Sunan Al Bayhaqi
37. گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
سنن البيهقي
12055
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالنَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّہُ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَسْأَلُہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَشَأْنَکَ بِہَا ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ؟ قَالَ : لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الإِبِلِ؟ قَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ۔[بخاری ۲۳۷۲۔ مسلم ۱۷۲۲]
(١٢٠٥٠) حضرت زید بن خالد جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دو ورنہ وہ تیری ہی ہے، اس نے پوچھا : گم شدہ بکری کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ؟ اس کے ساتھ اس کی سیراب کرنے کی چیز اور اس کا گھر ہے، وہ پانی پہ جاسکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پالے گا۔
12056
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ: عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا ۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح]
(١٢٠٥١) حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دو ورنہ اسے اپنے خرچ میں شامل کرلو۔
12057
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ الذَّہَبِ وَ الْوَرِقِ فَقَالَ : اعْرِفْ وِکَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاسْتَنْفِقْہَا وَلْتَکُنْ وَدِیعَۃً عِنْدَکَ فَإِنْ جَائَ طَالِبُہَا یَوْمًا مِنَ الدَّہْرِ فَأَدِّہَا إِلَیْہِ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ۔ [صحیح]
(١٢٠٥٢) حضرت زید بن خالدجہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اسے اپنے خرچے میں شامل کرلو اور وہ تیرے پاس امانت ہوگی۔ اگر اس کا طالب کسی بھی وقت آجائے تو اسے دے دو ۔
12058
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّہُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الشَّاۃِ الضَّالَّۃِ فَقَالَ : لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ وَسُئِلَ عَنِ الْبَعِیرِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّ وَجْہُہُ فَقَالَ : مَعَہُ سِقَاؤُہُ وَحِذَاؤُہُ یَرِدُ الْمَائَ وَیَرْعَی الشَّجَرَ ۔ وَسُئِلَ عَنِ النَّفَقَۃِ فَقَالَ : تُعَرِّفُہَا حَوْلاً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا دَفَعْتَہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ عَرَفْتَ وِکَائَ ہَا أَوْ عِفَاصَہَا ثُمَّ أَفَضْتَہَا فِی مَالِکٍ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا دَفَعْتَہَا إِلَیْہِ ۔ [صحیح]
(١٢٠٥٣) حضرت زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ بکری کے بارے پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے اور اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سرخ ہوگیا اور غصے میں آگئے، آپ نے فرمایا : اس کے پاس اس کا سیراب کرنے کا سامان اور اس کا گھر ہے، وہ پانی پی سکتا ہے درختوں سے پتے کھا سکتا ہے اور خرچ کے بارے پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کا ایک سال تک اعلان کر۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو ۔ ورنہ اس کے بندھن اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو اور پھر اپنے مال میں شامل کرلو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دینا۔
12059
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ کُلْہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَارْدُدَہَا إِلَیْہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
(١٢٠٥٤) زید بن خالد جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک نہ آئے تو اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر کھالو اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے لوٹا دینا۔
12060
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفَلَۃَ یَقُولُ : کُنْتُ فِی غَزْوَۃٍ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُہُ فَقَالَ لِی زَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ : اطْرَحْہُ فَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا فَقَضَیْنَا غَزَاتَنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِینَۃِ فَلَقِیتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لِی : إِنِّی وَجَدْتُ صُرَّۃً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیہَا مِائَۃُ دِینَارٍ فَأَتَیْتُ بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لِی : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا حَوْلاً فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا فَعُدْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً آخَرَ ۔ فَعَرَّفْتُہَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَیْہِ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ : احْفَظْ عِدَّتَہَا وَوِعَائَ ہَا وَوِکَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ قَالَ سَلَمَۃُ : لاَ أَدْرِی أَقَالَ ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ عَرِّفْہَا أَوْ قَالَ حَوْلاً۔
لَفْظُ حَدِیثِ آدَمَ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ قَوْلُ سَلَمَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبَی إِیَاسٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [بخاری ۳۴۳۷۔ مسلم ۱۷۲۳]
(١٢٠٥٥) سلمۃ بن کہیل کہ فرماتے ہیں : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا۔ میں نے اسے پکڑ لیا، مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے کہا : اسے پھینک دو ۔ میں نے انکار کردیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا۔ پھر میں نے حج کیا، اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب ملے۔ میں نے یہقصہ ذکر کیا تو انھوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سود ینار کی تھیلی ملی۔ میں وہ لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ نے مجھے کہا : ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا۔ لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ میں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے کہا : ایک سال اس کا اعلان کرو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے کہا : ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ چوتھی دفعہ آپ نے کہا : ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھالو۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ آپ نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔
12061
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۶) وَرَوَاہُ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ فِی آخِرِہِ : فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَہِیَ کَسَبِیلِ مَالِکَ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ دُونَ قَوْلِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ فَقَالَ : انْتَفِعْ بِہَا ۔ وَرَوَاہُ زَیْدُ بْنُ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ فَقَالَ : ثُمَّ اقْضِ بِہَا حَاجَتَکَ ۔ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ فَقَالَ : وَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ وَکُلُّ ذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی مَعْنًی وَاحِدٍ۔
(١٢٠٥٦) سلمہ بن کہیل نے آخر میں کہا : اگر اس کا مالک آجائے تو دے دینا ورنہ وہ (تیرے پاس) مالک کی طرح ہی ہے۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں : ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ، یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر اور یہ بھی کہ اس سے فائدہ اٹھا، سب کے ایک ہی معنیٰ ہیں۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں : ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ، یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر اور یہ بھی کہ اس سے فائدہ اٹھا، سب کے ایک ہی معنیٰ ہیں۔
12062
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّائَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَۃً فَلْیُشْہِدْ ذَوَیْ عَدْلٍ أَوْ ذَا عَدْلٍ وَلاَ یَکْتُمْ وَلاَ یُغَیِّبْ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا وَإِلاَّ فَہُوَ مَالُ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ ۔ [صحیح۔ الطیالسی ۱۱۱۷۷]
(١٢٠٥٧) حضرت عیاض بن جمارمجاشعی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے کوئی گری پڑی چیز ملے وہ عدل والے دو شخص یا ایک گواہ بنا لے اور نہ اسے چھپائے اور نہ غائب کرے۔ اگر اس کا مالک آجائے تو وہ اس کا حق دار ہے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
12063
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : مَا کَانَ مِنْہَا فِی طَرِیقِ الْمِیتَائِ وَالْقَرِیَۃِ الْجَامِعَۃِ فَعَرِّفُوہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِنْ لَمْ یَأْتِ فَہِیَ لَکَ وَمَا کَانَ فِی الْخَرَابِ فَفِیہَا وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔
[حسن۔ اخرجہ السجستائی ۱۷۱۰]
(١٢٠٥٨) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بنجرزمین یا پھیلی ہوئی بستی سے ملے، اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دو اگر نہ آئے تو وہ تیرے لیے ہے۔
12064
Sunan Al Bayhaqi(۱۲۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنِی سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَجَدَ عَیْبَۃً فَأَتَی بِہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاکَ وَإِلاَّ فَہِیَ لَکَ فَلَمْ تُعْرَفْ فَلَقِیَہُ بِہَا الْقَابِلَ فِی الْمَوْسِمِ فَذَکَرَہَا لَہُ فَقَالَ عُمَرُ : ہِیَ لَکَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنَا بِذَلِکَ قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہَا فَقَبَضَہَا عُمَرُ فَجَعَلَہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْہَا عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَتِ اسْتَمْتِعِی بِہَا۔
[حسن۔ الدارمی ۲۵۹۹۔ النسائی فی الکبریٰ ۵۷۸۷]
(١٢٠٥٩) حضرت سفیان بن عبداللہ کو ایک ٹوکری ملی، وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے کر آئے۔ عمر (رض) نے کہا : وہ تیری ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا : مجھے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) سے گری پڑی چیز کے بارے میں ایک عورت نے سوال کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تو اس سے فائدہ اٹھا۔