Sunan Al Bayhaqi
36. ہبہ کا بیان
سنن البيهقي
11944
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِیٍّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدٍ۔
[بخاری ۲۵۶۶۔ مسلم ۱۰۳۰]
(١١٩٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے مسلمان عورتو ! کوئی ہمسائی اپنے دوسری ہمسایہ کی کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
11945
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْ أُہْدِیَ إِلَیَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَو دُعِیتُ إِلَی کُرَاعٍ لأَجَبْتُ ۔ [بخاری ۲۵۶۸]
(١١٩٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے بازو کا ہدیہ دیا جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے پائے کی دعوت دی جائے تو اسے بھی قبول کروں گا۔
11946
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔
(١١٩٤١) ایضا۔
11947
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : وَاللَّہِ یَا ابْنَ أُخْتِی إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْہِلاَلِ ثُمَّ الْہِلاَلِ ثُمَّ الْہِلاَلِ ثَلاَثَۃَ أَہِلَّۃٍ فِی شَہْرَیْنِ وَمَا أُوقِدَتْ فِی أَبْیَاتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَارٌ قَالَ قُلْتُ : یَا خَالَۃُ مَا کَانَ یُعِیشُکُمْ؟ قَالَتْ : الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ إِلاَّ أَنَّہُ قَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جِیرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتْ لَہُمْ مَنَائِحُ فَکَانُوا یُرْسِلُونَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَلْبَانِہَا فَیَسْقِینَاہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنِ ابْنِ أَبِی حَازِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[بخاری ۲۵۶۸۔ مسلم ۲۹۷۲]
(١١٩٤٢) عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! اے میرے بھانجے ! ہم چاند دیکھتے پھر چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے۔ تین چاند۔ دو مہینوں میں کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں آگ نہ جلتی تھی۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے کہا : یا خالہ تمہارا گزر بسر کیسے ہوتا تھا ؟ انھوں نے کہا : دو سیاہ چیزوں سے : کھجور اور پانی۔ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمسائے انصار تھے اور ان کی بکریاں تھیں، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کا دودھ بھیجتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بھی پلا دیتے تھے۔
11948
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّاسُ یَتَحَرَّوْنَ بِہَدَایَاہُمْ یَوْمَ عَائِشَۃَ یَبْتَغُونَ بِذَلِکَ مَرْضَاۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَبْدَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ عَبْدَۃَ۔
[بخاری ۲۵۸۱۔ مسلم ۲۴۴۱]
(١١٩٤٣) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ لوگ اپنے ہدیوں کو بڑے شوق اور کوشش سے حضرت عائشہ (رض) والے دن لے کر آتے تھے، اس سے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا چاہتے تھے۔
11949
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانَ اسْمُہُ زَاہِرُ بْنُ حَرَامٍ قَالَ : کَانَ یُہْدِی لِلنَّبِیِّ -ﷺ- الْہَدِیَّۃَ مِنَ الْبَادِیَۃِ فَیُجَہِّزُہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ زَاہِرًا بَادِیَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوہُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح]
(١١٩٤٤) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی جس کا نام زاہر بن حرام تھا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دیہات سے ہدیے لے کر آتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جب وہ جاتا تو اس کے لیے کوئی چیز تیار کرتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زاہر ہمارے دیہاتیوں میں سے ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔
11950
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُمَاہِرِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ أُہْدِیَ إِلَیَّ کُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَو دُعِیتُ إِلَی ذِرَاعٍ لأَجَبْتُ ۔ وَکَانَ یَأْمُرُنَا بِالْہَدِیَّۃِ صِلَۃً بَیْنَ النَّاسِ وَقَالَ : لَوْ قَدْ أَسْلَمَ النَّاسُ َہَادَوْا مِنْ غَیْرِ جُوعٍ ۔ [صحیح۔ الی قولہ لا جبت، احمد ۱۳۲۰۹۔ ترمذی ۱۳۳۸]
(١١٩٤٥) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے ایک بازو کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ہدیوں کا حکم دیتے لوگوں کے درمیان صلہ رحمی کرنے کے لیے اور فرمایا : اگر لوگ اسلام لے آئیں تو بغیر بھوک کے بھی ہدیے دیا کریں۔
11951
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُکَیْرٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْمِصْرِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ وَرْدَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : تَہَادَوْا تَحَابُّوا ۔
[حسن۔ اخرجہ البخاری فی الادب المفرد ۵۹۴]
(١١٩٤٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم آپس میں تحفے دیا کرو تاکہ تمہاری محبت میں اضافہ ہو۔
11952
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیَّ یَقُولُ فِی قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- : تَہَادَوْا تَحَابُّوا ۔ بِالتَّشْدِیدِ مِنَ الْمَحَبَّۃِ وَإِذَا قَالَ بِالتَّخْفِیفِ فَإِنَّہُ مِنَ الْمُحَابَاۃِ۔ [صحیح]
(١١٩٤٧) ابوعبداللہ بو شنجی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات ” تَہَادَوْا تَحَابُّوا “ کے بارے میں فرماتے تھے کہ اگر تشدید کے ساتھ ہو تو مراد محبت ہے اور تحفیف کے ساتھ ہو تو باہمی محبت مراد ہے۔
11953
Sunan Al Bayhaqi(۱۱۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَغَیْرُہُمَا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحَلَہَا جِدَادُ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالٍ بِالْغَابَۃِ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ : وَاللَّہِ یَا بُنَیَّۃُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ غِنًی بَعْدِی مِنْکِ وَلاَ أَعَزَّ عَلَیَّ فَقْرًا بَعْدِی مِنْکِ وَإِنِّی کُنْتُ نَحَلْتُکِ مِنْ مَالِی جِدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا فَلَوْ کُنْتِ جَدَدْتِیہِ وَاحْتَزْتِیہِ کَانَ لَکِ ذَلِکَ وَإِنَّمَا ہُوَ مَالُ الْوَارِثِ وَإِنَّمَا ہُوَ أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ فَاقْتَسِمُوہُ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ فَقَالَتْ: یَا أَبَۃِ وَاللَّہِ لَوْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لَتَرَکْتُہُ إِنَّمَا ہُوَ أَسْمَائُ فَمَنِ الأُخْرَی قَالَ: ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَۃَ أُرَاہَا جَارِیَۃً۔
قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ بِذَلِکَ۔
قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُحَدِّثُ بِذَلِکَ أَیْضًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَرْضًا یُقَالُ لَہَا ثَمْرُدُ وَکَانَتْ عِنْدَہُ لَمْ تَقْبِضْہَا۔ [مالک فی الموطا ۸۰۶]
(١١٩٤٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مقام غابہ میں واقع اپنی کھجوروں میں سے بیس وسق کٹائی کے وقت حضرت عائشہ (رض) کو دیے، جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے فرمایا : اے میری بیٹی ! لوگوں میں سے اور کوئی ایسا نہیں جس کا میرے بعد غنی ہونا تمہاری نسبت زیادہ پسند ہو اور نہ کسی کا محتاج ہونا میرے بعد تم سے زیادہ مجھ پر شاق ہے اور میں نے تمہیں بیس وسق کھجور کٹائی کی عطا کی ہے۔ اگر تو نے اسے کٹوا لیا ہے اور اس پر قبضہ کرلیا ہے تو بہتر ورنہ وہ وارثوں کا مال ہے اور وہ تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، تم اسے کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرلینا۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اے ابا جان ! اللہ کی قسم اگر اتنا زیادہ مال بھی ہوتا تو میں چھوڑ دیتی۔ میری بہن تو صرف اسماء ہے، دوسری کون ہے ؟ فرمایا : خارجہ کے پیٹ والی۔ میرے خیال میں وہ لڑکی تھی۔
قاسم بن محمد بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ زمین کا نام ثمرد تھا جو اس کے پاس تھی لیکن اس کا قبضہ نہ تھا۔
قاسم بن محمد بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ زمین کا نام ثمرد تھا جو اس کے پاس تھی لیکن اس کا قبضہ نہ تھا۔