hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

9. حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل (رض) کی مرویات

مسند احمد

1539
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی بھی " من " سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔
1540
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی بھی " من " سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔
1541
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنْ السَّلْوَى وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی بھی " من " سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔
1542
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ هَذَا حَفِظْنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے اور جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔
1543
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ فَقَالَ مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ قَالَ يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ أَنَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ قَالَ فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ التَّاسِعُ قَالَ نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا قَالَ وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَام
ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے دائیں بائیں اہل کوفہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں حضرت سعید بن زید (رض) آگئے، حضرت مغیرہ (رض) نے انہیں خوش آمدید کہا اور چارپائی کی پائنتی کے پاس انہیں بٹھا لیا، کچھ دیر کے بعد ایک کوفی حضرت مغیرہ (رض) کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور کسی کو گالیاں دینے لگا، انہوں نے پوچھا مغیرہ ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ انہوں نے کہا حضرت علی (رض) کو، انہوں نے تین مرتبہ حضرت مغیرہ (رض) کو ان کا نام لے کر پکارا اور فرمایا آپ کی موجودگی میں نبی ﷺ کے صحابہ کو برا بھلا کہا جارہا ہے اور آپ لوگوں کو منع نہیں کر رہے اور نہ اپنی مجلس کو تبدیل کر رہے ہیں ؟ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ میرے کانوں نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے اور میں ان سے کوئی جھوٹی بات روایت نہیں کرتا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ابوبکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک (رض) اور ایک نواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہتا تو بتاسکتا ہوں۔ اہل مسجد نے بآواز بلند انہیں قسم دے کر پوچھا کہ اے صحابی رسول ! وہ نواں آدمی کون ہے ؟ فرمایا تم مجھے اللہ کی قسم دے رہے ہو، اللہ کا نام بہت بڑا ہے، وہ نواں آدمی میں ہی ہوں اور دسویں خود نبی ﷺ تھے، اس کے بعد وہ دائیں طرف چلے گئے اور فرمایا کہ بخدا ! وہ ایک غزوہ جس میں کوئی شخص نبی ﷺ کے ساتھ شریک ہوا اور اس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا، وہ تمہارے ہر عمل سے افضل ہے اگرچہ تمہیں عمر نوح ہی مل جائے۔
1544
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ وَمَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً قَالَ مَنْصُورٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ مَرَّةً حُصَيْنٌ عَنِ ابْنِ ظَالِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْكُنْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ قَالَ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے جبل حراء سے مخاطب ہو کر فرمایا اے حراء ٹھہر جا، کہ تجھ پر کسی نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں، اس وقت جبل حراء پر نبی ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق، عمر، عثمان، علی طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید (رض) تھے۔
1545
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ خَطَبَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الْعَاشِرَ
ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص حضرت علی (رض) کو برا بھلا کہنے لگا، جس پر حضرت سعید بن زید (رض) کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ جنت میں ہوں گے، ابوبکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک اور ایک دسواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہوں تو بتاسکتا ہوں۔
1546
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی بھی " من " سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔
1547
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے اور جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔
1548
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَمْأَةٌ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہا کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو دست مبارک میں کھنبی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا چیز ہے ؟ یہ کھنبی ہے کھنبی بھی " من " سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔