Musnad Imam Ahmad
10. حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کی مرویات
مسند احمد
1567
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبْ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے چچاؤں کے ساتھ جبکہ ابھی میں نوعمر تھا حلف المطیبیب جسے حلف الفضول بھی کہا جاتا ہے میں شریک ہوا تھا، مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑ ڈالوں اگرچہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیئے جائیں، امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام نے جو بھی معاہدہ کیا اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے اور اسلام اس کا قائل نہیں ہے، البتہ نبی ﷺ نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرما دی تھی۔
1568
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَهُ عُمَرُ يَا غُلَامُ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ قَالَ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ فِيمَ أَنْتُمَا فَقَالَ عُمَرُ سَأَلْتُ هَذَا الْغُلَامَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ وَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يَسْجُدْ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجْدَتَيْنِ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے ان سے پوچھا کہ اے لڑکے ! کیا تم نے نبی صلی اللہ سے یا کسی صحابی سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟ ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ سامنے سے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) آتے ہوئے دکھائی دیئے، انہوں نے پوچھا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں اس لڑکے سے یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا تم نے نبی ﷺ سے یا کسی صحابی سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟ حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو ؟ تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ایک شمار کرے، اگر دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو سمجھے، تین اور چار میں شک ہو تو انہیں تین شمار کرے، اس کے بعد نماز سے فراغت پا کر سلام پھیر نے سے قبل سہو کے دو سجدے کرلے۔
1569
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ بَجَالَةَ يَقُولُ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ أَنْ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ وَسَاحِرَةٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَانْهَوْهُمْ عَنْ الزَّمْزَمَةِ فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ حَرِيمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَصَنَعَ جَزْءٌ طَعَامًا كَثِيرًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ وَأَكَلُوا مِنْ غَيْرِ زَمْزَمَةٍ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ و قَالَ أَبِي قَالَ سُفْيَانُ حَجَّ بَجَالَةُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَةَ سَبْعِينَ
بجالہ کہتے ہیں کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا ان کی وفات سے ایک سال پہلے خط آیا، جس میں لکھا تھا کہ ہر جادوگر کو قتل کردو، مجوس میں جن لوگوں نے اپنے محرم رشتہ داروں سے شادیاں کر رکھی ہیں، ان میں تفریق کرا دو اور انہیں زمزمہ (کھانا کھاتے وقت مجوسی ہلکی آواز سے کچھ پڑھتے تھے) سے روک دو ، چناچہ ہم نے تین جادوگر قتل کیئے اور کتاب اللہ کی روشنی میں مرد اور اس کی محرم بیوی کے درمیان تفریق کا عمل شروع کیا۔ پھر جزء نے ایک مرتبہ بڑی مقدار میں کھانا تیار کروایا، اپنی ران پر تلوار رکھی اور مجوسیوں کو کھانے کے لئے بلایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے برابر وزن کی چاندی لاکر ڈھیر کردی اور بغیر زمزمے کے کھانا کھالیا، نیز پہلے حضرت عمر (رض) مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے لیکن جب حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی ﷺ نے ہجر نامی علاقے کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا تو انہوں نے بھی مجوسیوں سے جزیہ لینا شروع کردیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ بجالہ نے مصعب کے ساتھ ٧٠ ھ میں حج کیا تھا۔
1570
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَقَالَ مَرَّةً الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم (رض) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد (رض) سے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
1571
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَصَلَتْكَ رَحِمٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنْ اسْمِي فَمَنْ يَصِلْهَا أَصِلْهُ وَمَنْ يَقْطَعْهَا أَقْطَعْهُ فَأَبُتَّهُ أَوْ قَالَ مَنْ يَبُتَّهَا أَبُتَّهُ
عبداللہ بن قارظ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کی عیادت کے لئے ان کے یہاں گئے، وہ بیمار ہوگئے تھے، حضرت عبدالرحمن (رض) نے ان سے فرمایا کہ تمہیں قرابت داری نے جوڑا ہے، نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں رحمان ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور اسے اپنے نام سے نکالا ہے، جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا، میں اسے توڑ کر پاش پاش کر دوں گا۔
1572
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ حَدِّثْنِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِيَامَهُ فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ الذُّنُوبِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) ہوئی، میں نے ان سے کہا کہ اپنے والد صاحب کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے جو انہوں نے نبی ﷺ سے خود سنی ہو اور وہ بھی ماہ رمضان کے بارے میں، انہوں نے کہا اچھا، میرے والد صاحب نے نبی ﷺ کی یہ حدیث سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں نے اس کا قیام سنت قرار دیا ہے، جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور تراویح ادا کرے، وہ گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے وہ بچہ جسے اس کی ماں نے آج ہی جنم دیا ہو۔
1573
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ ابْنَ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہو، اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو، داخل ہوجاؤ۔
1574
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خِفْتُ أَوْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ تَوَفَّاهُ أَوْ قَبَضَهُ قَالَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي أَلَا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنْ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ باہر نکلے، میں بھی پیچھے پیچھے چلا، نبی ﷺ ایک باغ میں داخل ہوگئے، وہاں آپ ﷺ نے نماز شروع کردی اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہوگئی۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ ﷺ نے سر اٹھا کر فرمایا عبدالرحمن ! کیا ہوا ؟ میں نے اپنا اندیشہ ذکر کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا جبرئیل نے مجھ سے کہا ہے کہ کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا، میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا اور جو شخص آپ پر سلام پڑھے گا میں اس پر سلام پڑھوں گا یعنی اسے سلامتی دوں گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
1575
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَجَّهَ نَحْوَ صَدَقَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَجَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ باہر نکلے، (میں بھی پیچھے پیچھے چلا) نبی ﷺ ایک باغ میں داخل ہوگئے، وہاں آپ ﷺ نے نماز شروع کردی اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہوگئی۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ ﷺ نے سر اٹھا کر فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا عبدالرحمن ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا عبدالرحمن ! کیا ہوا ؟ میں نے اپنا اندیشہ ذکر کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا، میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا اور جو شخص آپ پر سلام پڑھے گا میں اس پر سلام پڑھوں گا یعنی اسے سلامتی دوں گا اس پر میں نے بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کیا ہے۔
1576
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ يَعْنِي عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے، نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے، اتنی دیر میں نماز کا وقت ہوگیا، لوگوں نے نماز کھڑی کردی اور حضرت عبدالرحمن نے آگے بڑھ کر امات فرمائی، پیچھے سے نبی ﷺ بھی آگئے اور آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ان کی اقتداء میں ایک رکعت ادا کی اور سلام پھیر کر فرمایا تم نے اچھا کیا۔