Musnad Imam Ahmad
853. حضرت ابوواقدلیثی (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
20895
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ بِقَافْ وَ اقْتَرَبَتْ
عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نماز عید میں کہاں سے تلاوت فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا سورت ق اور سورت قمر سے۔
20896
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيِّ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ قَالَ فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ إِنَّهَا لَسُنَنٌ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً
حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو ! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔
20897
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ الْمَيْتَةِ قَالَ إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا وَلَمْ تَغْتَبِقُوا وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا
حضرت ابو واقد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔
20898
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نافع بن سرجس (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد (رض) کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ ﷺ
20899
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ خَرَجَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ حُنَيْنٍ فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ وَكَانَ الْكُفَّارُ يَنُوطُونَ بِسِلَاحِهِمْ بِسِدْرَةٍ وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ
حضرت ابو واقدلیثی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو ! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔
20900
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَتَى تَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ قَالَ إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا وَلَمْ تَغْتَبِقُوا وَلَمْ تَحْتَفِئُوا فَشَأْنُكُمْ بِهَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَمَعْمَرٌ أَتَمُّ حَدِيثًا
حضرت ابو واقد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ حدیث نمبر (٢٢٢٤٢) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
20901
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنْ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ
حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹا جائے وہ مردار ہوتا ہے۔
20902
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنْ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ
حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹاجائے وہ مردار ہوتا ہے۔
20903
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ وَاقِدٍ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ
حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔
20904
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
حضرت ابو واقد لیثی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ ہم سے وہ آیت بیان فرما دیتے، چانچہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے مال اس لئے اتارا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر ابن آدم کے پاس سونے چاندی کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ ایک اور کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کرلیتا ہے اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے۔