hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi

63. شکار اور ذبیحوں سے متعلق

سنن البيهقي

18872
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ سَلْمَی أُمِّ رَافِعٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِقَتْلِ الْکِلاَبِ فَقَالَ النَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أُحِلَّ لَنَا مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ الَّتِی أَمَرْتَ بِقَتْلِہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ } [المائدۃ ٤] ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٦٦) ابو رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے لیے اس سے کیا حلال ہے جن کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :{ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ } [المائدۃ ٤] وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہے، کہہ دیجیے : تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری کتے سدھائے ہیں۔
18873
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی کِلاَبًا أَصْطَادُ بِہَا فَقَالَ : انْظُرُوا ہَذِہِ الْجَوَارِحَ عَلِّمُوہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللَّہُ وَکُلُوا مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٦٧) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیعرض کیا : میرا کتا ہے جس سے میں شکار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : ان شکار کرنے والوں کی جانب دیکھو، انھیں سکھاؤ جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اور اس شکار کو کھالو، جو تمہارے لیے روکے رکھیں۔
18874
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٦٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ } [المائدۃ ٤] قَالَ : مِنَ الْکِلاَبِ الْمُعَلَّمَۃِ وَالْبَازِی وَکُلِّ طَیْرٍ یُعَلَّمُ لِلصَّیْدِ وَفِی قَوْلِہِ { مُکَلِّبِینَ }[المائدۃ ٤] قَالَ یَقُولُ ضَوَارِیَ ۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ : الْجَوَارِحُ الطَّیْرُ وَالْکِلاَبُ ۔ وَعَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ { مُکَلِّبِینَ } [المائدۃ ٤] قَالَ تُکَالِبُونَ الصَّیْدَ ۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ { تَنَالُہُ أَیْدِیکُمْ } [المائدۃ ٩٤] قَالَ یَعْنِی النَّبْلَ وَیُقَالُ أَیْدِیکُمْ أَیْضًا صِغَارُ الصَّیْدِ الْفِرَاخُ وَالْبَیْضُ وَرِمَاحُکُمْ یُقَالَ کِبَارُ الصَّیْدِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٦٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : { وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ } [المائدۃ ٤] اور جو تم شکار کرنے والوں کو سکھاتے ہو۔ 1 شکاری کتے سدھائے ہوئے، 2 باز، 3 ہر وہ پرندہ جس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو، { مُکَلِّبِیْنَ } شکار ی جانور مجاہد کہتے ہیں کہ پرندے اور کتے جو شکار کرتے ہو اور قتادہ فرماتے ہیں کہ جن کتوں سے تم شکار کرتے ہو { تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ } [المائدۃ ٩٤] یعنی تیر، { اَیْدِیْکُمْ } سے مراد چڑیا وغیرہ، { وَ رِمَاحُکُمْ } سے مراد بڑا شکار۔
18875
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نُرْسِلُ الْکِلاَبَ الْمُعَلَّمَۃَ فَیُمْسِکْنَ عَلَیَّ وَأَذْکُرُ اسْمَ اللَّہِ قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ الْمُعَلَّمَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ فَکُلْ ۔ قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ : وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ یَشْرَکْہَا کَلْبٌ لَیْسَ مَعَہَا ۔ قُلْتُ لَہُ : فَإِنِّی أَرْمِی بِالْمِعْرَاضِ الصَّیْدَ فَأُصِیبُ ۔ قَالَ : إِذَا رَمَیْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَرَقَ فَکُلْہُ وَإِنْ أَصَابَہُ بِعَرْضِہِ فَلاَ تَأْکُلْہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٦٩) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم اپنے شکاریسکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتے ہیں ، وہ شکار کو ہمارے لیے محفوظ کرلیتا ہے۔ کیا میں اس پر اللہ کا نام ذکر کروں، آپ نے فرمایا : جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور تو نے بسم اللہ واللہ اکبر پڑھا ہو تو کھاؤ، میں نے پوچھا : اگر کتا شکارکو قتل کر دے تو فرمایا : جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شامل نہ ہو تب وہ قتل بھی ہو تو کھالو، پھر میں نے عرض کیا کہ میں پھالا مار کر شکار کرتا ہوں فرمایا جب آپ پھالال مار کر شکار کریں تو وہ شکار کو سوراخ کر دے تو کھالو اگر اس کو چوڑائی کے بل لگے تو پھر نہ کھاؤ۔
18876
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧٠) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ صَیْدِ الْکَلْبِ فَقَالَ : مَا أَمْسَکَ عَلَیْکَ فَکُلْ فَإِنَّ أَخْذَہُ ذَکَاتُہُ وَإِنْ أَصَبْتَ مَعَ کَلْبِکَ أَوْ کِلاَبِکَ کَلْبًا غَیْرَہُ فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّمَا ذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تَذْکُرْہُ عَلَی کِلاَبِ غَیْرِکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٧٠) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھاتو فرمایا : جو تمہارے لیے روک لے کھالو کیونکہ اس کا پکڑ لینا ہی ذبح کرنا ہے۔ اگر آپ انپے شکاری کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا یا کتے پائیں تب نہ کھائیں ۔ آپ نے اپنے شکاری کتے کو چھوڑتے ہوئے بسم اللہ واللہ اکبر پڑھا ہے جب کہ دوسرے کتوں کے چھوڑتے ہوئے نہیں پڑھا گیا۔
18877
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَارِمٌ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَکَمِ الْبُنَانِیُّ : أَنَّ نَافِعَ بْنَ الأَزْرَقِ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَیْتَ إِذَا أَرْسَلْتُ کَلْبِی فَسَمَّیْتُ فَقَتَلَ الصَّیْدَ آکُلُہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ نَافِعٌ یَقُولُ اللَّہُ (إِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ ) تَقُولُ : أَنْتَ وَإِنْ قُتِلَ قَالَ : وَیْحَکَ یَا ابْنَ الأَزْرَقِ أَرَأَیْتَ لَوْ أَمْسَکَ عَلَیَّ سِنَّورٌ فَأَدْرَکْتُ ذَکَاتَہُ کَانَ یَکُونُ عَلَیَّ بَأْسٌ وَاللَّہِ إِنِّی لأَعْلَمُ فِی أَیِّ کِلاَبٍ نَزَلَتْ نَزَلَتْ فِی کِلاَبِ بَنِی نَبْہَانَ مِنْ طَیِّئٍ وَیْحَکَ یَا ابْنَ الأَزْرَقِ لَیَکُونَنَّ لَکَ نَبَأٌ۔ [حسن ]
(١٨٨٧١) نافع بن ازرق نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا : آپ کا کیا خیال ہے جب میں اپنے سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں پھر وہ شکار کو قتل کردیتا ہے کیا میں اس شکار کو کھالوں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : کھالو۔ نافع کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے : { اِلَّا مَا زَکَّیْتُمْ } یعنی اس وقت کھاؤ جب تم ذبح کرو، آپ کہتے ہیں کہ اگر شکار قتل بھی کردیا جائے تو بھی کھالو، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اے ابن ازرق ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو پکڑ کر ذبح کروں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں۔ یہ آیت کن کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ بنو نبھان جو قبیلہ طبیی سے ہیں، ان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اے ابن ازرق ! تجھ پر افسوس ضرور تیرے لیے کوئی خبر ہوگی۔
18878
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٌ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی السَّفْرِ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ : إِذَا أَصَابَ بِحَدِّہِ فَکُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِہِ فَقَتَلَ فَإِنَّہُ وَقِیذٌ فَلاَ تَأْکُلْ ۔ قَالَ قُلْتُ : إِنِّی أُرْسِلُ کَلْبِی قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ فَکُلْ ۔ قَالَ قُلْتُ : فَإِنْ أَکَلَ قَالَ : فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَی نَفْسِہِ وَلَمْ یَحْبِسْ عَلَیْکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : أُرْسِلُ کَلْبِی وَأَجِدُ مَعَہُ کَلْبًا آخَرَ قَالَ : لاَ تَأْکُلْ فَإِنَّمَا سَمَّیْتَ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَی الآخَرِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٧٢) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چوڑائی کے بل شکار کو لگنے والے تیر کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : جب تیر دھار کی جانب سے شکار کو لگے تو کھا لیں اور جب تیر چوڑائی کی جانب سے لگ کر شکار کو قتل کر دے تو یہ لکڑی کی چوٹ کھا کر مرا تصور ہوگا، اس شکار کونہ کھائیں، راوی کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے کتے کو چھوڑوں، فرمایا : جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھ ، پھر کھالو، راوی کہتے ہیں : اگر کتے نے اس سے کھالیا ؟ فرمایا : پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے ، تیرے لیے نہیں۔ راوی کہتے ہیں : اگر میں اپنے کتے کے ساتھ اور کتے پاؤں ؟ فرمایا : تب نہ کھاؤ کیونکہ آپ نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں۔
18879
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ : مَا أَصَابَ بِحَدِّہِ فَکُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِہِ فَہُوَ وَقِیذٌ ۔ وَسَأَلْتُہُ عَنْ صَیْدِ الْکَلْبِ فَقَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ وَأَمْسَکَ عَلَیْکَ فَکُلْ وَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ فَلاَ تَأْکُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَہُ کَلْبًا غَیْرَ کَلْبِکَ فَخَشِیتَ أَنْ یَکُونَ قَدْ أَخَذَہُ مَعَہُ وَقَدْ قَتَلَہُ فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّہُ إِنَّمَا ذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تَذْکُرْہُ عَلَی غَیْرِہِ ۔ [صحیح ]
(١٨٨٧٣) عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تیر کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : جس کو تیر کی دھار لگے کھاؤ اور جو چواڑئی کی جانب سے تیر لگ کر مرے تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہوگا اور میں نے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھالے، اگر کتے نے شکار سے کچھ کھالیا ہو تو پھر شکار کو نہ کھاؤ۔ اگر آپ اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پائیں اور آپ کو ڈر ہو کہ کہیں شکار اس کتے نے پکڑا یا قتل کیا ہو۔ پھر بھی نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔
18880
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ صَیْدِ الْکَلْبِ فَقَالَ : مَا أَمْسَکَ عَلَیْکَ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ فَکُلْہُ فَإِنَّ أَخْذَہُ ذَکَاتُہُ وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَہُ کَلْبًا غَیْرَہُ فَخَشِیتَ أَنْ یَکُونَ أَخَذَہُ مَعَہُ وَقَدْ قَتَلَہُ فَلاَ تَأْکُلْہُ فَإِنَّکَ إِنَّمَا ذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تَذْکُرْہُ عَلَی غَیْرِہِ ۔ وَسَأَلْتُہُ عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ : مَا أَصَبْتَ بِحَدِّہِ فَکُلْہُ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِہِ فَہُوَ وَقِیذٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٨٧٤) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : جو کتا شکار آپ کے لیے روکے کھائے نہیں اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے کھالو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہوگا۔
18881
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٧٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ فَقَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ فَإِنْ أَدْرَکْتَہُ وَلَمْ یَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ وَإِنْ أَدْرَکْتَہُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ یَأْکُلْ فَکُلْ فَقَدْ أَمْسَکَہُ عَلَیْکَ فَإِنْ وَجَدْتَہُ قَدْ أَکَلَ مِنْہُ فَلاَ تَطْعَمْ مِنْہُ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَکَہُ عَلَی نَفْسِہِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَکَرِیَّا وَعَاصِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٧٥) حضرت عدی بن حاتم (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکار کے متعلق پوچھاتو فرمایا : جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھ، اگر شکار مرنے سے پہلے آپ پالیں تو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لو اور اگر قتل شدہ شکار پالیں اور کتے نے کھایا بھی نہیں تو آپ کھا لیں۔ کیونکہ آپ کے لیے اس نے شکار کیا ہے۔ اگر شکار میں سے اس نے کچھ کھایا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ کتے نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔