Sunan Al Bayhaqi
40. امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
سنن البيهقي
12691
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ َخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ الإِمَامُ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَالرَّجُلُ فِی أَہْلِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَالْمَرْأَۃُ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا رَاعِیَۃٌ وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا وَالْخَادِمُ فِی مَالِ سَیِّدِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ ۔ قَالَ فَسَمِعْتُ ہَؤُلاَئِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَحْسِبُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَالرَّجُلُ فِی مَالِ ابْنِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۴۰۹۔ مسلم ۱۸۲۹]
(١٢٦٨٦) حضرت ابن عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا، امام ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے اہل کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اسے اس بارے میں پوچھا جائے گا اور خادم اپنے آقا کے مال کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا، ابن عمر (رض) کہتے ہیں : میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اور میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی اپنے بیٹے کے مال کا بھی ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کے بارے میں جوابدہ ہے۔
12692
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۸۷) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْحَنَفِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ َخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ فَہُوَ مُنَافِقٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ أَنَّہُ مُسْلِمٌ مَنْ إِذَا حَدَّثَ کَذِبَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ۔ [صحیح۔ بخاری]
(١٢٦٨٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں جس شخص میں پائی گئیں وہ منافق ہے اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔
12693
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نَصْرٍ التَّمَّارِ وَعَبْدِ الأَعْلَی بْنِ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
(١٢٦٨٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت پکڑائی جائے تو خیانت کرے۔
12694
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا لْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِکِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ أَبُو سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَیَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔
سابقہ حدیث کی طرح ہے
12695
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : قَلَّمَا خَطَبَنَا نَبِیُّنَا -ﷺ- أَوْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلاَّ قَالَ فِی خُطْبَتِہِ : لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَلاَ دِینَ لِمَنْ لاَ عَہْدَ لَہُ ۔ [ضعیف]
(١٢٦٩٠) حصرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : کم ہی ایسا ہوا ہوگا کہ ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ کہا ہو کہ جو امانت کا خیال نہ کرے اس کا ایمان نہیں ہے اور جو عہد کی پاسداری نہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔
12696
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً َخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَالِکِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اضْمَنُوا لِی سِتًّا مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَضْمَنُ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَکُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوا أَیْدِیَکُمْ ۔ [حسن لغیرہ]
(١٢٦٩١) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں : مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں : جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو اس کی حفاظت کرو اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو اور اپنی نگاہ نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو۔
12697
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یُکَفِّرُ کُلَّ ذَنْبٍ إِلاَّ الأَمَانَۃَ یُؤْتَی بِصَاحِبِہَا وَإِنْ کَانَ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیُقَالَ لَہُ : أَدِّ أَمَانَتَکَ فَیَقُولُ : رَبِّ ذَہَبَتِ الدُّنْیَا فَمِنْ أَیْنَ أُؤَدِّیہَا فَیَقُولُ : اذْہَبُوا بِہِ إِلَی الْہَاوِیَۃِ حَتَّی إِذَا أُتِیَ بِہِ إِلَی قَرَارِ الْہَاوِیَۃِ مَثُلَتْ لَہُ أَمَانَتُہُ کَیَوْمِ دُفِعَتْ إِلَیْہِ فَیَحْمِلُہَا عَلَی رَقَبَتِہِ یَصْعَدُ بِہَا فِی النَّارِ حَتَّی إِذَا رَأَی أَنَّہُ خَرَج مِنْہَا ہَوَتْ وَہَوَی فِی أَثَرِہَا أَبَدَ الآبِدِینَ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّہِ {إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنَّ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا} [حسن]
(١٢٦٩٢) حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اللہ کے راستے میں شہید ہوجانا تمام گناہوں سے کفارہ بن جاتا ہے، سوائے امانت کے جو اسے اس کے ساتھی کی طرف سے دی گئی تھی اور اگرچہ اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے تو اسے کہا جاتا ہے : اپنی امانت ادا کرو وہ کہے گا، اے میرے رب ! دنیا ختم ہوگئی اب کہاں سے دوں ؟ اللہ کہیں گے اس وادی میں جاؤ جب وہ وہاں جائے گا تو اسے وہ امانت پڑی ہوئی نظر آئے گی پس وہ اٹھا کر لائے گا تو وہ گرجائے گی۔ ہمیشہ ایسے ہی ہوگا۔ پھر ابن مسعود (رض) نے یہ آیت پڑھی {إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنَّ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا }
12698
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دُلاَفٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ تَنْظُرُوا إِلَی صَلاَۃِ أَحَدٍ وَلاَ إِلَی صِیَامِہِ وَلَکِنِ انْظُرُوا إِلَی مَنْ إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ أَدَّی وَإِذَا أَشْفَی وَرِعَ۔ [ضعیف]
(١٢٦٩٣) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کسی کے نماز، رو زہ کی طرف نہ دیکھو، لیکن دیکھو جب وہ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے، جب امانت دی جاتی ہے تو ادا کرتا ہے، جب چلتا ہے تو ڈرتا ہے۔
12699
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۴) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لاَ یَغُرَّنَّکَ صَلاَۃُ رَجُلٍ وَلاَ صِیَامُہُ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ صَلَّی وَلَکِنْ لاَ دِینَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ۔ [ضعیف]
(١٢٦٩٤) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے، لیکن جو امانت کا خیال نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے۔
12700
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ َخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : حَمْزَۃُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ أَبِی کِلاَبٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ یَقُولُ : لاَ یُعْجِبَکُمْ مِنَ الرَّجُلِ طَنْطَنَتُہُ وَلَکِنَّہُ مَنْ أَدَّی الأَمَانَۃَ وَکَفَّ عَنْ أَعْرَاضِ النَّاسِ فَہُوَ الرَّجُلُ۔ [ضعیف]
(١٢٦٩٥) عبید بن ابی کلاب نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا ، وہ خطبہ دے رہے تھے کہ تم کو کسی کی آہ وزاری تعجب میں نہ ڈال دے لیکن جو شخص امانت ادا کرے اور لوگوں کی عزت (پامال) کرنے سے اعراض کرے وہ آدمی ہے۔