سے پہلے لمبے لمبے سروں والی قوم کے لیے حلال نہ تھیں، مال غنیمت جمع کیا جاتا تھا، آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی، وہ اسے کھا لیتی تھی، جب غزوہ بدر ہوا۔ لوگوں نے غنیمت میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے نازل کردیا { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللَّہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا }
12714
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی َخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی کَانَ کُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِی الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَیْنَ یَدَیْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ ہُشَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ بخاری ۳۳۵۔ مسلم ۵۲۱]
(١٢٧٠٩) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ہر نبی ایک قوم خاص کی طرف بھیجا جاتا تھا مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں ہیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں اور میرے لیے زمین پاکیزہ اور مسجد بنادی گئی ہے آدمی جہاں نماز کا وقت پالے وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ایک مہینہ کی مسافت سے اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔
12715
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَلاَثِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ : نَزَلَتْ فِیَّ أَرْبَعُ آیَاتٍ أَصَبْتُ سَیْفًا یَوْمَ بَدْرٍ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ نَفِّلْنِیہِ فَقَالَ : ضَعْہُ مِنْ حَیْثُ أَخَذْتَہُ ۔ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَفِّلْنِیہِ فَقَالَ : ضَعْہُ مِنْ حَیْثُ أَخَذْتَہُ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَفِّلْنِیہِ وَاجْعَلْنِی کَمَنْ لاَ غَنَائَ لَہُ قَالَ : ضَعْہُ مِنْ حَیْثُ أَخَذْتَہُ ۔قَالَ َنَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ أَأُجْعَلُ کَمَنْ لاَ غَنَائَ لَہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۴۸]
(١٢٧١٠) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں : میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے بدر کے دن تلوار ملی، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ مجھے دے دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو ، میں نے پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے دے دیں، کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہاں رکھ جہاں سے لی ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ }
12716
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ وَعُثْمَانَ ابْنَا أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَوْمَ بَدْرٍ بِسَیْفٍ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ قَدْ شَفَی صَدْرِی الْیَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَہَبْ لِی ہَذَا السَّیْفَ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا السَّیْفَ لَیْسَ لِی وَلاَ لَکَ ۔ فَذَہَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ یُعْطَاہُ الْیَوْمَ مَنْ لَمْ یُبْلِ بَلاَئِی فَبَیْنَا أَنَا إِذَ جَائَ نِی الرَّسُولُ فَقَالَ أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّہُ قَدْ نَزَلَ فِیَّ شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِی فَجِئْتُ فَقَالَ لِی النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّکَ سَأَلْتَنِی ہَذَا السَّیْفَ وَلَیْسَ ہُوَ لِی وَلاَ لَکَ فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ جَعَلَہُ لِی فَہُوَ لَکَ ۔ ثُمَّ قَرَأَ {یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ [صحیح]
(١٢٧١١) مصعب بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بدر کے دن ایک تلوار لے کر آیا میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے سینے کو ٹھنڈ پہنچائی ہے، پس یہ تلوار مجھے دے دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تلوار میری ہے نہ تیری۔ میں چلا گیا اور کہہ رہا تھا، آج یہ اس کو ملے گی جس کا امتحان میرے جیسا نہ ہوا ہوگا، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلا لیا، میں نے سمجھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہوگا، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہا : تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا اور وہ نہ میری تھی نہ تیری۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری کردی اور وہ اب تیرے لیے ہے پھر آیت پڑھی : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } ۔
12717
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ الْوَاسِطِیُّ َخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ بَدْرٍ : مَنْ فَعَلَ کَذَا وَکَذَا فَلَہُ مِنَ النَّفَلِ کَذَا وَکَذَا ۔ قَالَ : فَتَقَدَّمَ الْفِتْیَانُ وَلَزِمَ الْمَشْیَخَۃُ الرَّایَاتِ فَلَمْ یَبْرَحُوہَا فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ قَالَتِ الْمَشْیَخَۃُ : کُنَّا رِدْئً ا لَکُمْ لَوِ انْہَزَمْتُمْ فِئْتُمْ إِلَیْنَا فَلاَ تَذْہَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَی فَأَبَی الْفِتْیَانُ وَقَالُوا جَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قَلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } إِلَی قَوْلِہِ {کَمَا أَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِہُونَ } یَقُولُ : فَکَانَ ذَلِکَ خَیْرًا لَہُمْ وَکَذَلِکَ أَیْضًا فَأَطِیعُونِی فَإِنِّی أَعْلَمُ بِعَاقِبَۃِ ہَذَا مِنْکُمْ۔ [صحیح]
(١٢٧١٢) حضرت ابن عباس (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : جو یہ کام کرے گا اس کے لیے یہ انعام ہے تو جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے نشانوں کے پاس رہے۔ پھر وہ وہیں جمے رہے، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا : ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے، اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری طرف پلٹتے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ غنیمت کا مال تم لے جاؤ اور ہم یوں ہی رہ جائیں۔ پس نوجوان نہ مانے اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو دیا ہے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ } سے { لَکَارِہُونَ } تک ۔ ان کے لیے یہی بہتر تھا ، پس تم میری اطاعت کرو میں انجام کار کو زیادہ جانتا ہوں۔
12718
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتُرِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ زَادَ فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ بِالسَّوَائِ ۔ [صحیح]
(١٢٧١٣) ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں برابر تقسیم کیا۔
12719
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الأَنْفَالِ قَالَ فِینَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ الْتَقَی النَّاسَ بِبَدْرٍ نَفَّلَ کُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ وَکُنَّا أَثَلاَثًا ثُلُثٌ یُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ وَیَأْسِرُونَ وَثُلُثٌ یَجْمَعُونَ النَّفَلَ وَثُلُثٌ قِیَامٌ دُونَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَخْشَوْنَ عَلَیْہِ کَرَّۃَ الْعَدُوِّ حَرَسًا لَہُ فَلَمَّا وُضِعَتِ الْحَرْبُ قَالَ الَّذِینَ أَصَابُوا النَّفَلَ ہُوَ لَنَا وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- نَفَّلَ کُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ وَقَالَ الَّذِینَ کَانُوا یَقْتُلُونَ وَیَأْسِرُونَ وَاللَّہِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ ِنَّا لَنَحْنُ شَغَلْنَا عَنْکُمُ الْقَوْمَ وَخَلَّیْنَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ النَّفَلِ فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا وَقَالَ الَّذِینَ کَانُوا یَحْرُسُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : وَاللَّہِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا لَقَدْ رَأَیْنَا أَنْ نَقْتُلَ الرِّجَالَ حِینَ مَنَحُونَا أَکْتَافَہُمْ وَنَأْخُذَ النَّفَلَ لَیْسَ دُونَہ أَحَدٌ یَمْنَعُہُ وَلَکِنَّا خَشِینَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَرَّۃَ الْعَدُوِّ فَقُمْنَا دُونَہُ فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَائَ تْ أَخْلاَقُنَا انْتَزَعَہُ اللَّہُ مِنْ أَیْدِینَا فَجَعَلَہ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَسَمَہُ عَلَی النَّاسِ عَنْ بَوَائٍ فَکَانَ فِی ذَلِکَ تَقْوَی اللَّہِ وَطَاعَتُہُ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ -ﷺ- وَصَلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنَکُمْ}
وَرَوَاہُ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ مَعَ تَقْصِیرِ فِی إِسْنَادِہِ وَقَالَ : فَقَسَمَہُ عَلَی السَّوَائِ لَمْ یَکُنْ فِیہِ یَوْمَئِذٍ خُمُسٌ۔ [ضعیف]
(١٢٧١٤) ابو امامہ باہلی کہتے ہیں : میں نے عبادہ بن صامت سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : ہم میں اصحابِ بدر تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بدر کے دن لوگوں سے ملے تو ہر ایک کو حصہ دیا اور ہم تین گروہوں میں تھے، ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے اور انھیں قیدی بناتے تھے اور ایک تہائی غنیمت کا مال جمع کر رہے تھے اور ایک تہائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کر رہے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نقصان نہ پہنچا دے، یعنی وہ آپ کے لیے پہرہ دے رہے تھے۔ جب جنگ ختم ہوگئی تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا، وہ کہنے لگے : یہ ہمارا ہے اور تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر آدمی کے لیے حصہ مقرر کیا، جس مال کو اس نے پایا اور جو قتال کر رہے تھے اور دشمنوں کو قیدی بنا رہے تھے انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم دشمنوں کے ساتھ مصروف تھے۔ وہ (دشمن) تمہارے اور مال غنیمت کے درمیان حائل تھے، تو کیا تم اس (غنیمت) کے ہم سے زیادہ حق دار ہو اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد پہرا دے رہے تھے، انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم نے یقیناً دشمن کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جبکہ وہ اپنے کندھے ہمیں ہبہ کرچکے تھے (یعنی ہمیں ان کو قتل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی) ۔ ہم مال غنیمت اکٹھا کرسکتے تھے اور اس کام کے کرنے میں کوئی بھی حائل نہ تھا، لیکن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دشمن کے حملے سے ڈرتے (کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے) تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ تو کیا تم ہم سے زیادہ حقدار ہوگئے۔ جب ہم نے اختلاف کیا اور اخلاقیات کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ (مال غنیمت) چھین کر اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبضے میں دے دیا تو اللہ کے رسول نے اسے لوگوں میں تقسیم کردیا تو یہ اللہ کے تقویٰ ، اس کی اطاعت، اس کے رسول کی اطاعت اور لوگوں کی آپس کی اصلاح میں (درست) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنَکُمْ }” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے : غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں (ایک دوسرے کی) اصلاح کرو۔
12720
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۷۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَہْضَمٍ الْخُرَاسَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی بَدْرٍ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ فَلَمَّا ہَزَمَہُمُ اللَّہُ اتَّبَعَہُمْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینِ یَقْتُلُونَہُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَۃٌ بِالْعَسْکَرِ فَلَمَّا کَفَی اللَّہُ الْعَدُوَّ وَرَجَعَ الَّذِینَ قَتَلُوہُمْ قَالُوا لَنَا النَّفَلُ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاہُمُ اللَّہُ وَہَزَمَہُمْ وَقَالَ الَّذِینَ کَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَاللَّہِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا ہُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْہُ غِرَّۃً وَقَالَ الَّذِینَ اسْتَوْلُوا عَلَی الْعَسْکَرِ وَاللَّہِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا نَحْنُ اسْتَوْلَیْنَا عَلَی الْعَسْکَرِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } إِلَی قَوْلِہِ {إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ } فَقَسَمَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَہُمْ عَنْ فَوَاقٍ۔ [ضعیف]
(١٢٧١٥) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے دن نکلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن سے ملے۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرنے لگے اور ایک جماعت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لے لیا اور ایک جماعت مال اکٹھا کرنے لگ گئی، جب اللہ تعالیٰ دشمن کو کافی ہوگئے اور جنہوں نے ان کو قتل کیا تھا وہ لوٹ آئے انھوں نے کہا : دشمن کو ہم نے قتل کیا لہٰذا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہماری وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لیا تھا، انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو اس لیے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لیا تھا تاکہ دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے اور ان لوگوں نے کہا جو مال کی طرف گئے تھے کہ ہم اس کے حق دار ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی۔ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ ۔۔۔} پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں مناسب طریقے سے تقسیم کردیا ۔