hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

846. حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات

مسند احمد

20707
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهُنَّ النَّجْمُ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں جن میں سورت نجم کی آیت سجدہ بھی شامل ہے۔
20708
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ اپنے اور اپنے باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔
20709
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ قَالَ و حَدَّثَنَاه أَبُو الْيَمَانِ لَمْ يَرْفَعْهُ وَرَفَعَهُ الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا کردیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
20710
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کی سمجھداری کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات میں میانہ روی سے چلے۔
20711
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔
20712
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتٍ أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ يَعْنِي الظَّالِمَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ قَالَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء (رض) نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کریم کی اس آیت " فمن ہم ظالم لنفسہ " کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا " ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ " یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔
20713
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ شدید گرمی کے سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔
20714
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِعْطَاءِ السُّلْطَانِ قَالَ مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ تَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ تَشَرَّفْ لَهَا
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ بادشاہ کی عطاء و بخشش لینے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بن مانگے اور بن خواہش اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطاء فرما دے اسے لے لیا کرو اور اس سے تم مول حاصل کیا کرو ؟
20715
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا فَقَالَتْ مَا لَكَ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا
حضرت ام درداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء (رض) ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا ! میں لوگوں میں نبی کریم ﷺ کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
20716
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو قے آگئی جس سے نبی کریم ﷺ نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان (رض) سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔