Sunan Al Bayhaqi
49. ظہار کا بیان
سنن البيهقي
15248
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی وَسِعَ سَمْعُہُ الأَصْوَاتَ لَقَدْ جَائَ تِ الْمُجَادِلَۃُ تَشْتَکِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا}
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ الأَعْمَشُ عَنْ تَمِیمٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
(١٥٢٤٢) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جس کی سماعت کو آوازوں نے گھیر رکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت جھگڑتے ہوئے شکایت کر رہی تھی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھی۔ میں نے نہ سنا وہ کیا کہہ رہی تھی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } [المجادلہ ١] ” اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔ “
15249
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الشَّیْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : تَبَارَکَ اللَّہُ الَّذِی وَسِعَ سَمْعُہُ کُلَّ شَیْئٍ إِنِّی لأَسْمَعُ کَلاَمَ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَعْلَبَۃَ وَیَخْفَی عَلَیَّ بَعْضُہُ وَہِیَ تَشْتَکِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- زَوْجَہَا وَہِیَ تَقُولُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَکَلَ شَبَابِی وَنَثَرْتُ لَہُ بَطْنِی حَتَّی إِذَا کَبِرَتْ سِنِّی وَانْقَطَعَ لَہُ وَلَدِی ظَاہَرَ مِنِّی اللَّہُمَّ إِنِّی أَشْکُو إِلَیْکَ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَمَا بَرِحَتْ حَتَّی نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِہَؤُلاَئِ الآیَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا}
قَالَ : وَزَوْجُہَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ۔ [صحیح]
(١٥٢٤٣) عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اللہ رب العزت برکت دے اس ذات کو جس کی سماعت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ میں خولہ بنت ثعلبہ کی کلام کو سن رہی تھی اور اس کی کچھ باتیں مجھ پر پوشیدہ تھیں، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے میری جوانی کو ختم کردیا اور میں نے اس کی اولاد کو جنم دیا، جب میں بوڑھی ہوگئی اور اولاد کا سلسلہ ختم ہوگیا اس نے مجھ سے اظہار کرلیا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے شکایت کرتی ہوں، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وہ اسی حالت میں تھی کہ جبرائیل امین یہ آیت لے کر آگئے { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } [المجادلہ ١] ” اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔ “ فرماتے ہیں : اس کا خاوند اوس بن صامت تھا۔
15250
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ جَمِیلَۃَ کَانَتِ امْرَأَۃُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ أَوْسٌ امْرَئً ا بِہِ لَمَمٌ فَإِذَا اشْتَدَّ بِہِ لَمَمُہُ ظَاہَرَ مِنِ امْرَأَتِہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَک وَتَعَالَی کَفَّارَۃَ الظِّہَارِ۔
وَرَوَاہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادٍ فَأَرْسَلَہُ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٤) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اوس بن صامت کی بیوی جمیلہ تھیں اور اوس ایسا شخص تھا جس کو جنون کی بیماری تھی، جب بیماری بڑھی تو اوس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا تو اللہ رب العزت نے ظہار کا کفارہ نازل کردیا۔
15251
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لاِمْرَأَتِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی حَرُمَتْ عَلَیْہِ فِی الإِسْلاَمِ قَالَ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ ظَاہَرَ فِی الإِسْلاَمِ أَوْسٌ وَکَانَتْ تَحْتَہُ ابْنَۃُ عَمٍّ لَہُ یُقَالُ لَہَا خُوَیْلَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ فَظَاہَرَ مِنْہَا فَأُسْقِطَ فِی یَدِہِ وَقَالَ : مَا أُرَاکِ إِلاَّ قَدْ حَرُمْتِ عَلَیَّ قَالَتْ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ قَالَ : فَانْطَلِقِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَلِیہِ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ مَاشِطَۃً تَمْشُطُ رَأْسَہُ فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ : یَا خُوَیْلَۃُ مَا أُمِرْنَا فِی أَمْرِکِ بِشَیْئٍ۔ فَأُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا خُوَیْلَۃُ أَبْشِرِی ۔ قَالَتْ : خَیْرًا قَالَ : خَیْرٌ ۔ فَقَرَأَ عَلَیْہَا قَوْلَہُ تَعَالَی {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ} الآیَاتِ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٥) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دور جاہلیت میں مرد اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر ایسے ہی ہے جیسی میری والدہ تو اسلام میں یہ عورت مرد پر حرام ہوجاتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا ظہار اوس نے کیا، اس کے نکاح میں چچا کی بیٹی خویلہ بنت خویلد تھی۔ اوس نے ظہار کیا تو اس کے ہاتھ سے چیز بھی گرگئی اور اس نے کہا : میرے خیال میں تو میرے اوپر حرام ہوگئی ہے تو خولہ نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ راوی کہتے ہیں کہ اوس نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر سوال کرو، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بیوی گنگھی کر رہی تھیں۔ اس نے آپ کو بتایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : اے خولہ ! آپ کے معاملہ میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خولہ ! خوش ہوجا، کہتی ہیں بھلائی یا بہتر ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر اور پھر آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } [المجادلہ ١]
15252
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ یَقَعُ فِی الظِّہَارِ طَلاَقٌ یَعْنِی بِالظِّہَارِ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٦) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ظہار کی وجہ سے طلاق نہیں ہوتی۔
15253
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا بُکَیْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ : کَانَ الظِّہَارُ وَالإِیلاَئُ طَلاَقًا عَلَی عَہْدِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَوَقَّتَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی الإِیلاَئِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَجَعَلَ فِی الظِّہَارِ الْکَفَّارَۃَ۔ [حسن]
(١٥٢٤٧) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ ظہار اور ایلا دور جاہلیت میں طلاق ہوتے تھے تو اللہ رب العزت نے ایلا کی مدت چار مہینے مقرر فرما دی اور ظہار میں کفارہ۔
15254
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ أَخْبَرَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : لاَ ظِہَارَ مِنَ الأَمَۃِ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٨) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ لونڈی سے ظہار نہیں ہوتا۔
15255
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۴۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَیْسَ مِنَ الأَمَۃِ ظِہَارٌ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٩) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ لونڈی سے ظہار نہیں ہوتا۔
15256
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو جُزَیٍّ نَصْرُ بْنُ طَرِیفٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَنْ شَائَ بَاہَلْتُہُ أَنَّہُ لَیْسَ لِلأَمَۃِ ظِہَارٌ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٥٢٥٠) ابن ابی ملیکہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : جو چاہے میں اس سے مباہلہ کرلیتا ہوں کہ لونڈی سے ظہار نہیں ہوتا۔
15257
Sunan Al Bayhaqi(۱۵۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَیْسَ الظِّہَارُ وَالطَّلاَقُ قَبْلَ الْمِلْکِ بِشَیْئٍ ۔
وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الطَّلاَقِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ : لاَ طَلاَقَ قَبْلَ نِکَاحٍ وَالظِّہَارُ فِی مَعْنَاہُ۔ [حسن]
(١٥٢٥١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ظہار اور طلاق نکاح سے پہلے نہیں ہوتی۔
(ب) کتاب الطلاق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت علی اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور ظہار بھی اسی کے معنی میں ہے۔
(ب) کتاب الطلاق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت علی اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور ظہار بھی اسی کے معنی میں ہے۔