hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

35. راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث

سنن البيهقي

11891
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُسَامَۃَ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا أَشْہَلُ یَعْنِی ابْنَ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا وَاللَّہِ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ ہُوَ أَنْفَسُ عِنْدِی مِنْہَا فَمَا تَأْمُرُنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِہَا وَحَبَّسْتَ أَصْلَہَا ۔ قَالَ فَجَعَلَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَدَقَۃً لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوہَبُ وَلاَ تُورَثُ تَصَدَّقَ بِہَا عَلَی الْفُقَرَائِ وَلِذَوِی الْقُرْبَی وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَحْسَبُہُ قَالَ : وَالضَّیْفِ وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَیُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بِشْرَانَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [اخرجہ البخاری ۲۷۳۷۔ مسلم ۴۲۲۳]
(١١٨٨٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو چاہے تو پیداوار صدقہ کر دے اور اصل زمین روک لے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ نہ اسے بیچا جائے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، اسے فقراء، مساکین، رشتہ داروں، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرنے میں صدقہ کیا جائے گا۔ ابن عون کا خیال ہے کہ مہمان اور جو اس کا والی ہو وہ بھی معروف طریقے سے کھالے اور محتاج کو دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
11892
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔ فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنَّہُ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا وَلاَ یُورَثُ وَلاَ یُوہَبُ لِلْفُقَرَائِ وَالْقُرْبَی وَالرِّقَابِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالضَّیْفِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح]
(١١٨٨٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میرے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اصل زمین روک لے اور پیداوار صدقہ کردے۔ پس عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اسے نہ بیچا جائے گا نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ ہبہ کی جائے گی۔ فقراء کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، گردن آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے میں، مہمان کے لیے، مسافر کے لیے صدقہ کردیا اور اس کا والی اگر معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج کو کھلا دے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
11893
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَسْتَأْمِرُہُ فِیہَا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ ہُوَ أَنْفَسُ عِنْدِی مِنْہُ فَمَا تَأْمُرُ بِہِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔ قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنْ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُورَثُ وَلاَ یُوہَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِی الْفُقَرَائِ وَفِی الْقُرْبَی وَالرِّقَابِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَالضَّیْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا بِالْمَعْرُوفِ وَیُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ ہَذَا الْمَکَانَ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً قَالَ مُحَمَّدٌ : غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَخْبَرَنِی مَنْ قَرَأَ ہَذَا الْکِتَابَ أَنَّ فِیہِ غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
(١١٨٨٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، مشورہ مانگا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے، آپ مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس کی اصل روک لے اور اس کی پیداوار صدقہ کر دے، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے گا، نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، نہ ہبہ کی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فقراء، رشتہ داروں، گردن آزاد کرنے، اللہ کے راستے میں، مسافر اور مہمان کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
11894
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۸۹) أَخْبَرنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَیْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَسْتَأْمِرُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَیْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا ۔ فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ عَلَی أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوہَبَ وَلاَ تُورَثَ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِہَا فِی الْفُقَرَائِ وَالأَقْرَبِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَفِی الضَّیْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا یَأْکُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَیُعْطِی بِالْمَعْرُوفِ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَکَرْتُہُ لاِبْنِ سِیرِینَ فَقَالَ : غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی دَاوُدَ الْحَفَرِیِّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]
(١١٨٨٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا : مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ مانگا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔ پس حضرت عمر (رض) نے اس شرط پر صدقہ کردیا کہ نہ بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وارث بنایا جائے گا، پس فقراء رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر، مہمان کے لیے صدقہ کردیا اور کہا جو اس کا والی ہو اگر وہ معروف طریقے سے کھالے یا اپنے محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
11895
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادِ بْنِ بِشْرٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ سَہْلٍ التُّسْتَرِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ مَالاً بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْہُ فَقَالَ لَہُ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِہِ وَإِنْ شِئْتَ أَمْسَکْتَ أَصْلَہُ ۔ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الضُّعَفَائِ وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یُطْعِمْ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ مَالاً أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْہُ مَالاً۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ یُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَیُّوبَ وَعَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ أَیُّوبَ وَأَرْسَلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ آخِرَہُ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولاً۔ [صحیح]
(١١٨٩٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اس سے محبوب چیز میرے نزدیک کوئی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : اگر تو چاہے تو صدقہ کر دے اور اصل کو روک لے، پس حضرت عمر (رض) نے کمزوروں، مساکین، مسافر پر صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھالے یا محتاج دوست کو کھلا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
11896
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی ہَارُونُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَہُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یُقَالُ لَہُ ثَمْغٌ وَکَانَ نَخْلاً فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی اسْتَفَدْتُ مَالاً وَہُوَ عِنْدِی نَفِیسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : تَصَدَّقَ بِأَصْلِہِ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُوہَبُ وَلاَ یُورَثُ وَلَکِنْ یُنْفَقُ ثَمَرُہُ ۔ فَتَصَدَّقَ بِہِ عُمَرُ فَصَدَقَتُہُ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْمَسَاکِینِ وَالضَّیْفِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہُ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیقَہُ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ بِہِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ َکَذَا۔ [صحیح]
(١١٨٩١) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مال صدقہ کیا، اسے ثمغ کہا جاتا تھا۔ وہ ایک باغ تھا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے مال ملا ہے جو بڑا پسندیدہ ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے صدقہ کر دوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اس کی اصل صدقہ کر دے، نہ بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے، نہ وارث بنایا جائے، لیکن اس کا پھل صدقہ کر دے پس حضرت عمر (رض) نے اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مساکین، مہمان، مسافر، رشتہ داروں کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھالے یا اپنے دوست کو کھلا دے اور جو محتاج ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
11897
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۲) وَبِہَذَا الْمَعْنَی رُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمَالِہِ الَّذِی بِثَمْغٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : تَصَدَّقَ بِثَمَرِہِ وَاحْبِسْ أَصْلَہُ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُورَثُ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
(١١٨٩٢) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ کیا، اپنا ثمغ والا مال صدقہ کرنے کے بارے میں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا پھل صدقہ کر دے اور اصل روک لے۔ نہ اسے بیچا جائے اور نہ اس کا وارث بنایا جائے۔
11898
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ صَدَقَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ نَسَخَہَا لِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی ثَمْغٍ أَنَّہُ إِلَی حَفْصَۃَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِنَّہُ إِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُشْتَرَی أَصْلُہُ أَبَدًا وَلاَ یُوہَبُ وَمَنْ وَلِیَہُ فَلاَ حَرَجَ عَلَیْہِ فِی ثَمَرِہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً فَما عَفَا عَنْہُ مِنْ ثَمَرِہِ فَہُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّیْفِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَابْنِ السَّبِیلِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ تُنْفِقُہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ وَلَدِی وَالْمِائَۃُ الْوَسْقِ الَّذِی أَطْعَمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْوَادِی بِیَدِی لَمْ أَہْلِکْہَا فَإِنَّہُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَی سُنَتِہِ الَّتِی أَمَرْتُ بِہَا وَإِنْ شَائَ وَلِیُّ ثَمْغٍ اشْتَرَی مِنْ ثَمَرِہِ رَقِیقًا لِعَمَلِہِ۔ وَکَتَبَ مُعَیْقِیبٌ وَشَہِدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْم اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ عَبْدُ اللَّہِ عُمَرُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ إِنْ حَدَثَ بِہِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا وَصِرْمَۃَ ابْنِ الأَکْوَعِ وَالْعَبْدَ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ السَّہْمِ الَّذِی بِخَیْبَرَ وَرَقِیقَہُ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ یَعْنِی الْوَسْقَ الَّذِی أَطْعَمَہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَلِیہِ حَفْصَۃُ مَا عَاشَتْ ثُمَّ یَلِیہِ ذُو الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُشْتَرَی یُنْفِقُہُ حَیْثُ رَأَی مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَلاَ حَرَجَ عَلَی وَلِیِّہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ أَوِ اشْتَرَی لَہُ رَقِیقًا مِنْہُ۔ [صحیح]
(١١٨٩٣) حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل خرچ کریں گی، جتنا اللہ نے لگایا، پس اگر وہ فوت ہوجائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہوجائے گا، اس کی کبھی نہ بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہوگا، اس پر اس کا پھل کھانا معروف طریقے سے یا اپنے محتاج دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر، اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہوجائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی میں کھلائے ان کبھی ختم کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا : عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی : اگر وہ فوت ہوجائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے کا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محرم، رشتہ دارہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھالے یا کوئی غلام خرید لے۔
11899
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ : لَمْ یَتْرُکْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ بَغْلَۃً بَیْضَائَ وَسِلاَحًا وَأَرْضًا جَعَلَہَا صَدَقَۃً۔ [ابن الجعد ۲۵۳۴۔ ابن سعد ۲/ ۳۱۶]
(١١٨٩٤) حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفید خچر اپنی زرع اور زمین ترکہ کے طور پر چھوڑی۔ اس کو صدقہ کردیا گیا۔
11900
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۵) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا الْفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَخِی امْرَأَتِہِ قَالَ : وَاللَّہِ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَۃً وَلاَ شَیْئًا إِلاَّ بَغْلَتَہُ الْبَیْضَائَ وَسِلاَحَہُ وَأَرْضًا تَرَکَہَا صَدَقَۃً۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَأَبِی الأَحْوَصِ وَالثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح]
(١١٨٩٥) حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار ، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز سوائے سفید خچر کے اور اپنی زرع اور زمین کے اس کو بھی صدقہ کردیا گیا۔